Skip to content

والدین — وہ جنت جہاں دل اپنے سارے دکھ رکھ آتا ہے

شیئر

شیئر

تحریر : راشد خان سواتی

مصروفیت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں جب کبھی دل اداس ہو جائے، جب دنیا کی بھیڑ میں انسان خود کو تنہا محسوس کرنے لگے، تو اچانک اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سب سے خوبصورت نعمتوں میں سے ایک نعمت یاد آتی ہے۔۔۔ والدین۔

چھٹیاں ذرا زیادہ ہوں تو دل خود بخود والدین کے گھر کا رخ کرتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے بچوں سمیت کسی ایسی نگری میں داخل ہونے جا رہے ہوں جہاں خوشیاں، پیار، محبت، دعائیں اور احساس ہمارا انتظار کر رہے ہوں۔ لیکن وہاں پہنچ کر ایک عجیب حقیقت کا احساس ہوتا ہے کہ ہم تو شاید انہیں ملنے آئے تھے، مگر وہ ہم سے بھی زیادہ بے صبری سے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔

والدین کی زندگی کا شاید ہر لمحہ اولاد کے نام لکھا ہوتا ہے۔

ہم اپنی مصروفیات میں الجھے رہتے ہیں۔ عام حالات میں فون کرنے کا بھی وقت نہیں ملتا۔ کبھی فون کریں بھی تو اپنی کسی ضرورت، کسی کام یا کسی غرض سے۔ لیکن جب زندگی کوئی مشکل سامنے رکھ دیتی ہے، دکھ گھیر لیتا ہے، بیماری پریشان کرتی ہے یا کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو سب سے پہلے ہاتھ فون کی طرف جاتا ہے۔

کبھی ماں ہلکے سے شکوے کے انداز میں کہہ دیتی ہے:

"بیٹا! اب تو فون بھی نہیں کرتے۔”

اور ہم، شاید شرمندگی چھپانے کے لیے، ایک چھوٹا سا جھوٹ بول دیتے ہیں:

"امی! میں نے تو فون کیا تھا، آپ نے اٹھایا نہیں۔”

ماں ہماری بات کو بھی سچ مان لیتی ہے:

"اچھا بیٹا، شاید میرے فون کی گھنٹی خراب تھی، اس لیے مجھے پتا نہیں چلا۔”

بس۔۔۔ اتنا سا جواب۔

نہ سوال، نہ گلہ، نہ شکایت۔

پھر ہم اپنے دکھڑے سنانے لگتے ہیں اور ماں اس طرح سنتی ہے جیسے ہماری زندگی کے ہر مسئلے کی اسے پہلے ہی خبر ہو۔ ہماری باتوں میں چھپی پریشانی کو ہماری زبان سے پہلے محسوس کر لیتی ہے۔ تسلی دیتی ہے، دعا دیتی ہے اور فکر کرتی ہے۔

ہم پوچھتے ہیں:

"امی! آپ کی طبیعت کیسی ہے؟”

جواب آتا ہے:

"میں ٹھیک ٹھاک ہوں، بیٹا۔”

ابو کے بارے میں پوچھیں تو بھی یہی جواب ملتا ہے:

"وہ بھی ٹھیک ہیں۔”

مگر کبھی اسی گفتگو میں ماں کی آواز میں ہلکا سا اندیشہ محسوس ہوتا ہے:

"بیٹا، ابو کی وہ دوائیاں جو تم نے بھیجی تھیں، اب ختم ہونے والی ہیں۔”

حالانکہ دل جانتا ہے کہ شاید وہ دوائیاں کب کی ختم ہو چکی ہوں گی۔

لیکن پھر بھی۔۔۔
نہ شکوہ، نہ شکایت۔

یہ والدین ہوتے ہیں۔

ہم انہیں اپنے دکھ نہیں بتانا چاہتے کہ کہیں وہ پریشان نہ ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ انہیں دنیا کا ہر سکون دیں، ہر خوشی دیں، ہر لمحہ اطمینان دیں۔ ہم فون پر صرف "سب اچھا ہے” کی رپورٹ دینا چاہتے ہیں۔

لیکن حیرت ہے کہ ہم اپنے دکھ چھپا بھی لیں تو ان سے چھپتے نہیں۔

ہماری آواز کا ایک اتار، ایک خاموشی، ایک معمولی سا وقفہ۔۔۔ اور ماں جان لیتی ہے کہ بیٹا اندر سے ٹھیک نہیں۔

شاید اللہ تعالیٰ نے والدین کو یہی عجیب صلاحیت عطا کی ہے کہ اولاد کے کہے بغیر بھی اولاد کے دل کا حال پڑھ لیتے ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہم والدین کے لیے کچھ کریں گے، ان کے دکھ بانٹیں گے، ان کی زندگی آسان بنائیں گے، انہیں خوشیاں دیں گے۔

لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ زندگی بھر وہی ہمارے لیے کرتے رہتے ہیں۔

ہم گرنے سے پہلے ہمیں سنبھالتے ہیں، ہم تھکنے سے پہلے ہمیں سہارا دیتے ہیں، ہم مانگنے سے پہلے ہمارے لیے دعا کرتے ہیں اور ہم اپنے دکھ چھپانے کی کوشش کریں تو بھی انہیں محسوس ہو جاتے ہیں۔

سوچتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں۔ مال، اولاد، صحت، گھر، عزت، دوست، کامیابیاں۔۔۔ مگر ان سب نعمتوں کے درمیان والدین کی نعمت شاید سب سے عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔

اور ماں۔۔۔!

ماں تو واقعی جنت کا عکس ہے۔

اس کے پاس بیٹھ کر انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ دنیا ابھی بھی خوبصورت ہے۔ اس کی آواز میں ایسی تسلی ہے جو بڑے سے بڑے دکھ کو چھوٹا کر دیتی ہے۔ اس کے ہاتھ کی دعا میں ایسا سکون ہے جو کسی دوا، کسی دولت اور کسی دنیاوی آسائش میں نہیں۔

شاید اللہ تعالیٰ نے والدین کا گھر اسی لیے بنایا ہے کہ انسان دنیا کے ہنگاموں سے تھک کر وہاں جا سکے، اپنے سارے دکھ دروازے کے باہر رکھ دے، ماں کی آغوش میں چند لمحے بیٹھے، باپ کی موجودگی کا اطمینان محسوس کرے اور پھر کچھ دیر کے لیے اس جنت سے لطف اندوز ہو سکے۔

کتنی عجیب بات ہے کہ ہم سمجھتے ہیں ہم والدین کے گھر جا رہے ہیں۔۔۔
حقیقت میں ہم اپنے بچپن، اپنی دعاؤں، اپنی بے فکری اور اپنی جنت کی طرف واپس جا رہے ہوتے ہیں۔

اس لیے اگر والدین زندہ ہیں تو ان سے ملنے کے لیے کسی خاص موقع کا انتظار نہ کریں۔

کبھی بلاوجہ فون کر لیں۔
کبھی صرف ان کی آواز سن لیں۔
کبھی پوچھ لیں: "امی، آج آپ نے کھانا کیا کھایا؟”
کبھی ابو کے پاس خاموش بیٹھ جائیں۔

کیونکہ ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب فون ہماری جیب میں ہوتا ہے، نمبر ہمارے پاس ہوتا ہے، دل میں باتیں بھی بہت ہوتی ہیں۔۔۔ مگر دوسری طرف سے "ہیلو بیٹا” کہنے والی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی ہوتی ہے۔

اور پھر انسان کو احساس ہوتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی دولت شاید وہ تھی جسے ہم مصروفیت کے نام پر بار بار مؤخر کرتے رہے۔

والدین صرف رشتہ نہیں، اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت ہیں جس کی موجودگی میں انسان کو دنیا میں بھی جنت کا احساس ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے والدین کو صحت، عافیت، لمبی عمر اور اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے، اور جن کے والدین دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، ان کی قبروں کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں