Skip to content

گمراہ کن اطلاعات روکنے کے لیے سرکاری معلومات کی فراہمی ضروری

شیئر

شیئر

اسلام آباد: خیبرپختونخوا انفارمیشن کمیشن کے انفارمیشن کمشنر ارشد احمد نے کہا ہے کہ گمراہ کن اطلاعات اور غلط معلومات ایک پُرامن معاشرے کے لیے سنگین خطرہ ہیں، جو تشدد، معاشرتی تقسیم اور اداروں پر عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) پر مؤثر عملدرآمد، بالخصوص سرکاری اداروں کی جانب سے زیادہ سے زیادہ معلومات کی ازخود فراہمی، گمراہ کن اطلاعات کے تدارک میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

ارشد احمد نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں یونیسکو اور غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (سی پی ڈی آئی) کے زیر اہتمام ’’انفارمیشن انٹیگریٹی کے فروغ کے لیے معلومات تک رسائی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ مکالمے میں کیا۔

مکالمے میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، چیف انفارمیشن کمشنر پاکستان انفارمیشن کمیشن شعیب احمد صدیقی، بلوچستان انفارمیشن کمیشن کی چیف انفارمیشن کمشنر شانیہ طاہر، پنجاب انفارمیشن کمیشن کی انفارمیشن کمشنر بشریٰ ثاقب، سندھ انفارمیشن کمیشن کے انفارمیشن کمشنر محمد سلیم خان، مختلف سرکاری اداروں اور یونیسکو کے نمائندوں، صحافیوں، سول سوسائٹی کے ارکان اور طلبہ نے شرکت کی۔

’’ڈیجیٹل دور میں رائٹ ٹو انفارمیشن‘‘ کے موضوع پر پینل ڈسکشن میں ارشد احمد نے کہا کہ آر ٹی آئی شفافیت، احتساب اور شہریوں کی باخبر شرکت کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ سرکاری معلومات ویب سائٹس پر بروقت اور جامع انداز میں فراہم کرنے سے معلومات کے خلا کو کم کیا جا سکتا ہے اور غلط و گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کے لیے موجود گنجائش محدود کی جا سکتی ہے۔

انفارمیشن کمشنر کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل دور میں معلومات کی صحت اور عوامی اعتماد کے فروغ کے لیے مضبوط آر ٹی آئی نظام اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مربوط کوششیں ضروری ہیں۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں