Skip to content

خان خداداد خان: تحریکِ پاکستان کے ایک عظیم راہنما

شیئر

شیئر

تحریر : راشد خان سواتی

برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی، تحریکِ پاکستان کی کامیابی اور قیامِ پاکستان کے بعد استحکامِ وطن کے لیے جن شخصیات نے بے مثال خدمات سرانجام دیں، اُن میں خان خداداد خان کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ درہ بھوگڑمنگ سے تعلق رکھنے والی یہ عظیم شخصیت نہ صرف قائدِ اعظم Muhammad Ali Jinnah کے قریبی رفقاء میں شامل تھی بلکہ مادرِ ملت Fatima Jinnah کے ساتھ جمہوریت کے فروغ اور قومی شعور بیدار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی رہی۔

تحریکِ خلافت، سول نافرمانی کی تحریک، تحریکِ آزادی اور بعد ازاں ریفرنڈم پاکستان کے دوران خان خداداد خان نے جس استقامت، جرات اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخِ پاکستان کا روشن باب ہے۔ انہوں نے صوبے اور پورے ملک میں پاکستان کے حق میں عوامی رائے ہموار کرنے اور لوگوں کو متحرک کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تحریکِ پاکستان میں سرگرم کردار ادا کرنے کی پاداش میں انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، مگر ان کے پایۂ استقلال میں کبھی لغزش نہ آئی۔ ان کی جدوجہد دراصل اپنے سچے مقصد، خاندانی غیرت اور قومی وقار کے تحفظ کی جدوجہد تھی۔

قیامِ پاکستان کے بعد بھی ان کی خدمات کا سفر رکا نہیں بلکہ مزید وسعت اختیار کرتا گیا۔ وہ پاکستان کی پہلی نسل کے اُن مخلص راہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے انتہائی نامساعد حالات میں نئے وطن کی تعمیر کے لیے شب و روز محنت کی۔ اُس وقت ملک میں بنیادی وسائل تک ناپید تھے، حتیٰ کہ سرکاری دفاتر میں کاغذ اور سیاہی کی قلت تھی، مگر قومی جذبہ جوان تھا۔ انہی مشکل حالات میں خان خداداد خان نے ممبر اسمبلی منتخب ہو کر وزارتِ صحت اور واٹر سپلائی جیسے اہم قلمدان سنبھالے اور اپنے وژن کے مطابق عوامی فلاح و بہبود کے متعدد منصوبے شروع کیے۔

ان کی نگرانی اور کاوشوں سے اپر سرن اور لوئر سرن کینال جیسے عظیم منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچے جنہوں نے مانسہرہ اور پکھل کی بنجر زمینوں کو سیراب کیا۔ ڈاڈر سے براستہ ستھان گلی بٹل تک سڑک، سچہ اور دھڑیال کی واٹر سپلائی اسکیمیں، ہٹگرام ہسپتال، اوگی ہسپتال، ہری پور ہسپتال، ہیڈکوارٹر ہسپتال ایبٹ آباد، ڈاڈر تا جبوڑی بجلی کی فراہمی اور راولپنڈی میں سینٹرل ہسپتال جیسے منصوبے ان کی عوام دوستی کے گواہ ہیں۔ یہی سینٹرل ہسپتال بعد ازاں بے نظیر ہسپتال کے نام سے معروف ہوا۔

صحت کے شعبے میں ان کی خدمات پورے پاکستان تک پھیلی ہوئی تھیں۔ ملتان، بہاولپور، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں ہسپتالوں، میڈیکل اسکولوں اور طبی مراکز کے قیام میں ان کی دلچسپی اور سرپرستی شامل رہی۔ ڈھوڈیال میں ذہنی امراض کے ہسپتال کے لیے سولہ سو کنال زمین عطیہ کروانا ان کے فلاحی وژن کا ایک عظیم باب ہے، جہاں آج Hazara University قائم ہے۔ اسی طرح ایشیا کے سب سے بڑے ٹی بی سینی ٹوریم کے قیام کے خواب کو عملی شکل دینے میں بھی ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

خان خداداد خان کی شخصیت دیانت، امانت اور حب الوطنی کا عملی نمونہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے شروع کیے گئے منصوبے آج بھی ان کے نام کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ خداداد کالونی کراچی، بہاولپور میڈیکل کالج اور مختلف نہری و ترقیاتی منصوبے ان کی قومی خدمات کے امین ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ان کی قومی خدمات کا صلہ انہیں ایسی اولاد کی صورت میں عطا فرمایا جو آج بھی ملک و قوم کی خدمت میں مصروف ہے۔ ان کے صاحبزادے ریاض خان سیاسی، سماجی اور فلاحی میدان میں متحرک رہے اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مندوب کی حیثیت سے عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے والد کی قومی وراثت کو آگے بڑھایا۔ ان کے صاحبزادے عبداللہ ریاض خان بطور سی ایس پی آفیسر ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔ اسی طرح ان کے داماد احمد جان خان نے مختلف انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دیتے ہوئے نگراں حکومت میں وزارتِ مواصلات و ورکس کی ذمہ داریاں نبھائیں اور ڈاڈر ہسپتال کی تزئین و بحالی کے منصوبوں میں کردار ادا کیا۔

اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو خان خداداد خان کی خدمات میں پاکستان کا حقیقی عکس نظر آتا ہے۔ وہ زبان، نسل، قوم، قبیلے اور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر پاکستان میں بسنے والے ہر فرد کے لیے خدمت اور کردار کا نمونہ تھے۔ ان کی پوری زندگی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ سچی قیادت وہی ہوتی ہے جو ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر قومی فلاح کو اپنا مقصد بنا لے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ خصوصاً درہ بھوگڑمنگ کے نوجوان، طلبہ و طالبات اور اہلِ علم اس عظیم شخصیت کی زندگی اور خدمات پر تحقیقی مطالعہ کریں۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں مطالعہ پاکستان، تاریخ اور پولیٹیکل سائنس کے شعبہ جات کو چاہیے کہ خان خداداد خان کی جدوجہد کو نصابی و تحقیقی سطح پر اجاگر کریں۔ ان کی رہائش گاہ پر علمی نشستوں اور سیمینارز کا انعقاد کیا جائے تاکہ نئی نسل کو تحریکِ پاکستان کے اُن گمنام مگر عظیم کرداروں سے روشناس کرایا جا سکے جنہوں نے پاکستان کی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔

بلاشبہ خان خداداد خان اُن شخصیات میں سے ہیں جن کی خدمات تاریخِ پاکستان میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں