Skip to content

گوگل کا پاکستانی خاندانوں کے ڈیجیٹل تحفظ کے لیے 5 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

شیئر

شیئر

اسلام آباد: گوگل نے پاکستانی خاندانوں کو انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال میں مدد دینے کے لیے 5 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کردیا ہے۔ اس رقم سے ڈیجیٹل پاسبان پروگرام کے تحت 2 لاکھ گھرانوں کو ڈیجیٹل تحفظ کے حوالے سے تربیت اور ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

گوگل کے مطابق گوگل ڈاٹ او آر جی کی جانب سے فراہم کی جانے والی اس رقم سے 2 لاکھ گھرانوں کو اردو زبان میں ڈیجیٹل سیفٹی ٹول کٹس، ویڈیوز اور والدین کے لیے تربیتی ورکشاپس فراہم کی جائیں گی۔

پروگرام کا مقصد بچوں اور بڑوں کو آن لائن خطرات سے نمٹنے، محفوظ انٹرنیٹ عادات اپنانے اور ڈیجیٹل دنیا میں درپیش خطرات کو بہتر انداز میں سمجھنے کے قابل بنانا ہے۔

گوگل کے نائب صدر برائے پبلک پالیسی ولسن وائٹ نے کہا کہ ڈیجیٹل دنیا وسیع ہے جبکہ اس کے کئی خطرات نظر نہیں آتے۔ انہوں نے سائبر بُلنگ، بچوں کو آن لائن ورغلانے اور نامناسب مواد تک رسائی جیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے والدین اور بچوں میں ڈیجیٹل اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

گوگل کے پاکستان، فلپائن، تھائی لینڈ اور فرنٹیئر مارکیٹس کے کلسٹر ڈائریکٹر فرحان قریشی نے کہا کہ کراچی میں گوگل کا دفتر قائم ہونا عالمی ڈیجیٹل صنعت میں پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور ملک میں مواد تخلیق کرنے والوں، گیم ڈویلپرز، فری لانسرز اور ٹیکنالوجی ماہرین کے لیے وسیع مواقع ہیں۔

دوسری جانب گوگل اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے درمیان بچوں کے آن لائن تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔ معاہدے کے تحت بچوں، والدین، اساتذہ اور نگہداشت کرنے والوں میں ڈیجیٹل تحفظ اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق آگاہی بڑھائی جائے گی۔

پی ٹی اے کے چیئرمین ریٹائرڈ میجر جنرل حفیظ الرحمان نے بتایا کہ پی ٹی اے کو بچوں کو متاثر کرنے والے نامناسب مواد اور منفی آن لائن سرگرمیوں سے متعلق روزانہ تقریباً 500 شکایات موصول ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صرف کارروائی کافی نہیں بلکہ آن لائن خطرات سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ سے جڑے کاروباری مواقع کو محدود نہیں کیا جانا چاہیے، تاہم اس کے منفی پہلوؤں پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں