تحریر: کِنزا نیاز
زندگی ہمیشہ ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلتی۔ کبھی ایک معمولی سا واقعہ انسان کے اندر ایسا خوف پیدا کر دیتا ہے جو بظاہر چھوٹا ہوتا ہے، لیکن آہستہ آہستہ ہماری روزمرہ زندگی، سوچ اور معمولات کو متاثر کرنے لگتا ہے۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
میں یونیورسٹی میں تھی۔ ایک دن معمول کے مطابق میں نے چپس کھائیں، لیکن اچانک میری طبیعت خراب ہوگئی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کھانا گلے میں پھنس گیا ہو اور میری سانس رک رہی ہو۔ وہ لمحہ میرے لیے انتہائی خوفناک تھا۔ اگرچہ وہ واقعہ گزر گیا، لیکن اس کا خوف میرے ذہن میں رہ گیا۔اس واقعے کے بعد میرے اندر کھانے سے متعلق شدید خوف پیدا ہوگیا۔ جب بھی میں کچھ کھانے لگتی تو میرے ذہن میں یہی خیال آتا کہ کہیں دوبارہ کھانا نہ پھنس جائے، کہیں میری سانس نہ رک جائے۔
یہ خوف اتنا بڑھ گیا کہ کھانا میرے لیے خوشی نہیں بلکہ پریشانی بن گیا۔رفتہ رفتہ میں نے کھانے پینے سے بھی گریز کرنا شروع کردیا۔ کئی ماہ تک میرے لیے معمول کے مطابق کھانا کھانا انتہائی مشکل رہا۔ ہر نوالے کے ساتھ خوف اور گھبراہٹ محسوس ہوتی۔
بظاہر میرے سامنے کھانا موجود ہوتا، لیکن میرے ذہن میں صرف ایک ہی خیال چل رہا ہوتا کہ ’’اگر دوبارہ ایسا ہوگیا تو؟‘‘یہ کیفیت میرے لیے آسان نہیں تھی۔
یونیورسٹی، روزمرہ زندگی اور دوسری ذمہ داریوں کے ساتھ اس خوف کا سامنا کرنا میرے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا۔ مجھے احساس ہوا کہ جسمانی تکلیف سے زیادہ بعض اوقات ذہن کا خوف انسان کو کمزور کر دیتا ہے۔
میں نے اس صورتحال سے نکلنے کے لیے مدد حاصل کی۔ مختلف سیشنز کیے، اپنی سوچ کو سمجھنے کی کوشش کی اور میڈیٹیشن کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔ میں نے مسلسل تقریباً ایک سال تک میڈیٹیشن جاری رکھی۔ یہ سفر فوری طور پر آسان نہیں ہوا، لیکن آہستہ آہستہ میں نے اپنے خوف کا سامنا کرنا سیکھا۔
میں نے یہ سمجھنا شروع کیا کہ ہر خوف حقیقت نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ایک برا تجربہ ہمارے ذہن میں اتنا گہرا اثر چھوڑ دیتا ہے کہ ہم ہر اگلے لمحے کو اسی تجربے کے ساتھ جوڑنے لگتے ہیں۔ لیکن زندگی کو ایک ہی واقعے کے گرد محدود نہیں کیا جا سکتا۔
آج الحمدللہ، میں پہلے سے بہت بہتر ہوں۔ کبھی کبھار مشکل لمحے آتے ہیں، گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے یا پرانا خوف یاد آجاتا ہے، لیکن اب میں اسے اپنی زندگی پر حاوی نہیں ہونے دیتی۔ میں نے سیکھا ہے کہ بہتری کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی میں کبھی مشکل احساس واپس نہیں آئے گا؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم ان احساسات کے باوجود اپنی زندگی کو آگے بڑھاتے رہیں۔
میرا یہ تجربہ مجھے ایک بہت اہم سبق دے گیا: زندگی میں حادثات اور مشکل واقعات آتے رہتے ہیں، لیکن ہمیں انہیں اپنی پوری زندگی کا فیصلہ نہیں بننے دینا چاہیے۔ایک واقعہ ہماری زندگی کا صرف ایک حصہ ہو سکتا ہے، پوری زندگی نہیں۔
گر آپ بھی کسی خوف، گھبراہٹ یا کسی مشکل تجربے کے اثرات سے گزر رہے ہیں تو خود کو تنہا نہ سمجھیں۔ مدد لینا کمزوری نہیں بلکہ اپنے آپ کو بہتر بنانے کی طرف ایک قدم ہے۔ اپنے مسئلے کو سمجھیں، ضرورت پڑنے پر ماہر سے مدد لیں، صبر کریں اور خود کو وقت دیں۔میری اپنی کہانی بھی یہی بتاتی ہے کہ انسان مشکل وقت سے گزر سکتا ہے، ٹوٹ بھی سکتا ہے، ڈر بھی سکتا ہے، لیکن دوبارہ سنبھل بھی سکتا ہے۔
آج میں اپنے ماضی کو دیکھتی ہوں تو مجھے صرف اپنا خوف نظر نہیں آتا، بلکہ وہ سفر بھی نظر آتا ہے جس نے مجھے پہلے سے زیادہ مضبوط بنایا۔میرا پیغام صرف اتنا ہے: زندگی میں آنے والے کسی ایک حادثے یا خوف کو اپنی پوری زندگی پر حاوی نہ ہونے دیں۔ خوف کو اپنی شناخت نہ بننے دیں۔ قدم آہستہ ہو سکتے ہیں، لیکن سفر جاری رہنا چاہیے۔اور الحمدللہ، میں آج بھی اسی سفر پر ہوں۔
