Skip to content

میڈم عشرت – اصول، دیانت اور قیادت کی روشن مثال

شیئر

شیئر

اصول، دیانت اور قیادت کی روشن مثال — میڈم عشرت پرنسپل گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نمبر 1 مانسہرہ

محکمۂ تعلیم خیبرپختونخوا میں بعض شخصیات صرف اپنے عہدوں سے نہیں بلکہ اپنے کردار، اصولوں، وژن اور خدمات سے پہچانی جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک باوقار، بااصول اور محترم شخصیت پرنسپل گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نمبر 1 مانسہرہ، میڈم عشرت ہیں، جو اپنی تدریسی، انتظامی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نہایت احسن انداز میں نبھاتے ہوئے آج اپنی سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہو رہی ہیں۔

میڈم عشرت صرف ایک نام نہیں بلکہ ایک وژن، ایک سوچ، ایک نظم و ضبط اور محکمانہ اصولوں پر غیر متزلزل یقین کی علامت ہیں۔ انہوں نے بحیثیت استاد علم کی شمع روشن کی، بحیثیت منتظم ادارہ جاتی وقار کو مضبوط کیا، اور بحیثیت پرنسپل گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نمبر 1 مانسہرہ میں ایسا تعلیمی و انتظامی کلچر پروان چڑھایا جو آج پورے ضلع کے لیے ایک مثال بن چکا ہے۔

گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نمبر 1 مانسہرہ آج جس اعتماد، وقار اور تعلیمی معیار کی علامت سمجھا جاتا ہے، اس کے پس منظر میں میڈم عشرت کی انتھک محنت، دیانت دار قیادت اور بے لوث خدمات شامل ہیں۔ یہ وہ ادارہ ہے جہاں والدین اپنی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کے لیے اعتماد اور اطمینان کے ساتھ داخلہ دلوانا اپنی پہلی ترجیح سمجھتے ہیں۔ اس ادارے کی روایت، نظم و ضبط، تعلیمی ماحول اور اخلاقی اقدار میڈم عشرت کی شخصیت کی عکاس ہیں۔

انہوں نے ہمیشہ ایک لیڈر کی طرح ادارے کی رہنمائی کی، طالبات کے لیے شفقت بھری ماں کا کردار ادا کیا، جبکہ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف کے لیے ایک محافظ، مربی اور بہترین منتظم ثابت ہوئیں۔ ان کی شخصیت میں شائستگی، متانت، اصول پسندی اور فرض شناسی کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔

میڈم عشرت کی پیشہ ورانہ عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مختلف تربیتی کورسز اور محکمانہ سرگرمیوں میں وہ ہمیشہ فعال ترین شریک رہیں۔ باوجود اس کے کہ وہ ایک سینئر ترین پرنسپل تھیں، انہوں نے کبھی جونیئر افسران کو کمتر محسوس نہیں ہونے دیا بلکہ ہمیشہ رول ماڈل بن کر ساتھ چلیں۔ ان کی عاجزی، محنت اور سیکھنے سکھانے کا جذبہ نوجوان اساتذہ اور منتظمین کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا۔

ایسے ہی لوگوں کے لیے شاعر نے کہا تھا:

“ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم، اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم”

واقعی محکمۂ تعلیم میں لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن بعض شخصیات اپنی خدمات، کردار اور روایات کے باعث تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ میڈم عشرت بھی انہی نایاب شخصیات میں شامل ہیں جن کے جانے سے صرف ایک عہدہ خالی نہیں ہوگا بلکہ ایک پورا عہد اپنی یادیں چھوڑ جائے گا۔

ضلع مانسہرہ بلکہ پورا خیبرپختونخوا ایک دیانت دار، نڈر، اصول پسند اور پیشہ ور منتظم سے محروم ہو رہا ہے۔ مشکل اور ناممکن سمجھی جانے والی انکوائریوں کے حل، ادارہ جاتی مسائل کے ازالے اور حق و انصاف پر مبنی فیصلوں میں میڈم عشرت کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کبھی دباؤ، سفارش یا ذاتی مفاد کو ترجیح نہیں دی بلکہ ہر فیصلہ ادارے اور طالبات کے بہترین مفاد میں کیا۔

گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نمبر 1 مانسہرہ کے در و دیوار، اس کا تدریسی ماحول، اس کا نظم و ضبط اور اس کی شاندار روایات آج بھی میڈم عشرت کی شخصیت کا عکس پیش کرتے ہیں۔ سکول کا سپورٹنگ سٹاف ان کی شفیق طبیعت کو، تدریسی عملہ ان کی بہن جیسی محبت کو، اور طالبات ان کی ممتا بھری نگرانی اور تربیت کو ہمیشہ یاد رکھیں گی۔

جب بھی اصولوں پر ڈٹ جانے، حق بات کہنے، دیانت داری سے فرائض ادا کرنے اور ادارے کی بہتری کے لیے جرات مندانہ فیصلے کرنے کی بات ہوگی، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نمبر 1 مانسہرہ میڈم عشرت کو ضرور یاد کرے گا۔

انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کو بھی اپنے پورے کیریئر کی طرح باوقار اور یادگار بنا دیا۔ ان کا وژن، ان کا قائم کردہ ادارہ جاتی کلچر اور ان کی روایات ان شاء اللہ ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

ان کے شاندار سروس کیریئر کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے:

“جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے

رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا”

میڈم عشرت!
ضلع مانسہرہ، محکمۂ تعلیم اور بالخصوص گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نمبر 1 مانسہرہ آپ کی خدمات کا ہمیشہ معترف رہے گا۔ آپ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال، ایک روایت اور ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔

آپ کی ریٹائرمنٹ زندگی کے ایک نئے اور خوبصورت سفر کا آغاز ہو۔
اللہ تعالیٰ آپ کو صحت، خوشی، سکون اور عزت کے ساتھ لمبی زندگی عطا فرمائے۔ آمین۔
گرلز سکول کے سٹاف کی طرف سے میڈم کے نام
بچھڑ تے لمحوں میری رفاقتوں کی ساعتوں کو بچا کے رکھنا
شہر میں ہر سو عداوتیں ہیں
محبتوں کو بچا کے رکھنا
دکھوں کے بن میں اکیلے پل میں کسی کی یادیں رلا بھی دیں اگر!
مسرتوں کو بچا کے رکھنا

تحریر : راشد خان سواتی

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں