تحریر : راشد خان سواتی
ویسے تو ہر دم استاد کے نام ہے اور ہر لمحہ معمارانِ انسانیت کے نام…
مگر دنیا بھر میں 5 اکتوبر، یومِ اساتذہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن آتا ہے تو دل چاہتا ہے کہ زندگی کے ہر اس شخص کو سلام پیش کروں جس نے میرے وجود میں علم، شعور، تہذیب اور انسانیت کا کوئی چراغ روشن کیا۔
سب سے پہلے اپنی پہلی معلمہ، اپنی والدہ محترمہ کو سلام پیش کروں، جنہوں نے مجھے بولنا سکھایا، چلنا سکھایا، محبت کرنا سکھایا اور زندگی کے ابتدائی آداب اپنی آغوش میں سکھائے۔
اپنے والدِ محترم کو سلام پیش کروں، جنہوں نے حالات کا مقابلہ کرنا، لوگوں کو شفقت بھری نگاہ سے دیکھنا، عاجزی اختیار کرنا اور کردار کی بلندی کے ساتھ زندگی گزارنا سکھایا۔
اپنے مدرسے کے اساتذہ کو سلام پیش کروں، جن کی محنت اور شفقت سے مجھے قرآنِ پاک پڑھنے، سمجھنے اور یاد کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔
اپنے پرائمری، ہائی اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے تمام اساتذہ کو سلام پیش کروں؛ وہ جو آج ہمارے درمیان موجود ہیں اور وہ بھی جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ ان سب کے احسانات میری زندگی کے صفحات پر ثبت ہیں۔
ارسطو، سقراط، افلاطون اور دنیا کے ان تمام مفکرین اور فلاسفروں کو بھی سلام، جنہوں نے علم، فکر اور انسانی شعور کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالا اور انسان کو سوال کرنے، سوچنے اور سمجھنے کا ہنر دیا۔
لیکن…
دل پھر بھی ایک سوال کرتا ہے۔
یہ سب اساتذہ مجھے دنیا کے اعتبار سے ایک پڑھا لکھا انسان بنا گئے۔
کسی نے زبان دی، کسی نے علم دیا، کسی نے ہنر دیا، کسی نے فکر دی، کسی نے کردار سنوارا۔
کسی نے مجھے ایک کلاس سے دوسری کلاس تک پہنچایا، کسی نے ایک گریڈ سے دوسرے گریڈ تک پہنچنے میں مدد دی، اور پھر اپنی ذمہ داری پوری کرکے آگے بڑھ گئے۔
مگر کیا کسی نے مجھے یہ بتایا کہ میں کون ہوں؟
کیا کسی نے مجھے یہ سکھایا کہ میرے رب کون ہیں؟
توحید کی حقیقت کیا ہے؟
اچھائی اور برائی میں اصل فرق کیا ہے؟
انسانیت کیا ہے؟
مجھے اپنے رب کے سامنے کس طرح جواب دہ ہونا ہے؟
میری دنیا ہی نہیں، میری آخرت بھی ہے۔
میرے اعمال کا حساب بھی ہے۔
میری زندگی کا ایک مقصد بھی ہے۔
اور مجھے صرف دنیا میں کامیاب نہیں ہونا بلکہ اپنے رب کے سامنے بھی سرخرو ہونا ہے۔
یہاں آ کر میری نگاہ ایک ایسی ہستی پر ٹھہر جاتی ہے جس نے صرف مجھے پڑھایا نہیں، مجھے پہچان دی۔
جس نے صرف الفاظ نہیں سکھائے، معنیِ زندگی سکھائے۔
جس نے صرف علم نہیں دیا، علم کو عمل سے جوڑا۔
جس نے صرف دنیا سنوارنے کا راستہ نہیں دکھایا بلکہ دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی کا راستہ دکھایا۔
وہ ہستی جس نے انسان کو اس کے رب سے ملایا، توحید کی نعمت عطا کی، اخلاق سکھائے، عدل سکھایا، محبت سکھائی، رحم سکھایا، حقوق العباد سکھائے اور انسان کو اس کی اصل ذمہ داری سے آشنا کیا۔
وہ ہستی جس نے اپنے ماننے والوں کو صرف شاگرد نہیں سمجھا بلکہ اپنی امت کا حصہ بنایا۔
اور سب سے بڑھ کر…
وہ ہستی جس کی تعلیمات میں انسان کی دنیا ہی نہیں، اس کی آخرت کی فکر بھی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ 5 اکتوبر کو جب میں اپنے تمام اساتذہ کو سلام پیش کرتا ہوں تو میرے دل میں سب سے بلند مقام معلمِ اعظم، رحمتِ عالم، محمدِ عربی ﷺ کے لیے محسوس ہوتا ہے۔
دنیا کے استاد ایک مرحلے کے بعد ہمیں آگے بڑھا دیتے ہیں،
مگر معلمِ دو جہاں ﷺ کی تعلیمات قیامت تک انسان کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔
دنیا کے استاد ہمیں امتحان کی تیاری کراتے ہیں،
مگر محمد ﷺ نے ہمیں اس عظیم امتحان کے لیے تیار کیا جس کا نتیجہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے۔
دنیا کے استاد ہمیں دنیا میں مقام دلاتے ہیں،
مگر معلمِ اعظم ﷺ نے ہمیں رب کے سامنے سرخرو ہونے کا راستہ دکھایا۔
اسی لیے آج کے دن میرے دل کی گہرائیوں سے نکلتا ہے:
اللّٰہم صلِّ وسلِّم یا صاحبَ الجمال ﷺ
اللّٰہم صلِّ وسلِّم یا صاحبَ العلمِ والقلم ﷺ
اللّٰہم صلِّ وسلِّم یا معلّمَ الأعظم ﷺ
اللّٰہم صلِّ وسلِّم یا معلّمَ الناسِ الخیر ﷺ
دنیا کے تمام اساتذہ کو سلام،
والدین کو سلام،
مدرسے کے اساتذہ کو سلام،
اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے اساتذہ کو سلام،
علم و فکر کے تمام محسنوں کو سلام…
مگر اصل سلام اُس معلمِ اعظم ﷺ کے نام،
جس نے انسان کو انسان ہی نہیں،
اپنے رب کا بندہ بننا سکھایا۔
ﷺ اللّٰہم صلِّ علیٰ محمدٍ وعلیٰ آلِ محمدٍ وبارک وسلِّم