تحریر : عامر ہزاروی
کسی معاشرے کا تجزیہ کرنا ہو تو یہ ضرور دیکھیں کہ وہ اپنے کمزوروں کیساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے ؟
لقمان شیر گل مسیحی برادری سے تعلق رکھتے ہیں ، مانسہرہ میں ان کی رہائش ہے ، مدتوں پہلے انہوں نے ہمارے پلیٹ فارم سے آواز اٹھائی کہ ہمارے لیے قبرستان نہیں ہے ، جب کوئی مسیحی شخص فوت ہو جائے تو ہمیں اسے پنجاب لیکر جانا پڑتا ہے ،
بات آئی اور گئی ، میڈیا کی سکرولنگ میں وہ ویڈیو بھی دب گئی ، کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ کمزوروں کو یاد رکھے ؟ ان دنوں ہمارے ساتھ انٹرنیز سٹوریاں بنا رہے ہیں تو ایک نوجوان سے کہا آپ مسیحی برادری پر سٹوری بنائین ، ان کا ڈیٹا اکھٹا کریں کہ مانسہرہ میں مسیحی برادری کے لوگ کتنی تعداد میں رہتے ہیں ؟ ان کے مسائل کیا ہے ؟
آج ان کا انٹرویو لیا ، دوران انٹرویو عجیب طرح کی کیفیت رہی ،
جب لقمان شیر گل سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ مانسہرہ میں ہمارے پچیس گھرانے ہیں ، ان پچیس میں سے صرف میرے پاس گھر ہے ، دو فیملیاں مشنری جگہ میں رہتے ہیں اور بائیس خاندان کرائے کے گھروں میں رہتے ہیں ، جی ہاں کرائے کے گھروں میں ، غربت کا یہ عالم دیکھا نہ جائے !
قبرستان کے حوالے سے جب سوال کیا تو انکی آنکھوں میں نمی اتر آئی اور کہا آپ نے ہماری دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے ، انہوں نے کہا میں بوڑھا ہو رہا ہوں ، مجھے اپنے مرنے کی بھی فکر ہے ، خدا جانے ہماری قبر کہاں بنے گی ؟
ہمارے پُرکھوں نے ہمارے لیے وراثت میں جائیداد نہیں چھوڑی ،
نہ گھر اپنا نہ قبر اپنی ، انہوں نے کہا ہمارے قبرستان کے لیے مشرف دور میں فنڈ منظور ہوا لیکن ہمیں آج تک نہیں ملا ، ان دفاتر کے چکر لگا لگا کے تھک گیا ،
ان کا کہنا تھا موت خود پریشانی ہے ، پھر قبر کا نہ ہونا ، میت کو اٹھا کر دوسرے صوبے لے جانا دوسری پریشانی ہے ، ہمیں اپنے پیاروں کو دفنانے کے لیے دو گز زمین چاہیے ـ اس مٹی پر ہمارا بھی حق ہے ، زندگی کرایہ دیکر گزارتے ہیں قبر اپنی ہونی چاہیے ـ
کیا بے بسی ہے ؟
لاکھوں کروڑوں کے گھروں میں رہنے والے ، سیکنڑوں رقبوں کے مالک کیا جانیں کہ زمین کا مالک نہ ہونے کا کتنا دکھ ہوتا ہے ؟ یہ میرے ملک کے کمزور لوگ ہیں ، ان کمزوروں کے ساتھ رویہ دیکھ کر فیصلہ کریں کہ ہم کیسے ہیں ؟
