Skip to content

یکم نومبر 1947ء: گلگت بلتستان کا یومِ آزادی، ڈوگرہ راج کے خاتمے سے الحاقِ پاکستان تک

شیئر

شیئر

تحریر : راشد خان سواتی

کچھ خطے صرف نقشے پر موجود زمین کے ٹکڑے نہیں ہوتے، وہ قوموں کے دلوں میں دھڑکتے ہیں۔ کچھ وادیاں محض قدرتی حسن کا شاہکار نہیں ہوتیں، وہ تاریخ، تہذیب، قربانی اور وفا کی داستانیں اپنے دامن میں سمیٹے ہوتی ہیں۔ گلگت بلتستان بھی ایسی ہی ایک سرزمین ہے؛ جہاں فلک بوس پہاڑ آسمان سے باتیں کرتے ہیں، نیلگوں جھیلیں قدرت کے حسن کا عکس پیش کرتی ہیں، سرسبز کھیت اور لہلہاتے کھلیان زندگی کی نوید سناتے ہیں اور برف پوش چوٹیاں آزادی، استقامت اور بلند ہمتی کی علامت بن کر کھڑی ہیں۔

یہ وہ سرزمین ہے جس کی فضاؤں میں آزادی کی خوشبو ہے، جس کے دریاؤں میں زندگی رواں دواں ہے اور جس کے باسیوں کے دلوں میں پاکستان کی محبت سمندر کی طرح موجزن ہے۔

گلگت بلتستان کی آزادی صرف ایک خطے کی آزادی نہیں، بلکہ عزم، قربانی، غیرت اور اپنی تقدیر خود لکھنے کے حوصلے کی ایک عظیم داستان ہے۔

ڈوگرہ راج کے خاتمے اور یکم نومبر 1947ء کی تاریخی جدوجہدِ آزادی نے اس خطے کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔ بعد ازاں پاکستان سے الحاق نے اس تعلق کو مزید مضبوط کیا۔ یہ تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آزادی کا راستہ قربانیوں سے ہو کر گزرتا ہے اور قومی شناخت کی حفاظت کے لیے زندہ قوموں کو ہمیشہ بیدار رہنا پڑتا ہے۔

لیکن گلگت بلتستان کی اصل عظمت صرف اس کی تاریخ یا جغرافیے میں نہیں، بلکہ اس کے لوگوں کے کردار میں پوشیدہ ہے۔

یہاں کئی زبانیں بولی جاتی ہیں، مختلف ثقافتی روایات زندہ ہیں اور مختلف مسالک کے لوگ آباد ہیں۔ ہر ایک کی اپنی پہچان، اپنا لباس، اپنی زبان، اپنی روایات اور اپنی مذہبی وابستگی ہے، لیکن ان تمام رنگوں کے درمیان ایک خوب صورت قدر مشترک ہے: باہمی احترام، برداشت اور اپنے وطن سے محبت۔

یہاں انسان اپنے دین سے محبت کرتا ہے، اپنے مسلک پر قائم رہتا ہے، اپنی ثقافت پر فخر کرتا ہے، لیکن دوسروں کے عقائد اور مذہبی جذبات کا احترام بھی کرتا ہے۔

اپنی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے دوسروں کی شناخت کا احترام کرنا ہی مہذب معاشرے کی اصل پہچان ہے۔

گلگت بلتستان ہمیں سکھاتا ہے کہ اختلاف دشمنی کا نام نہیں، تنوع کمزوری نہیں اور اپنی ثقافت سے محبت کسی دوسری ثقافت سے نفرت کا تقاضا نہیں کرتی۔ یہی وہ پیغام ہے جس کی آج ہمارے معاشرے کو پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

پھر ان پہاڑوں کی طرف دیکھیے!

نانگا پربت کی سربفلک عظمت، دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی K2 کی ہیبت ناک بلندی اور ان پہاڑوں کے دامن میں بسنے والے لوگوں کے بلند حوصلے، سب مل کر ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جس پر ہر پاکستانی فخر کر سکتا ہے۔

اور جب وطن کی حفاظت کا ذکر آتا ہے تو گلگت بلتستان کے سپوتوں کی قربانیاں، ان کی جرأت اور سرزمینِ پاکستان سے ان کی وفا قومی تاریخ کا روشن حصہ بن جاتی ہیں۔ کارگل کے محاذ سے لے کر دفاعِ وطن کے دیگر میدانوں تک، ان کی قربانیوں کو عقیدت اور احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔

یہاں کی برف پوش چوٹیوں سے لے کر کھیل کے میدانوں تک، گلگت بلتستان کا اپنا ایک منفرد رنگ ہے۔

پولو کے میدان میں گھوڑوں کی ٹاپیں، روایتی تہواروں کی رونقیں، رنگا رنگ لباس، علاقائی موسیقی، مہمان نوازی اور چہروں پر بکھری مسکراہٹیں اس خطے کی ثقافتی زندگی کا حسن ہیں۔ یہ وہ رنگ ہیں جنہیں وقت کی گرد بھی ماند نہیں کر سکی۔

تعلیم کے میدان میں اس خطے کی پیش رفت اور علم حاصل کرنے کا بڑھتا ہوا جذبہ بھی قابلِ تحسین ہے۔ شرحِ خواندگی کو مزید بلند کرنا، ہر بچے تک معیاری تعلیم پہنچانا اور جدید علوم کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانا وہ اہداف ہیں جو گلگت بلتستان کو ترقی کی نئی منزلوں تک لے جا سکتے ہیں۔

جو قوم اپنی تہذیب کو محفوظ رکھتی ہے اور علم کو اپنا مستقبل بناتی ہے، وہ دنیا میں اپنی الگ پہچان قائم کرتی ہے۔

گلگت بلتستان کی سب سے خوب صورت بات یہ ہے کہ اس نے اپنے ثقافتی رنگوں کو محفوظ رکھتے ہوئے پاکستان کے قومی رنگوں کو بھی اپنے دل میں جگہ دی۔

اس نے اپنی زبانیں نہیں بھلائیں، اپنی روایات نہیں چھوڑیں، اپنے لباس اور تہواروں سے رشتہ نہیں توڑا، لیکن جب پاکستان کی بات آئی تو اس کی محبت نے تمام رنگوں کو ایک پرچم تلے جمع کر دیا۔

یہی تو پاکستان کی اصل خوب صورتی ہے!

پاکستان کسی ایک زبان، کسی ایک لباس، کسی ایک علاقے یا کسی ایک ثقافتی روایت کا نام نہیں۔ پاکستان ان تمام رنگوں کے مجموعے کا نام ہے جو اپنی انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے ایک مشترکہ قومی شناخت تشکیل دیتے ہیں۔

سندھ کی اجرک، پنجاب کی پگڑی، خیبر پختونخوا کی روایات، بلوچستان کی ثقافت ,کشمیراور گلگت بلتستان کے رنگ، سب مل کر پاکستان کی تہذیبی تصویر مکمل کرتے ہیں۔

ہماری ثقافتیں مختلف ہو سکتی ہیں، ہماری زبانیں مختلف ہو سکتی ہیں، ہمارے رسم و رواج مختلف ہو سکتے ہیں، مگر ہمارا وطن ایک ہے، ہمارا پرچم ایک ہے اور ہماری قومی پہچان پاکستان ہے۔

گلگت بلتستان کی آزادی کا دن ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ قومی یکجہتی کا مطلب اپنی علاقائی شناخت کو مٹا دینا نہیں، بلکہ اس شناخت کو قومی وحدت کا حسن بنا دینا ہے۔

یہ دن ہمیں اپنے شہداء، اپنے بزرگوں اور ان تمام لوگوں کی قربانیوں کو یاد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جنہوں نے آزادی اور اپنے مستقبل کے لیے جدوجہد کی۔ یہ دن ہمیں یہ سوچنے کی دعوت بھی دیتا ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیسا گلگت بلتستان اور کیسا پاکستان دینا چاہتے ہیں۔

ایک ایسا پاکستان جہاں ہر بچے کو تعلیم ملے، ہر شہری کو عزت ملے، ہر ثقافت کو احترام ملے، ہر مذہبی وابستگی کو قانونی تحفظ حاصل ہو اور ہر پاکستانی اپنے وطن کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

آج یکم نومبر کے اس تاریخی موقع پر گلگت بلتستان کے غیور عوام کو سلام!

تمہارے بلند پہاڑوں کو سلام، تمہاری خوب صورت وادیوں کو سلام، تمہاری تہذیب کو سلام، تمہاری روایات کو سلام، تمہارے حوصلوں کو سلام اور پاکستان سے تمہاری محبت کو سلام!

تمہاری زبانوں میں مختلف لہجے سہی، تمہارے لباس میں مختلف رنگ سہی، تمہارے تہواروں میں مختلف انداز سہی، مگر تمہارے قومی جذبے کی ترجمانی ایک ہی پرچم کرتا ہے۔

وہ سبز ہلالی پرچم جس کی سربلندی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

گلگت بلتستان! تم اپنی ثقافت میں منفرد، اپنی تاریخ میں باوقار، اپنی روایات میں رنگین اور پاکستان کی وحدت میں ایک قابلِ فخر حصہ ہو۔

تمہاری آزادی مبارک، تمہاری خوش حالی مبارک اور تمہارا روشن مستقبل مبارک!

اللہ تعالیٰ گلگت بلتستان کو امن، ترقی، خوش حالی اور استحکام عطا فرمائے، اس کے عوام کے درمیان محبت اور بھائی چارہ قائم رکھے اور پاکستان کو ہمیشہ سربلند رکھے۔ آمین!

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں