کبھی سوچا ہے! شہریوں کو کون سی سرکاری خدمات کتنے وقت میں ملنی چاہئیں؟
خیبر پختونخوا میں کسی سرکاری دفتر کے چکر لگانا، ایک معمولی کام کے لیے بار بار نئی تاریخ ملنا اور درخواست کے بارے میں واضح جواب نہ ملنا شہریوں کے لیے عام تجربہ ہے۔ تاہم خیبر پختونخوا رائٹ ٹو پبلک سروسز ایکٹ، یعنی کے پی آر ٹی ایس ایکٹ شہریوں کو یہ حق دیتا ہے کہ قانون کے تحت نوٹیفائیڈ سرکاری خدمات انہیں مقررہ وقت کے اندر فراہم کی جائیں۔
یہ قانون 2014 میں نافذ کیا گیا، جس کا مقصد سرکاری خدمات کی فراہمی میں غیر ضروری تاخیر ختم کرنا، سرکاری اہلکاروں کو جواب دہ بنانا اور شہریوں کو شکایت اور داد رسی کا مؤثر راستہ فراہم کرنا ہے۔
کے پی آر ٹی ایس ایکٹ کیا ہے؟
کے پی آر ٹی ایس ایکٹ کے تحت مختلف سرکاری محکموں کی خدمات کو نوٹیفائی کیا گیا ہے اور ان میں سے ہر سروس کے لیے مقررہ وقت بھی طے کیا گیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ شہری کو صرف یہ معلوم ہونا کافی نہیں کہ اسے کون سی سرکاری سروس حاصل کرنی ہے، بلکہ اسے یہ جاننے کا بھی حق ہے کہ متعلقہ محکمہ وہ سروس کتنے وقت میں فراہم کرنے کا پابند ہے۔
شہریوں کو کون سی خدمات حاصل ہیں؟
کے پی آر ٹی ایس میں مختلف محکموں سے متعلق درجنوں خدمات شامل ہیں۔ ان میں ڈومیسائل، پیدائش و اموات کے سرٹیفکیٹس، نکاح و طلاق سے متعلق خدمات، پولیس سے متعلق خدمات، ڈرائیونگ لائسنس، گاڑیوں کی رجسٹریشن و دیگر ٹرانسپورٹ خدمات، بجلی و پانی سے متعلق خدمات، بلدیاتی خدمات، صحت، صنعت، زراعت اور دیگر سرکاری خدمات شامل ہیں۔مثلاً پولیس سے متعلق درج خدمات میں ایف آئی آر کا اندراج، پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ اور دیگر پولیس سے متعلق درخواستیں شامل ہیں۔
بعض پولیس خدمات کے لیے 7 دن اور بعض کے لیے دیگر مقررہ مدت درج ہے۔اسی طرح ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں HTV اور LTV ڈرائیونگ لائسنس، لائسنس سے متعلق مختلف خدمات اور روٹ پرمٹ سے متعلق خدمات بھی شامل ہیں۔ اور بعض ڈرائیونگ لائسنس خدمات کے لیے 3 دن جبکہ بعض دیگر خدمات کے لیے 1 یا 2 دن کی مدت درج کی گئی ہے۔بلدیاتی شعبے میں بھی شہریوں کے لیے متعدد خدمات شامل ہیں، جن میں تعمیرات، نقشوں، تجاوزات، انہدام اور دیگر میونسپل معاملات سے متعلق خدمات شامل ہیں۔ ان خدمات کے لیے متعلقہ اداروں میں ٹی ایم او، ٹی ایم اے اور دیگر ذمہ دار افسران کا ذکر کیا گیا ہے۔
مقررہ وقت گزر جائے تو کیا ہوگا؟
اگر شہری نے کسی نوٹیفائیڈ سروس کے لیے درخواست دی ہے اور بروشر یا متعلقہ نوٹیفکیشن میں دی گئی مدت گزرنے کے باوجود اسے سروس فراہم نہیں کی جاتی تو شہری کے پاس شکایت درج کرانے کا حق موجود ہے۔ایسی صورت میں شہری رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن (RTPSC) سے رابطہ کرسکتا ہے۔ کمیشن کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ شہری کو اس کا قانونی حق مقررہ وقت میں ملا یا نہیں اور اگر تاخیر ہوئی تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔شکایت کہاں کی جائے؟بروشر کے مطابق کسی بھی شکایت یا رہنمائی کے لیے رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن خیبر پختونخوا سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
مرکزی رابطہ نمبر: 091-9216375بروشر میں کمیشن کی ویب سائٹ www.kprts.gov.pk اور ای میل pschief.rts@kp.gov.pk بھی درج ہے۔
اس کے علاوہ مختلف اضلاع کے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسران (DMOs) کے موبائل اور دفتری نمبرز بھی فراہم کیے گئے ہیں تاکہ شہری اپنے متعلقہ ضلع میں بھی رابطہ کرسکیں۔ مثال کے طور پر مختلف اضلاع کے لیے 0301-8730860، 0317-1173711، 0317-1173710، 0301-8112778 اور دیگر نمبرز درج ہیں۔
شہریوں کے لیے پیغام
کے پی آر ٹی ایس ایکٹ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ شہری کو سرکاری دفتر میں اپنے جائز کام کے لیے غیر ضروری انتظار نہ کرنا پڑے۔ شہری درخواست جمع کرائے، مقررہ طریقہ کار مکمل کرے اور متعلقہ محکمہ قانون میں طے شدہ مدت کے اندر سروس فراہم کرے۔اس لیے شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی درخواست کی رسید یا دیگر ثبوت محفوظ رکھیں، مقررہ مدت سے آگاہ ہوں اور تاخیر کی صورت میں اپنے حق کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کریں۔کیونکہ سرکاری سروس کسی اہلکار کا ذاتی احسان نہیں بلکہ قانون کے تحت شہری کا حق ہے۔
رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن خیبر پختونخوا سے رابطہ: 091-9216375
ویب سائٹ: www.kprts.gov.pk
ای میل: pschief.rts@kp.gov.pk
