لاہور: 34 سالہ پاکستانی ڈاکٹر اور کوہ پیما اسما مشتاق قراقرم میں واقع 7 ہزار 27 میٹر بلند اسپینٹک چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران بلند پہاڑی مقام پر طبی پیچیدگیوں کے باعث انتقال کرگئیں۔
اسما مشتاق کا تعلق لاہور سے تھا اور وہ برطانیہ میں گائناکالوجی اور آبسٹیٹرکس کے شعبے سے وابستہ تھیں۔ ڈاکٹر ہونے کے ساتھ وہ سفر، وی لاگنگ اور کوہ پیمائی کا بھی شوق رکھتی تھیں اور مختلف پہاڑی مہمات میں حصہ لے چکی تھیں۔
20 اگست 2026 کو اسما مشتاق نے پانچ پاکستانی خواتین پر مشتمل ٹیم کے ہمراہ اسپینٹک کی چوٹی کامیابی سے سر کی۔ ٹیم میں زونی اسلم، زابا شگری، شاما اور سوہانا بھی شامل تھیں۔
تاہم چوٹی سر کرنے کے بعد تقریباً 6 ہزار 400 میٹر کی بلندی پر واپسی کے دوران اسما کو شدید ہائی آلٹی ٹیوڈ سِکنیس کا سامنا کرنا پڑا۔ آکسیجن کی کمی کے باعث ان کی حالت تشویشناک ہوگئی۔
بلندی پر طبیعت خراب ہونے کا مسئلہ پہلے بھی پیش آچکا تھا
ٹورسٹ گائیڈ سہیل خان کے مطابق اسما مشتاق کو زیادہ بلندی پر طبیعت خراب ہونے کا مسئلہ پہلے بھی پیش آچکا تھا اور وہ خود اس کے چشم دید گواہ ہیں۔
سہیل خان نے بتایا کہ ایک مرتبہ تقریباً 14 ہزار فٹ بلند چرکو پیک پر واپسی کے دوران اسما مکمل طور پر بے ہوش ہوگئی تھیں۔ سخت سردی کے باعث حالات انتہائی مشکل تھے، تاہم سہیل خان اور قیصر نے کوشش کرکے انہیں تقریباً 10 ہزار فٹ کی بلندی تک نیچے منتقل کیا، جہاں آگ جلا کر انہیں دوا اور خوراک دی گئی، جس کے بعد ان کی حالت سنبھلی۔
ان کے مطابق دوسری مرتبہ سکائی سر سے واپسی کے دوران بھی اسما کی طبیعت خراب ہوئی اور وہ شدت سے کانپ رہی تھیں، تاہم اس بار بھی انہیں اسی روز تقریباً ساڑھے 10 ہزار فٹ کی بلندی تک بحفاظت نیچے لایا گیا۔
سہیل خان کا کہنا تھا کہ ان واقعات کے بعد انہیں یقین ہوگیا تھا کہ اسما کو زیادہ بلندی پر طبی مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسما کے اہل خانہ کے بعد شاید ہی کوئی شخص انہیں ان سے زیادہ جانتا ہو، خصوصاً پہاڑوں میں ان کی طبیعت اور انہیں درپیش مشکلات کے حوالے سے۔
سہیل خان نے اسما کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بے حد تعاون کرنے والی، باادب اور منظم لڑکی تھیں، جن میں غرور اور تکبر نام کو بھی نہیں تھا۔
ماؤنٹین گائیڈ اکبر علی اور ایکسپیڈیشن گائیڈ محمد امین نے بھی اسما کو بچانے کی بھرپور کوشش کی اور مشکل ترین حالات میں آخری وقت تک ان کے ساتھ رہے، تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
اسما مشتاق اس سے قبل موسم سرما میں 4 ہزار 76 میٹر بلند موسیٰ کا مصلیٰ بھی سر کر چکی تھیں جبکہ رُوپل اور ارندو سمیت دیگر مہمات میں بھی حصہ لے چکی تھیں۔
2024 میں انہوں نے کے ٹو مہم کے لیے اسپانسرشپ کی تلاش کے دوران خود کو مختصراً ’’ڈاکٹر اور کوہ پیما‘‘ کے طور پر متعارف کرایا تھا۔
اسما مشتاق کی زندگی طب، سفر اور کوہ پیمائی کے شوق کا خوبصورت امتزاج تھی۔ ان کی المناک موت نے اہل خانہ، دوستوں اور کوہ پیمائی سے وابستہ افراد کو گہرے صدمے سے دوچار کردیا ہے۔

