Skip to content

چیٹ جی پی ٹی کی تحریروں میں نادیدہ واٹر مارک شامل کرے گا، اوپن اے آئی

شیئر

شیئر

اوپن اے آئی نے اپنے مقبول مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی اور پروگرامنگ ایجنٹ کوڈیکس سے تیار ہونے والی تحریروں میں نادیدہ واٹر مارک شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا مقصد مشینوں کو یہ شناخت کرنے میں مدد دینا ہے کہ کوئی تحریر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کی گئی ہے یا نہیں۔

اوپن اے آئی نے 5 اکتوبر کی شب بتایا کہ یورپی یونین کے ممالک میں اے آئی سے تیار ہونے والی تحریروں کی واٹر مارکنگ لازمی ہوگی، جبکہ دنیا کے دیگر خطوں میں یہ سہولت اختیاری طور پر دستیاب ہوگی۔

کمپنی کے مطابق لارج لینگوئج ماڈلز (ایل ایل ایمز) تحریر تیار کرتے ہوئے ایک وقت میں اگلے لفظ کا انتخاب کرتے ہیں۔ نئے نظام میں اسی عمل کو استعمال کرتے ہوئے متن میں ایسے نادیدہ نشانات شامل کیے جائیں گے جو عام قاری کو نظر نہیں آئیں گے، تاہم مخصوص ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کی شناخت ممکن ہوگی۔

اوپن اے آئی کے مطابق اس مقصد کے لیے ٹیکسٹ گرین (TextGreen) نامی ٹیکسٹ واٹر مارکنگ سسٹم استعمال کیا جائے گا، جس سے اے آئی ڈیٹیکشن ٹولز کو کسی تحریر کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے کا تعین کرنے میں مدد ملے گی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹ واٹر مارکنگ کا فیچر یورپی یونین کے ممالک میں چیٹ جی پی ٹی اور کوڈیکس کے منتخب ماڈلز میں آئندہ چند ہفتوں کے دوران متعارف کرایا جائے گا۔

اسی طرح دنیا بھر میں منتخب ماڈلز کے اے پی آئی صارفین کو بھی یہ سہولت فراہم کی جائے گی، تاہم یورپی یونین سے باہر یہ فیچر بطور ڈیفالٹ اختیاری ہوگا۔

اوپن اے آئی کے مطابق واٹر مارکنگ سے متعلق یہ ٹول محققین اور ماہرین کے لیے دستیاب ہوگا، تاکہ وہ اے آئی سے تیار کردہ مواد کی شناخت کے طریقوں پر مزید تحقیق کرسکیں۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں