Skip to content

ثالثی کی معیشت: مصر کا تجربہ اور پاکستان کا امتحان

شیئر

شیئر

تحریر : ذیشان ہاشم

ہمارے اس عالمی نظام میں بعض اوقات وہ ممالک غیر معمولی اہمیت حاصل کر لیتے ہیں جو متحارب فریقوں کے درمیان ثالثی کا قابلِ اعتماد کردار ادا کر سکیں۔ ایسی ثالثی ریاستوں، متحارب گروہوں اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہو سکتی ہے۔ بظاہر یہ ایک اخلاقی ذمہ داری لگتی ہے (جو ہونی بھی چاہئے )، مگر درحقیقت اس کے ساتھ سیاسی وقار اور معاشی فوائد بھی جڑے ہوتے ہیں ، اگرچہ یہ سیاسی و معاشی فوائد حتمی نہیں ۔ بعض اوقات یہ ثالثی معیشت کو کمزور بھی کر سکتی ہے اور آمریت کو مضبوط بھی – مثال کے طور پر یہ بیرونی امداد پر انحصار بڑھا سکتی ہے، اور سٹیٹس کو کے اقتدار کو مظبوط بھی کر سکتی ہے۔

مصر اس کی سب سے بڑی مثال ہے جہاں کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد اس کے بطور ثالث کردار نے اسے معاشی طور پر مظبوط نہیں کیا ہاں مگر اس کے مقتدر طبقات کو یقینا اس سے بہت فائدہ ہوا ہے —اس تحریر کا مقصد ان خدشات کو پاکستان کے تناظر میں پیش کرنا ہے کہ اگر پاکستان کا بطور ریجنل ثالث کردار مظبوط ہوتا ہے تو اس سے پاکستان معاشی فائدہ اٹھا سکتا ہے یا نہیں ۔

سب سے پہلے یہ سمجھتے ہیں کہ ثالث بننے کے فائدے کیا ہیں : اس سے ایک ملک کی عالمی حیثیت بڑھ جاتی ہے۔ ناروے، قطر اور عمان جیسے ممالک نے اس کردار کے ذریعے اپنی اصل طاقت سے کہیں زیادہ بین الاقوامی اثر قائم کیا ہے ۔ ناروے نے اوسلو معاہدوں کے بعد خود کو عالمی سطح پر ایک معتبر امن دوست ثالث کے طور پر منوایا اور اس سے اس کا سوفٹ پاور کا اثر مظبوط ہوا – قطر نے افغانستان، غزہ اور سوڈان میں ثالثی کے ذریعے نہ صرف سفارتی مفادات حاصل کئے بلکہ امریکہ سے دفاعی ایگریمنٹ بھی کئے جو اگرچہ اسے اب کوئی خاص فائدہ نہیں دے رہے ۔ معاشی لحاظ سے ثالثی کئی طرح کے فائدے لا سکتی ہے، مثلاً:

  • بین الاقوامی مالی امداد زیادہ مل سکتی ہے اور قرضے نرم اور آسان شرائط پر مل سکتے ہیں – مثال کے طور پر پاکستان آئی ایم ایف سے بہتر ڈیل لے سکتا ہے –
  • بین الاقوامی پابندیوں میں لچک حاصل ہو سکتی ہے یوں پاکستان ایران سے گیس لے سکے گا یہ تاثر دے کر کہ پاکستان بطور ثالث ایران کے ساتھ مسلسل انگیج رہنا چاہتا ہے
  • سرمایہ کاری کے بہتر مواقع مل سکتے ہیں سعودی عرب سے خاص طور پر –
    پاکستان کا بطور ایک سوفٹ پاور اچھا تاثر دنیا میں جا سکتا ہے اس سے –
  • کلچر اور ٹورازم کی پروموشن میں مدد مل سکتی ہے اور پاکستانی شہری دنیا میں جہاں بھی ہیں ان کی عزت اور وقار میں اضافہ ممکن ہے –
  • بیرونی دباؤ یعنی انڈیا اور افغانستان کے خلاف ایک حفاظتی ڈھال مل سکتی ہے اور پاکستان بین الاقوامی فورم پر ایک مؤثر آواز بن سکتا ہے –

اس کے پوشیدہ نقصانات بھی ہیں یہ اس پر منحصر ہے کہ ثالثی کے ذریعے ملنے والی مراعات جو زیادہ تر باہر سے آتی ہیں وہ کہاں خرچ ہوتی ہیں ۔ اگر یہ وسائل طاقتور طبقوں یا سکیورٹی اداروں تک محدود رہیں تو ثالثی کرپشن کو مظبوط کرتی ہے اور سول اداروں کو کمزور کرتی ہیں ۔

ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ ریاست ایک خاص کردار میں قید ہو جاتی ہے۔ جب دنیا کسی ملک کو صرف اس بنا پر اہم سمجھے کہ وہ دوسروں کے تنازعات سنبھال رہا ہے، تو پھر عالمی نظام کے بڑے ایکٹر آپ کی پولیٹیکل اکانومی کو ویسے کا ویسا رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ یوں ثالثی رفتہ رفتہ بیرونی سرپرستی میں چلنے والی حکمرانی کی شکل اختیار کر سکتی ہے اور جو بھی سٹیٹس کو اس ملک میں ہوتا ہے وہی مستحکم ہوتا ہے ۔

آپ جہاں زیادہ دوست بناتے ہو وہاں دشمنوں کی تعداد بھی بڑھ سکتی ہے جیسے پاکستان کے موجودہ ثالثی کے کردار کے بعد جہاں دوست ممالک بڑھے ہیں وہیں اسرائیل سے پاکستان کے تعلقات زیادہ خراب ہوئے ہیں جو مستقبل میں مسائل کا سبب بن سکتے ہیں –

کن ممالک نے توازن رکھا؟
ناروے اس جال میں نہیں پھنسا کیونکہ وہاں پہلے ہی مضبوط ریاست اور جمہوریت موجود تھی۔ قطر نے ثالثی کو اپنی معیشت، سرمایہ کاری اور تنوع کے ساتھ جوڑا، اور اسے آمدنی کے بجائے ایک فارن پالیسی کے ٹول کے طور پر استعمال کیا۔ عمان نے بھی ثالثی کا سہارا صرف اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے لیا، نہ کہ بطور معاشی ماڈل کے ۔ ان مثالوں میں ایک بات مشترک تھی: ثالثی نے ریاست کو مضبوط کیا، اس کی جگہ نہیں لی۔ دوسرا یہ ریاستیں پہلے ہی معاشی طور پر مظبوط تھیں یوں ثالثی سے آنے والی مراعات انکی معیشت کے کل حجم کے مقابلے میں نہایت قلیل تھی –

مگر ایک مثال ایسی ہے جو الارمنگ ہے وہ ہے مصر جس کی پولیٹیکل اکانومی پاکستان کی پولیٹیکل اکانومی سے کافی ملتی ہے -کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد مصر کو بہت زیادہ امریکی امداد اور خاص طور پر فوجی معاونت ملی (مصر کو 1946 سے 2025 تک امریکہ سے کل 90 ارب ڈالر امداد ملی ہے جس کا بڑا حصہ 1979 کے بعد (Camp David معاہدے کے بعد) ملا … اس امداد میں فوجی امداد (FMF): تقریباً 53–55 ارب ڈالر تھی اور باقی معاشی امداد تھی خلیجی ممالک (خصوصاً سعودی عرب + UAE + کویت) کی مجموعی مدد مصر کو اب تک تقریبا 115 ارب ڈالر ہے ) جس کے نتیجے میں: ریاستی جبر مضبوط ہوا ہے ، معیشت میں انڈسٹریالائزیشن کے بجائے بیرونی امداد پر مستقل انحصار پیدا ہوا ہے اور خارجہ پالیسیز بیرونی امداد حاصل کرنے کا مستقل ذریعہ بن گئی ہیں – امریکہ ،اسرائیل اور خلیجی ممالک کی بھی پوری ترجیح میں یہ شامل ہو گیا کہ مصر میں ان کی مرضی کی حکومت قائم رہے یوں مصر وہ کردار ادا کرتا رہے جو یہ ممالک چاہتے تھے خاص طور پر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بطور ثالث امن قائم کرنے والا – یوں ثالثی نے مصری ریاست اشرافیہ اور فوج کو تو مستحکم کیا ، مگر معیشت کی بنیادی ساخت نہ بدل سکی اور نہ سول ادارے مستحکم ہو سکے ۔

کیا پاکستان بھی اسی راستے پر جا سکتا ہے؟
پاکستان میں پہلے ہی کچھ ایسی کمزوریاں موجود ہیں جو اسے مصر جیسا ظاہر کرتی ہیں: بیرونی وسائل و امداد پر ملکی معیشت کا انحصار ، کمزور ٹیکس نظام اور معیشت ، کم تر درجے کی انڈسٹریالائزیشن ، انتہائی طاقتور فوج ، خارجہ پالیسی میں اکنامک پالیسیز کے بجائے سکیورٹی پالیسیز کا غلبہ ، اسٹریٹجک فوائد کی مد میں رینٹ کی جستجو کرنے والی معیشت (رینٹیر اسٹیٹ ) اور کمزور سول ادارے –

اگر امریکہ و ایران کے درمیان ثالثی کے بدلے پاکستان کو مالی سہولتیں تو ملتی ہیں ، مگر معاشی اصلاحات نہیں ہوتیں ، تو خدشہ ہے کہ ہم بھی اسی جال میں پھنس جائیں گے جس میں مصر پھنسا—جہاں عالمی مفادات ملک میں سیاسی جواب دہی یعنی جمہوریت پر حاوی ہو گئی۔

پاکستان اس انجام سے بچ سکتا ہے، مگر صرف اس صورت میں جب ثالثی کو ایک سیاسی و سفارتی فائدہ سمجھا جائے نہ کہ مستقل کمائی کا ذریعہ ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ خارجہ پالیسی پر سول حکومت کی واضح گرفت ہو اور دنیا کے ساتھ بہترین معاشی تعلقات ٹریڈ کی مد میں قائم کئے جائیں – ثالثی سے جڑی مالی مراعات عوام تک پہنچیں اور وسائل کو معاشی اصلاحات پر خرچ کیا جائے اور اس سے صنعت کاری کو فروغ ملے – ٹیکس نظام کو بہتر بنایا جائے اور سول ادارے مظبوط ہوں وگرنہ کوئی ملک اب تک محض ثالثی ادا کرنے والے ملک کا کردار ادا کر کے امیر نہیں بنا –

خلاصہ کلام یہ کہ ثالثی معاشی میدان میں بذاتِ خود نہ اچھی ہے نہ بری—یہ صرف ایک ذریعہ ہے کہ کیسے اس سے بہتر فائدے حاصل کئے جا سکتے ہیں ۔ اگر اسے درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو سفارتی اثر و رسوخ بڑھاتی ہے، غلط ہاتھوں میں پڑ جائے تو مصر جیسی رینٹیر اسٹیٹ بناتی ہے۔ پاکستان کو ثالثی کا کرداد ضرور ادا کرنا چاہئے کہ اس میں ہم سب کی عزت ہے اور اخلاقی ذمہ داری بھی ، اس خطے کا اس میں تحفظ بھی ہے مگر اسے گیم چینجر سمجھنا ویسی ہی غلطی ہو گی جیسے کسی زمانے میں سی پیک کو سمجھا گیا تھا –

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں