Skip to content

جب تک ہم کسی مسئلے کی جڑ تک نہیں جائیں گے تب تک اس کا حل ممکن نہیں – بابر سلیم سواتی

شیئر

شیئر

پشاور:
جب تک ہم کسی مسئلے کی جڑ تک نہیں جائیں گے تب تک اس کا حل ممکن نہیں،لوگ ووٹ دے کر اسمبلی میں اپنے نمائندے بھیجتے ہیں تاکہ وہ انکے حقوق کا تحفظ کریں اورتحقیق و زمینی حقائق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے قانون سازی کریں۔ ان خیالات کا اظہار سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے صوبے میں مضر صحت دودھ کے حوالے سے شائع رپورٹ پر اسمبلی کانفرنس روم میں کمیٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔سپیکر اسمبلی کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں اس ہم معاملے پر اسمبلی فلور پر تحریکِ التواء پیش کرنے والی خاتون رکن ثوبیاء شاید، وزیر برائے لائف سٹاک فضل حکیم، لائف سٹاک ایسوسی ایشن کے عہدے دار، لائف سٹاک و ہلال فوڈ اٹھارٹی اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران موجود تھے۔سپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ پہلی دفعہ اتنے وسیع پیمانے پر چیکنگ کی گئی اور صورتحال نے سب کو چونکا دیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر کیمیکل ملا دودھ ہمارے بچے پی رہے ہیں تو پھر اتنی اٹھارٹیاں بنانے کا کوئی فائدہ نہیں، انکا کہنا تھا کہ ادارے اپنی حدود کا تعین نہیں کرتے اور چھ چھ ادارے ایک جیسے کام کر رہے ہوتے جس سے اصل مسئلہ ایک طرف رہ جاتا اور اختیارات کی جنگ میں تمام تر قوت لگا دی جاتی اور عوام کو یہی سمجھ نہیں آتی کہ وہ اپنا مقدمہ لے کر کس کے پاس جائیں۔ سپیکر اسمبلی نے کہا کہ اس وقت یہ مضر صحت دودھ کا معاملہ جو اٹھا اس کو سنجیدگی سے دیکھنے کے لیے ہم سب ادھر بیٹھے ہیں تاکہ ہر پہلو کا جائزہ لیا جائے، جس کے لیے لازمی تھا کہ لائف سٹاک سے منسلک افراد کے نمائندے، متعقلہ ادارے اور عوامی نمائندے ایک میز پر بیٹھ کر اس پر بات کریں تاکہ ہم کسی نتیجے پر پہنچ سکیں، اس مقصد کے لیے ہماری اسمبلی کا تحقیقی ونگ اور دیگر متعلقہ شعبوں سے افسران بھی اس عوامی مفاد کے جرگے میں موجود ہیں جو اس تمام صورتحال اور یہاں ہونے والی گفتگو کی روشنی میں تحقیقی ڈاکومنٹ ترتیب دیں گے تاکہ ہم ہر پہلوکامطالعہ کرتے ہوئے ہم اپنی تجاویز پیش کرسکیں۔ اجلاس میں موجود لائف سٹاک فارمر ایسوسی ایشن نے دودھ ٹیسٹ کرنے کی میشن اور اس پر تعینات تکینکی عملے کے حوالے سے اپنے تحفظات سپیکر اسمبلی کی موجودگی میں وزیر برائے لائف سٹاک اور ہلال فوڈ اٹھارٹی و لائف سٹاک کے افسران کے آگے پیش کیے جس پر ہلال فوڈ اٹھارٹی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس FT3 milko scan کی جدید مشین موجود ہے جو کہ دودھ میں ہر طرح کی ملاوٹ اور اسکی مقدار کو باآسانی معلوم کرتی ہے اور اس مشین پر تمام تکینی عملہ باصلاحیت اور جدید تعلیم سے آراستہ ہے اور اگر کوئی شک و شعبہ ہے تو کسی وقت بھی آ کر ہمارے لیب کو چیک کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر ثوبیا شاہد نے کہا ہم سپیکر اسمبلی کے مشکور ہیں جو انھوں نے اس معاملے پر بروقت ایکشن لیتے ہوئے آج کی کمیٹی میٹنگ منعقد کی اور اس میٹنگ میں ہونے والی تمام بحث سے سپیکر اسمبلی کی ہدایت کی روشنی میں ہر قسم کے تحفظات دور کرنے کے لیے مشین اور اس پر تعنیات عملے کی جانچ کے لیے اگلے ایک دو روز میں تفصیلی معائنہ کر کے سپیکر چیمبر کو آگا ہ کریں گے تاکہ اس معاملے پر اگلے مرحلے میں ہم کسی نتیجے پر آ سکیں۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں