تحریر : راشد خان سواتی
ہزارہ یونیورسٹی محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں، بلکہ ہماری مادرِ علمی اور ہزارہ کے خوب صورت ثقافتی تنوع کی آئینہ دار ہے۔ یہاں مختلف زبانوں، ثقافتوں اور معاشرتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات علم کی پیاس بجھانے اور اپنے مستقبل کو روشن بنانے آتے ہیں۔ پشتو، ہندکو، گوجری، کوہستانی، کشمیری، پنجابی اور سرائیکی زبانیں بولنے والے افراد اس خطے کے ثقافتی حسن میں اضافہ کرتے ہیں، اور ہزارہ یونیورسٹی ان مختلف ثقافتوں کو ایک علمی پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہے۔
یونیورسٹی کی قومی سطح پر پہچان اور اس کے فارغ التحصیل طلبہ کی کامیابیاں اساتذہ، انتظامیہ اور والدین کے اعتماد کا مظہر ہیں۔ اگرچہ ملک کی ممتاز جامعات کی صف میں مزید نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے مسلسل محنت اور وقت درکار ہے، تاہم ہزارہ یونیورسٹی اپنے دستیاب وسائل کے ساتھ قابل اور ذمہ دار انسانی وسائل تیار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
میری اپنی مادرِ علمی سے وابستگی میں ایک ذاتی تجربہ بھی شامل ہے۔ 2007ء میں لیکچررشپ کے لیے جی آر ای ٹیسٹ پاس کرنے، ڈیمانسٹریشن اور سلیکشن بورڈ کے مراحل سے گزرنے کے باوجود میری سلیکشن ناگزیر وجوہات کی بنا پر روک دی گئی۔ اس واقعے نے مجھے مایوس کیا اور دل میں ایک گلہ پیدا ہوا۔ تاہم، چند سال بعد اسی یونیورسٹی سے حاصل کردہ ڈگری کی بنیاد پر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پرنسپل کی حیثیت سے میری سلیکشن ہوئی تو اپنی مادرِ علمی سے محبت اور وابستگی مزید گہری ہوگئی۔ مجھے احساس ہوا کہ اداروں سے تعلق صرف ذاتی تجربات کا نام نہیں، بلکہ ان سے حاصل ہونے والے علم، تربیت اور رہنمائی کا اعتراف بھی ہے۔
میرے اساتذہ ڈاکٹر سعید انور صاحب، ڈاکٹر سعید خان صاحب، ڈاکٹر شوکت صاحب مرحوم، ڈاکٹر شفقت صاحب، ڈاکٹر اقبال منجوکہ صاحب، ڈاکٹر فرحانہ کاظمی صاحبہ اور ڈاکٹر حبیب الٰہی صاحب سمیت دیگر اساتذہ نے ہماری تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے کے باوجود انہوں نے ہمیں ہمارے ثقافتی ماحول سے ہم آہنگ تعلیم دی اور عملی زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ عطا کیا۔ ان کی رہنمائی کا نتیجہ ہے کہ ہمارے بیچ کے متعدد ساتھی آج پرنسپلز، پروفیسرز، ہیڈ مسٹریس اور دیگر اہم ذمہ داریوں پر فائز ہیں، جبکہ بعض بیرونِ ملک بھی تدریسی خدمات انجام دے کر ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔
یہی کسی جامعہ کی حقیقی کامیابی ہے کہ اس کے فارغ التحصیل طلبہ علم کو عملی زندگی میں بروئے کار لائیں اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ ہزارہ یونیورسٹی نے اپنے ابتدائی دور سے ہی ایسے افراد تیار کیے ہیں جو تعلیم، انتظامیہ اور دیگر شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ امید ہے کہ یہ ادارہ مستقبل میں تحقیق، تدریس اور جدید تعلیمی سہولیات کے میدان میں مزید ترقی کرے گا اور ملک کی ممتاز جامعات میں اپنا مقام مستحکم بنائے گا۔
میرے لیے ہزارہ یونیورسٹی محض ایک ادارہ نہیں، بلکہ میری علمی شناخت، میری یادوں اور میری پیشہ ورانہ زندگی کا اہم حصہ ہے۔ مادرِ علمی سے گلہ بھی اسی لیے ہوتا ہے کہ اس سے توقعات وابستہ ہوتی ہیں، اور محبت بھی اسی لیے رہتی ہے کہ اس نے ہمیں علم، شعور اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کو دن دگنی، رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، اساتذہ اور طلبہ کو کامیابیوں سے نوازے اور اسے علم و تحقیق، ثقافتی ہم آہنگی اور قومی ترقی کا روشن مرکز بنائے۔