تحریر: تابندہ اکرم
سولہ سال کا عثمان اب اس دنیا میں نہیں ہے، وہ کسی بڑے حادثے کا شکار نہیں ہوا تھا بلکہ ایک معمولی چوٹ اور بروقت مواصلاتی رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گیا۔ دو ماہ قبل جب وہ گر کر شدید زخمی ہوا تو اس کے گھر والے موبائل کی سکرین پر سگنل تلاش کرتے رہے لیکن نیٹ ورک غائب تھا، موبائل چارج کرنے کو نہ بجلی تھی اور نہ ہی ایمرجنسی کال کرنے کو نیٹ ورک دستیاب تھا، متبادل انتظام نہ ہونے کی وجہ سے عثمان زندگی کی بازی ہار گیا۔ وادیِ منور کے باسیوں کے لیے یہ ناگہانی موت کوئی پہلا واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا مستقل خوف ہے جو ناران کاغان جیسے عالمی شہرت یافتہ شہروں کے سائے میں بسنے والے وادیِ منور کے شہریوں میں پایا جاتا ہے۔


سیاحوں کی نظروں سے اوجھل مہانڈری کے قریب، ضلع مانسہرہ کی تحصیل بالاکوٹ میں سطحِ سمندر سے 5100 فٹ کی بلندی پر واقع اس وادی کے غیور لوگوں نے کبھی سرکاری امداد کا انتظار نہیں کیا بلکہ اپنی مدد آپ کے تحت زندگی کی گاڑی چلانے کی کوشش کی۔ انجینئر ملک ناصر بتاتے ہیں کہ 2004 کے بعد مقامی لوگوں نے یہاں ہائیڈرو پاور کے متبادل منصوبے شروع کیے، بیاڑی کے مقام پر بڑے ٹربائنز نصب کیے اور مختلف ندی نالوں پر 12 چھوٹے ٹربائنز لگا کر 70 سے زائد گھرانوں کو بجلی فراہم کی گئی۔ 2022 میں جب ان منصوبوں کو اپ گریڈ کیا گیا تو وادی میں معاشی تبدیلی آئی، دکانوں میں فریزر آ گئے اور جیز کیش و ایزی پیسہ جیسی ڈیجیٹل سہولیات سے کاروباری زندگی متحرک ہو گئی۔

لیکن یہ خوشحالی زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکی۔
سال 2025 کے تباہ کن سیلاب نے منور ویلی کے ان مقامی ہائیڈرو پاور منصوبوں کو شدید نقصان پہنچایا، ندی نالوں کے بے رحم بہاؤ نے سالوں کی محنت سے کھڑے کیے گئے ٹربائنز، تاریں اور آلات بہا دیے، جس سے پندرہ بیس سال سے قائم متبادل نظام معطل ہو گیا۔ اس تباہی کے بعد کاروباری سرگرمیاں رک گئیں اور لوگ ایک بار پھر روشنی کے لیے موم بتیوں، لالٹینوں اور ٹارچ کے پرانے دور میں واپس چلے گئے۔
بجلی کے اس بحران نے مواصلاتی نظام کو بھی مفلوج کر دیا، یہاں ٹیلی نار اور یوفون کی سروس تو موجود ہے لیکن وہ محض نام کی ہی سروسز ہیں۔ مقامی لوگ اپنے محدود وسائل سے انٹرنیٹ پیکجز خریدتے ہیں مگر سگنل نہ ہونے کی وجہ سے وہ استعمال کیے بغیر ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ موبائل ٹاورز زیادہ تر شمسی توانائی پر چلتے ہیں، اس لیے بادل آنے یا سورج ڈھلنے کے بعد بیٹریاں جواب دے جاتی ہیں اور پورا نیٹ ورک بند ہو جاتا ہے، بعض اوقات چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک گھنٹہ سروس ملتی ہے اور کبھی کبھار کئی دنوں تک رابطہ منقطع رہتا ہے۔
اس مواصلاتی بلیک آؤٹ کا سب سے ہولناک اثر صحت کے نظام پر پڑ رہا ہے۔ وادی کے بنیادی صحت مرکز کے انچارج ڈاکٹر امجد شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ خراب موبائل سروس کی وجہ سے مریضوں کو بروقت طبی امداد نہیں مل پاتی۔ ایک فون کال نہ ہو سکنے کے باعث مریضوں کو چارپائیوں پر اٹھا کر میلوں کا کٹھن سفر پیدل طے کرنا پڑتا ہے، نیٹ ورک کی یہ عدم دستیابی اب یہاں کے مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔


صحت کے ساتھ ساتھ یہاں کی تعلیم بھی متاثر ہو رہی ہے، جہاں آج کی دنیا آن لائن کلاسز اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے سہارے آگے بڑھ رہی ہے وہاں وادیِ منور کے بچے رات کو مدہم روشنی میں ہوم ورک کرنے پر مجبور ہیں۔ انٹرنیٹ اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے وہ جدید تعلیمی وسائل کا استعمال نہیں کر پاتے اور دیگر علاقوں کے طالب علموں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔
اس کٹھن طرزِ زندگی کا سب سے بڑا بوجھ یہاں کی خواتین اور نوجوان اٹھا رہے ہیں، مقامی خاتون رضیہ بیگم کا کہنا ہے کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کپڑے دھونا، استری کرنا اور باورچی خانے کے تمام امور ہاتھ سے کرنے پڑتے ہیں جس سے شدید جسمانی تھکن ان کی صحت کو متاثر کر رہی ہے۔ دوسری طرف یہاں کے باصلاحیت نوجوان جو بطور ڈیجیٹل کریئیٹر اور انفلوئنسر سوشل میڈیا کے ذریعے آن لائن روزگار کمانا چاہتے ہیں، وہ موبائل چارجنگ اور مستحکم انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اپنی ویڈیوز تک اپلوڈ نہیں کر پاتے۔
مقامی سماجی کارکنوں نے کئی بار ان مسائل کو متعلقہ حکام تک پہنچایا مگر بات سنی نہیں گئی۔


جون ایلیا نے شاید وادیِ منور کے باسیوں کے لیے ہی کہا تھا کہ:
ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی
اہلِ علاقہ کسی پرتعیش زندگی کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ وہ صرف بنیادی آئینی حقوق مانگ رہے ہیں، وہ حکومتِ پاکستان، منسٹری آف پاور، منسٹری آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، اور ٹیلی نار و یوفون کی انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ تباہ شدہ ہائیڈرو پاور منصوبوں کی تعمیرِ نو میں مقامی آبادی کی مدد کی جائے اور موبائل نیٹ ورکس کو کمرشل پاور یا پائیدار بیک اپ پر منتقل کر کے مستقل بنیادوں پر بحال کیا جائے، اگر وادیِ منور کو یہ بنیادی سہولیات مل جائیں تو عثمان جیسے کئی نوجوانوں کی جانیں بھی بچائی جا سکیں گی اور یہ حسین خطہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے گا۔


