تحریر : راشد خان سواتی
قومی اور عالمی سطح پر نعتِ رسولِ مقبول ﷺ اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرنے والی عظیم شخصیت، ختمِ نبوت کے داعی، اہل بیت سے محبت کرنے والے ،میرے محترم مینٹور، لاکھوں دلوں کی دھڑکن، اسٹیج کے بے تاج بادشاہ، الفاظ و تلفظ کے حسین امتزاج اور رعب دار شخصیت کے مالک، معروف وکیل چیئرمین پاکستان نعت کونسل انٹرنیشنل حضرت عبد القیوم ترازی صاحب ہم سے بچھڑ گئے۔ ان کی رحلت نہ صرف اہلِ نعت بلکہ پوری قوم کے لیے ایک عظیم نقصان ہے۔
عبد القیوم ترازی صاحب نے اپنی پوری زندگی نوجوان نسل کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ، ادبِ مصطفیٰ ﷺ اور محبتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اجاگر کرنے کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کی محافلِ نعت عشق و ادب کا حسین امتزاج ہوتیں، جہاں ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کی فضا ایسی روح پرور ہوتی کہ بڑے سے بڑا منصب دار بھی سراپا ادب بن جاتا۔ کسی کو مجال نہ ہوتی کہ محفل کے دوران بے ادبی کرے، نشست چھوڑے یا آدابِ محفل کے خلاف کوئی حرکت کرے۔ نعت خوانی کے دوران غیر متعلقہ بات یا نام لینا بھی وہ بے ادبی سمجھتے تھے۔ یہ ان کے عشقِ رسول ﷺ کی وہ کیفیت تھی جو سامعین کے دلوں میں ادب اور محبت کے چراغ روشن کر دیتی تھی۔
خاص طور پر مانسہرہ، ہزارہ اور بفہ کے علاقوں سے انہیں گہرا قلبی تعلق تھا۔ بابا غلام غوث ہزاروی سے محبت کی نسبت نے اس تعلق کو مزید مضبوط کیا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول نمبر 1 مانسہرہ، گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول بفہ، اور گورنمنٹ سینٹینیل ماڈل سکول میں محافلِ نعت منعقد کرتے اور ہزارہ کے نوجوان نعت خواں حضرات کو قومی سطح پر متعارف کرواتے۔ ان کی سرپرستی سے بے شمار نوجوانوں نے نعت گوئی کے میدان میں پہچان حاصل کی اور عشقِ رسول ﷺ کا پیغام دور دور تک پہنچایا۔
عبد القیوم ترازی صاحب جیسی شخصیات کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں۔ انہوں نے نہ صرف ہماری نظریاتی اساس، ختمِ نبوت اور ادبِ رسول ﷺ کے تحفظ کے لیے خدمات انجام دیں بلکہ ملک کے جغرافیائی محافظوں یعنی افواجِ پاکستان کے لیے بھی نوجوانوں کے دلوں میں محبت اور جذبہ بیدار کیا۔ ان کی محافل میں عشقِ رسول ﷺ کے ساتھ ساتھ وطن سے محبت کا جذبہ بھی موجزن رہتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان کے گوشے گوشے میں ان کی آواز پر نعت گوئی، ختمِ نبوت اور حب الوطنی کے نعرے گونجتے تھے۔
واقعی:
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم، اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم
ایسی نابغۂ روزگار شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ عبد القیوم ترازی صاحب آج اگرچہ ہم میں موجود نہیں، لیکن ان کا پیغام، ان کی محافل کی خوشبو، ان کا عشقِ رسول ﷺ اور نوجوان نسل کی تربیت کا وہ عظیم مشن ہمیشہ زندہ رہے گا۔
ترازی صاحب! اللہ حافظ۔
آپ دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر عشقِ رسول ﷺ کی جو شمع آپ نے روشن کی، وہ ہمیشہ فروزاں رہے گی۔ ہمیں یقین ہے کہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ، محبتِ اہلِ بیت اور خدمتِ دین کے صدقے اللہ تعالیٰ آپ کو اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا۔
اللہ تعالیٰ حضرت عبد القیوم ترازی صاحب کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین

