Skip to content

ارتھ ڈے، زمین اور انسان کے تعلق کا مقدمہ

شیئر

شیئر

تحریر: شیرافضل گوجر

ہر سال جب "ارتھ ڈے” آتا ہے تو ہم درخت لگانے، سرکاری ادارے ریلیاں نکالتے ہیں ،رپورٹس اور بجٹ بناتے ہیں ،پلاسٹک کم کرنے اور ماحول بچانے کے خوش کن نعروں کے ساتھ اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا زمین صرف ایک دن کی توجہ سے بچ سکتی ہے؟ یا مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا، زیادہ فلسفیانہ،زیادہ سماجی اور اخلاقی نوعیت کا ہے؟

پاکستان کے تناظر میں "ارتھ ڈے” محض ایک ماحولیاتی دن نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے،جس میں ہم اپنی اجتماعی ترجیحات، ریاستی پالیسیوں ،بیورو کریسی کے کرتوتوں اور معاشرتی رویوں کو دیکھ سکتے ہیں۔

ہم ایک ایسے خطے میں رہتے ہیں جہاں دریا اور چشمے خشک ہو رہے ہیں، جنگلات سکڑ رہے ہیں، شہر پھیل رہے ہیں اور موسم بے ترتیب ہو چکے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود، ہم نے ترقی کا جو تصور اپنایا ہے، وہ زمین کے ساتھ زندگی کا رشتہ نہیں بلکہ ایک جبر اور استحصال کا تعلق ہے۔ ہم زمین سے بہت کچھ نوچ رہے ہیں، مگر بدلے میں اسے کچھ لوٹاتے نہیں رہے۔

یہاں مسئلہ محض ماحولیاتی نہیں، بلکہ اخلاقی بھی ہے۔

زمین کے ساتھ ہمارا رشتہ کیا ہے؟
کیا ہم اس کے مالک ہیں یا محض عارضی مکین؟

پاکستانی سماج میں ایک عجیب تضاد پایا جاتا ہے۔ ایک طرف ہم مذہبی اور ثقافتی حوالوں سے زمین کو "امانت” سمجھتے ہیں،ثقافتی اور ادبی تحریروں میں اسے "مائی زمین” کہتے ہیں اور دوسری طرف عملی طور پر اس کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جیسے یہ ایک لامحدود وسائل کا ذخیرہ ہو، جسے بغیر کسی حساب کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ تضاد دراصل ہمارے فکری بحران کی علامت ہے۔

ہم نے ترقی کو صرف انفراسٹرکچر، سڑکوں اور عمارتوں تک محدود کر دیا ہے۔ مگر کیا ترقی وہی ہے جو زمین کو تباہ کر کے حاصل کی جائے؟ کیا وہ خوشحالی جو فضائی آلودگی، پانی کی قلت اور موسمی تبدیلیوں کی قیمت پر آئے، واقعی خوشحالی کہلانے کی مستحق ہے؟

ارتھ ڈے ہمیں یہی سوال پوچھنے پر مجبور کرتا ہے۔

پاکستان جیسے ممالک کے لیے ماحولیاتی مسئلہ صرف ایک "گرین ایجنڈا” نہیں بلکہ سماج کی بقا کا سوال ہے۔ گلیشیئرز کا پگھلنا، سیلابوں کی شدت، اور گرمی کی لہریں ،یہ سب ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ زمین کے ساتھ ہمارا تعلق اب ایک رومانوی تصور نہیں بلکہ ایک عملی چیلنج بن چکا ہے۔

مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس چیلنج کو سمجھنے کے لیے تیار ہیں؟

ہماری ریاستی پالیسیاں اکثر قلیل مدتی اور بیورو کریسی کے مفادات کے گرد گھومتی ہیں۔ درخت لگانے کی مہمات وقتی توجہ حاصل کرتی ہیں، مگر جنگلات کے تحفظ کے لیے موجود میکنزم کمزور اور کرپشن زدہ ہے،اس حوالے سے مستقل مزاجی نظر نہیں آتی۔ صنعتی ترقی کو ترجیح دی جاتی ہے، مگر اس کے ماحولیاتی اثرات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

یہ صرف پالیسی کا مسئلہ نہیں، بلکہ سوچ کا مسئلہ ہے۔

ہم نے زمین کو ایک "وسیلہ” بنا دیا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ ایک "رشتہ” ہے۔ ایک ایسا رشتہ جس میں توازن، احترام اور ذمہ داری ضروری ہے۔

عقلی طور پر دیکھا جائے تو انسان اور زمین کا تعلق ایک اخلاقی معاہدہ ہے۔ ایک ایسا معاہدہ جس میں انسان کو آزادی تو دی گئی ہے، مگر اس کے ساتھ ذمہ داری بھی عائد کی گئی ہے۔ جب یہ توازن بگڑتا ہے، تو نتیجہ ماحولیاتی بحران کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

پاکستان میں یہ بحران صرف قدرتی نہیں، بلکہ سماجی بھی ہے۔

دیہات میں پانی کی کمی، شہروں میں آلودگی اور پہاڑی علاقوں میں جنگلات کی کٹائی یہ سب ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ ماحولیاتی انصاف بھی ایک حقیقت ہے۔ جو لوگ سب سے کم وسائل استعمال کرتے ہیں، وہی سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔یہ ایک اخلاقی سوال ہے،
کیا ترقی کا بوجھ ہمیشہ کمزور طبقوں کو ہی اٹھانا ہوگا؟

ارتھ ڈے ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ زمین کے ساتھ تعلق صرف پالیسیوں سے نہیں بلکہ رویوں سے بدلتا ہے۔ جب تک فرد کی سطح پر شعور پیدا نہیں ہوگا، تب تک کوئی بھی ریاستی اقدام مکمل نہیں ہو سکتا۔

مگر شعور کیسے پیدا ہوگا؟

شعور صرف معلومات سے نہیں آتا، بلکہ احساس سے آتا ہے۔ جب انسان زمین کو صرف ایک "جگہ” نہیں بلکہ ایک "وجود” سمجھنے لگے، تب ہی وہ اس کے ساتھ انصاف کر سکتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں اس شعور کی کمی نہیں، مگر اس کی سمت درست نہیں۔ ہم مذہبی اور ثقافتی حوالوں سے زمین کی اہمیت کو مانتے ہیں، مگر اسے عملی زندگی میں شامل اور قبول نہیں کرتے۔

یہی وہ خلا ہے جسے پر کرنے کی ضرورت ہے۔

ارتھ ڈے ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے آپ سے یہ سوال کریں:
ہم زمین کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟
اور اس سے بھی اہم، ہم کیا بن رہے ہیں؟

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں