
تحریر: محمد حنیف
پہاڑ گر سکتے ہیں، زمین کا سینہ چاک ہو سکتا ہے، مگر وقت کی لوح پر لکھی نظام کی نااہلی معاف نہیں کی جا سکتی۔“
آٹھ اکتوبر 2005ء کی وہ سیاہ صبح، جس کا سورج بالاکوٹ، مظفرآباد اور باغ کے باشندوں کے لیے سحرِ امید نہیں بلکہ حشرِ خیز قضا بن کر نمودار ہوا تھا۔ صبح کے آٹھ بج کر پچاس منٹ پر، جب پوری قوم مبارک رمضان کی سحری کے بعد محوِ خواب تھی، تب انڈین پلیٹ نے یوریشین براعظم کو اک خونخوار دھکا دیا۔ ہمالیہ کی صدیوں پرانی خاموشی لمحوں میں چیخ پڑی۔ 7.6 شدت کے اس ارضیاتی زلزلے اور صرف 10 کلومیٹر کی اتھلی گہرائی نے چند لمحوں میں پورے جنوبی ایشیا کو لرزا کر رکھ دیا۔ بالاکوٹ خاک کا ڈھیر بنا، مظفرآباد کھنڈر میں بدلا، اور باغ میں گیارہ ہزار روحیں ابدی نیند سو گئیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 87 ہزار سے زائد جاں بحق، ساڑھے پانچ لاکھ آشیاں ویران، اور دو لاکھ مربع کلومیٹر کا رقبہ جو پاکستان کے کل جغرافیے کا چوتھائی حصہ بنتا ہے ماتم کدہ بن گیا۔
آج اس آفت کو اکیس سال بیت گئے۔ کھنڈروں کے مدفن پر نئی عمارتیں کھڑی ہو گئیں، زخمی دلوں کے زخم رفتہ رفتہ نشانات میں بدل گئے، لیکن حقیقت کا اصل سبق پہاڑوں کے کھسکنے یا زمین کے دراڑ کھانے میں نہیں، بلکہ اُن کوتاہیوں اور المیوں میں پوشیدہ ہے جو کبھی رونما نہیں ہونی چاہیے تھیں۔
معلوم فالٹ، نامعلوم غفلت
ارضیاتی نقطہ نظر سے "بالاکوٹ-باغ فالٹ” کوئی اچانک ظاہر ہونے والا راز نہ تھا۔ پاکستان کے جیولوجیکل سروے نے زلزلے سے سالوں پہلے اس شمال مغربی فالٹ لائن کو نقشوں پر ثبت کر رکھا تھا۔ لیکن المیہ یہ رہا کہ اسے ایک "فعال فالٹ” کے طور پر تسلیم کر کے اس کی باقاعدہ نگرانی اور حفاظتی تدابیر کو بالائے طاق رکھ دیا گیا۔ سائنس چیخ چیخ کر خطرے کی نشاندہی کر رہی تھی، مگر سائنسی دانش کو پالیسی اور قانون کی زبان میں ڈھالنے کی زحمت نہ کی گئی۔ جب آفت نازل ہوئی تو انسان اور اس کا قائم کردہ نظامِ تحفظ مکمل بے خبری کے خوابِ خرگوش میں تھے۔ زلزلے نے جانیں ضرور لیں، مگر اس قدر ہولناک جانی نقصان کا حقیقی سبب زلزلے کی شدت سے زیادہ انسانی نظام کی صفِ اول کی غیر موجودگی اور عدمِ تیاری تھی۔
اینٹوں تلے دبے مستقبل کا ماتم
73 ہزار سے زائد لاشیں اور 70 ہزار سے زائد معذور اجسام یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک جیتے جاگتے معاشرے کی تباہی کی کہانی ہے۔ آزاد کشمیر اور ہزارہ کے بیشتر مکانات روایتی اینٹوں، کمزور گارے اور بغیر ستونوں کی تکنیک پر استوار تھے۔ جب زلزلہ آیا تو وہ عمارتیں صرف ہلی نہیں، بلکہ ریت کے گھروندوں کی طرح بکھر گئیں۔
بالاکوٹ کے درجنوں دیہاتوں کا نام و نشان مٹ گیا، اور سب سے دردناک المیہ یہ تھا کہ معصوم اسکول کے بچوں کی ایک بڑی تعداد اینٹوں کے ڈھیر تلے دب کر دم توڑ گئی۔ زلزلے نے بچوں کو نشانہ نہیں بنایا تھا، بلکہ ہمارے تعلیمی اداروں کی شیشے جیسی کمزور ساخت ان کی قاتل بنی۔ 60 ہزار سے زائد مکانات، 6,500 اسکول اور 800 سے زائد ہسپتال پل بھر میں زمین بوس ہو گئے۔ یہ تلخ حقیقت اس امر کی گواہی دیتی ہے کہ زلزلہ انسان کو نہیں مارتا، بلکہ انسان کی بنائی ہوئی خامیوں سے بھرپور عمارتیں انسان کی جان لیتی ہیں۔
نظام کا امتحان: بحالی کی جدوجہد اور ساختی دراڑیں
زلزلے کی تباہ کاریوں کے بعد ریاستِ پاکستان کی طرف سے ERRA (زیررا) کا قیام اور "خود تعمیرِ نو” (Self-Reconstruction) کی حکمتِ عملی ایک احسن قدم تھا۔ دیہی علاقوں میں چار مرحلہ وار مالی امداد اور تکنیکی رہنمائی کے سبب دو سال کے اندر 98 فیصد متاثرین کو سر چھپانے کا سایہ میسر آ گیا۔ لیکن اس کامیابی کے باوجود نظام کی دراڑیں صاف نظر آئیں۔ آغاز میں امدادی سامان کی تقسیم میں بدنظمی کے باعث جہاں کچھ خاندانوں کے پاس اضافی خیمے پہنچے، وہاں معذور اور بے سہارا افراد بے یار و مددگار رہے۔ اس سے بھی بڑھ کر المیہ یہ رہا کہ تعمیرِ نو کے عمل میں زلزلہ مخالف ضوابط (Building Codes) پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد نہ ہو سکا۔
وینچوان (چین) کا آئینہ: نظامِ حکمرانی کا فرق
8 اکتوبر 2005 کے ٹھیک تین سال بعد، 12 مئی 2008 کو چین کے علاقے وینچوان میں اسی شدت اور ارضیاتی نوعیت کا زلزلہ آیا۔ لیکن وہاں کے نظام کے ردِعمل نے تعمیرِ نو کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔
زلزلے کے صرف 37 ویں دن مرکزی حکومت نے ”ایک صوبہ، ایک متاثرہ ضلع“ کی حکمتِ عملی نافذ کی۔ چین کے 19 خوشحال صوبوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی سالانہ آمدنی کا ایک فیصد اگست کے 18 تباہ شدہ اضلاع کی بحالی کے لیے وقف کریں۔ یہ محض مالی امداد کا تبادلہ نہیں تھا، بلکہ ایک قومی توانائی کی منتقلی تھی جس کے تحت افرادی قوت، جدید ٹیکنالوجی، دانشر اور مشینری کو ہنگامی بنیادوں پر متاثرہ علاقوں کی طرف موڑ دیا گیا۔ نتیجے کے طور پر تین سال سے بھی کم عرصے میں پورا خطہ نہ صرف بحال ہوا بلکہ پہلے سے زیادہ محفوظ اور جدید بن گیا۔
اگرچہ وینچوان کی تعمیرِ نو کے آڈٹ میں بھی مالیاتی اور انجینئرنگ کی سطح پر غلطیاں سامنے آئیں، مگر چین کے نظام نے ان غلطیوں کو عوامی سطح پر تسلیم کیا، ان کی اصلاح کی اور آئندہ کے لیے سبق سیکھا۔ یہ نظام کی وہ خصوصیت ہے جسے "خود احتسابی اور خود اصلاحی” کہتے ہیں۔
اکیس سال بعد: ایک سوال جو جواب کا منتظر ہے
اکیس سال کا عرصہ ایک نسل کی بیداری، کھنڈروں کی بحالی اور نئے شہروں کی تعمیر کے لیے کافی ہوتا ہے، لیکن اگر نظام خود کو نہ بدلے تو اکیس صدیاں بھی کم ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ زمین کیوں ہلی کیونکہ ارضیاتی پلیٹوں کی حرکت انسانی اجازت کی پابند نہیں۔ اصل اور تازیانہ سوال یہ ہے کہ:
کیا اگلا زلزلہ آنے پر بالاکوٹ اور مظفرآباد کے گھر پھر ریت کی دیوار ثابت ہوں گے؟
کیا ہمارے اسکول اور ہسپتال اب زلزلہ مخالف (Earthquake-Resistant) اصولوں پر قائم ہیں؟
کیا جیولوجیکل سروے کے نقشوں پر درج فالٹ لائنز ہماری اربن پلاننگ اور تعمیراتی ضوابط کا حصہ بن سکی ہیں؟
پہاڑ گر سکتے ہیں، زمین کا سینہ پھٹ سکتا ہے، مگر ایک باشعور قوم کے لیے نظام کی خامی کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ ایک انتظامی جرم ہے۔ غیر معیاری عمارتیں انسان کا انتخاب ہیں، زلزلے سے بچاؤ کی عدمِ آگاهی ہماری تعلیمی پالیسی کی ناکامی ہے، اور بلڈنگ کوڈز کی پامالی نظامِ حکمرانی کا جمود ہے۔ 8 اکتوبر کی اکیسویں برسی شہدا کی یادگاروں پر پھول چڑھانے کا دن نہیں، بلکہ اپنے نظام کو محفوظ، دور اندیش اور لچکدار بنانے کے عہد کا دن ہے۔
واپس نہ جا وہاں تیرے شہر میں منیر
جو جس جگہ پہ تھا وہ وہاں پر نہیں رہا
منیر نیازی
