مانسہرہ
شہری نے بالآخر اس مسلسل تاخیر، دفتری چکر اور غیر یقینی صورتحال سے تنگ آ کر اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ مانسہرہ کو باضابطہ طور پر ایف آئی آر درج کر کے انصاف فراہم کرنے کی درخواست جمع کرا دی ہے۔
مانسہرہ میں LTV ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق ایک اہم معاملہ اس وقت سنگین تنازع کی صورت اختیار کر گیا جب سال 2018 میں جاری ہونے والا ایک ڈرائیونگ لائسنس، جو مسلسل پانچ سال تک سرکاری ریکارڈ، ہسٹری شیٹ اور ڈیجیٹل ویریفیکیشن سسٹم میں باقاعدہ طور پر “Active”، درست اور قابلِ قبول حیثیت میں تسلیم کیا جاتا رہا، اچانک پہلے 2023 میں تجدید (Renewal) سے محروم کر دیا گیا اور بعد ازاں 2026 میں HTV اپگریڈیشن کے مرحلے پر محکمہ ٹرانسپورٹ کے ماتحت ڈرائیونگ لائسنس برانچ مانسہرہ کی جانب سے اسے مسترد کر دیا گیا۔ اس غیر متوقع پیش رفت نے نہ صرف متاثرہ شہری کو شدید انتظامی و پیشہ ورانہ مشکلات سے دوچار کیا بلکہ ادارہ جاتی شفافیت، ڈیجیٹل ویریفیکیشن سسٹم اور سرکاری ریکارڈ کی ساکھ پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
متاثرہ شہری کے مطابق وہ گزشتہ کئی برسوں سے اپنے لائسنس کی تجدید اور HTV اپگریڈیشن کے لیے مختلف دفاتر کے چکر لگا رہا تھا، تاہم ہر مرحلے پر اسے متضاد مؤقف اور انتظامی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر اس مسلسل تاخیر اور غیر یقینی صورتحال سے تنگ آ کر اس نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ مانسہرہ کو باضابطہ درخواست جمع کرا دی، جس میں ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور مکمل ریکارڈ کی جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ شہری اس صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کے رویے کو “انتظامی بے حسی اور نظامی تضاد” قرار دے رہا ہے۔
دوسری جانب محکمہ ٹرانسپورٹ کا مؤقف ہے کہ سال 2017 کے بعد ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کا اختیار پولیس یا دیگر متعلقہ اداروں سے واپس لے کر محکمہ ٹرانسپورٹ کو منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس بنا پر سال 2018 میں جاری ہونے والا مذکورہ LTV لائسنس بادی النظر میں غیر مجاز اتھارٹی سے جاری شدہ تصور ہوتا ہے، جس کی بنیاد پر اس کی تجدید اور HTV اپگریڈیشن ممکن نہیں۔ محکمہ کے مطابق ایسے کیسز میں قواعد و ضوابط کی پابندی ناگزیر ہے، تاہم ریکارڈ کی مزید جانچ پڑتال سے حقائق کو واضح کیا جا سکتا ہے۔
اس کے برعکس پولیس ڈیپارٹمنٹ (لائسنس برانچ) کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ سرکاری ریکارڈ اور ہسٹری شیٹ کے مطابق لائسنس نمبر 101000047242 کے حامل شہری نے سال 2017 میں لرنر پرمٹ حاصل کیا اور 2018 میں تمام قانونی تقاضے بشمول تحریری و عملی ٹیسٹ اور میڈیکل شرائط مکمل کرنے کے بعد باقاعدہ طور پر LTV کیٹیگری حاصل کی۔ پولیس حکام کے مطابق یہ لائسنس باقاعدہ سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہے اور کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا میں بھی اس کی واضح تصدیق موجود ہے، جو اس کی قانونی حیثیت کو تقویت دیتا ہے۔
مزید برآں محکمانہ معلومات کے مطابق جب 2017 میں پروفیشنل لائسنسنگ کا نظام محکمہ ٹرانسپورٹ کو منتقل کیا گیا تو ایک عبوری مرحلے کے دوران موٹر وہیکل ایگزامینرز کی جانب سے سابقہ لرنر پرمٹس کی بنیاد پر لائسنسوں کا اجراء قانونی طریقہ کار کے مطابق جاری رہا، جو 2022 تک برقرار رہا۔ بعد ازاں متعلقہ افسران نے محکمہ ٹرانسپورٹ کی ہدایات کی روشنی میں اس عمل کو باضابطہ طور پر بند کر دیا۔
“ڈاؤن گریڈنگ” کے حوالے سے پولیس مؤقف ہے کہ اگر یہ عمل لائسنس ہولڈر کی درخواست یا کسی مجاز قانونی طریقہ کار کے تحت کیا گیا ہو تو اسے غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا، خصوصاً جب یہ اقدام تجدید نہ ہونے یا انتظامی ہدایات کی بنیاد پر کیا گیا ہو۔ مزید یہ کہ اصل ہسٹری شیٹ میں LTV کیٹیگری کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شہری کا بنیادی حق برقرار ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس کیس میں اصل مسئلہ ایک ہی سرکاری ریکارڈ پر دو مختلف اداروں کی متضاد تشریح ہے، جو نہ صرف انتظامی کمزوری بلکہ ڈیجیٹل گورننس اور ریکارڈ مینجمنٹ کے نظام میں موجود خلا کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایک سرکاری دستاویز کو برسوں تک درست تسلیم کیا جائے اور بعد میں بغیر واضح قانونی طریقہ کار کے اسے مسترد کر دیا جائے تو یہ اصولِ انصاف اور “حقِ سماعت” جیسے بنیادی آئینی تقاضوں سے متصادم ہو سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ایک عام شہری ہے، جو دو سرکاری محکموں کے درمیان اس تنازع کا براہِ راست خمیازہ بھگت رہا ہے اور گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل غیر یقینی صورتحال، مالی نقصان اور پیشہ ورانہ رکاوٹوں کا سامنا کر رہا ہے۔
