مانسہرہ: بٹل تھانے میں پولیس حراست کے دوران مبینہ تشدد سے زخمی ہونے والے نوجوان محمد شبیر کے حوالے سے دعویٰ سامنے آیا ہے کہ وہ 30 ستمبر 2026 سے کنگ عبداللہ ہسپتال کے یورالوجی وارڈ میں زیرعلاج ہے، تاہم ہسپتال کے ریکارڈ میں اسے گزشتہ پانچ روز سے ڈسچارج ظاہر کیا جا رہا ہے۔
محمد شبیر ولد محمد اشرف کو پولیس حراست میں مبینہ تشدد کے بعد عدالت کے حکم پر کنگ عبداللہ ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ متاثرہ نوجوان کے اہلخانہ کے مطابق تشدد کے باعث وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہے اور اسے گردوں سے متعلق بھی شکایات ہیں۔
ذرائع کے مطابق 30 ستمبر کو ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے ایم ایس کنگ عبداللہ ہسپتال کو ہدایت کی تھی کہ پولیس تشدد سے زخمی نوجوان کا تفصیلی طبی معائنہ کرکے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔
متاثرہ نوجوان کے مطابق وہ اب بھی یورالوجی ڈیپارٹمنٹ میں موجود اور زیرعلاج ہے، تاہم متعلقہ ڈاکٹر کی جانب سے ہسپتال ریکارڈ میں اسے ڈسچارج ظاہر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب نیورولوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈاکٹر محمد نزیر علوی نے مبینہ طور پر نوجوان کی حالت تشویش ناک قرار دیتے ہوئے ہسپتال میں زیرعلاج رہنے کی ہدایت کی ہے۔
میڈیا اور انسانی حقوق کی ٹیم کا ہسپتال کا دورہ
میڈیا اور پولیس حراست میں مبینہ تشدد کے متاثرین کے لیے کام کرنے والے ادارے کی ٹیم نے کنگ عبداللہ ہسپتال کا دورہ کیا اور یورالوجی ڈیپارٹمنٹ میں زیرعلاج محمد شبیر اور اس کے بھائی محمد رفاقت سے ملاقات کی۔
ٹیم کے مطابق ملاقات کے دوران محمد شبیر اور اس کے بھائی سے پولیس حراست اور مبینہ تشدد سے متعلق تفصیلات معلوم کی گئیں۔ ٹیم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ نوجوان اور اس کے اہلخانہ کو بیڈ خالی کرکے گھر جانے کی ترغیب دی جا رہی تھی۔
ٹیم کے مطابق متعلقہ ڈاکٹر نے بھی اس معاملے پر اپنا مؤقف بیان کیا، تاہم ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے باقاعدہ تحریری مؤقف سامنے نہیں آیا۔
بعد ازاں ٹیم نے متاثرہ نوجوان کے وکیل کے دفتر جاکر اس کے والد محمد اشرف سے بھی ملاقات کی اور کیس سے متعلق معلومات حاصل کیں۔
ماہرین: طبی ریکارڈ کی اہمیت نظرانداز نہیں کی جا سکتی
میڈیکولیگل ماہرین کے مطابق ایسے مقدمات میں مریض کی طبی حالت، علاج، داخلے اور ڈسچارج سے متعلق ریکارڈ قانونی کارروائی میں اہمیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر زیرعلاج شخص کو ریکارڈ میں ڈسچارج ظاہر کیا گیا ہو تو اس معاملے کی وضاحت ضروری ہے، کیونکہ طبی ریکارڈ مقدمے کی تفتیش اور عدالتی کارروائی کا حصہ بن سکتا ہے۔
ہسپتال انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش
ہزارہ ایکسپریس نیوز کی ٹیم نے ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف جاننے کے لیے ایم ایس کنگ عبداللہ ہسپتال ڈاکٹر جواد مجید سواتی کے دفتر سے رابطہ کیا، تاہم وہ موجود نہیں تھے۔
ایم ایس کے پی ایس راجہ ظہور کے مطابق ڈاکٹر جواد مجید سواتی ڈپٹی کمشنر آفس گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے ٹیم کو ڈی ایم ایس ڈاکٹر امجد سے رابطہ کرنے کا کہا، تاہم وہ بھی دفتر میں موجود نہیں تھے۔
فون پر رابطے کے دوران ڈاکٹر امجد نے بتایا کہ وہ ایک شادی کی تقریب میں موجود ہیں اور ڈاکٹر الیاس قریشی سے رابطہ کرنے کا کہا۔ ڈاکٹر الیاس قریشی سے رابطے پر ٹیم کو بتایا گیا کہ معاملے سے متعلق معلومات کے لیے تحریری درخواست جمع کرائی جائے، جس کے بعد تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔
اس طرح خبر کی اشاعت تک ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے نوجوان کو ریکارڈ میں ڈسچارج ظاہر کیے جانے اور اس کے باوجود ہسپتال میں موجود رہنے سے متعلق کوئی تفصیلی تحریری مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
