تحریر: راجہ دانش تاج
ملک بھر کی سڑکوں پر ایک خاموش مگر نہایت خطرناک رجحان جڑ پکڑتا جا رہا ہے۔ گاڑیوں میں ہائی بیم، لیزر اور غیر معیاری فلیش لائٹس کا بے جا اور غیر ذمہ دارانہ استعمال۔ حالیہ عرصے میں رات کے وقت پیش آنے والے افسوسناک ٹریفک حادثات نے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا ہے کہ تیز روشنی (گلیئر) محض ایک معمولی تکلیف نہیں بلکہ ایک ایسا جان لیوا خطرہ ہے جو پل بھر میں زندگیاں نگل لیتا ہے۔ ایک لمحے کے لیے آنکھوں کا چندھیا جانا، اسٹیئرنگ پر قابو کا ختم ہونا، اور پھر ایک ایسا حادثہ جو نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے خاندان کی دنیا اجاڑ دیتا ہے۔ یہ سب کچھ صرف ایک بے احتیاطی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
یہ مسئلہ اب کسی ایک شہر یا شاہراہ تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے ملک میں شدت اختیار کر چکا ہے۔ خصوصاً خیبر پختونخوا کے اضلاع جیسے مانسہرہ، جہاں پہاڑی سڑکیں، تنگ راستے اور موڑ دار گزرگاہیں پہلے ہی محتاط ڈرائیونگ کا تقاضا کرتی ہیں، وہاں ہائی بیم اور فلیش لائٹس کا بے جا استعمال خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ جب سامنے سے آنے والی گاڑی بار بار فلیش کرے یا مسلسل ہائی بیم پر ہو تو ڈرائیور کی بصارت چند لمحوں کے لیے مکمل طور پر متاثر ہو جاتی ہے۔ یہی چند لمحے اکثر زندگی اور موت کے درمیان فیصلہ کن ثابت ہوتے ہیں۔
قانونی اعتبار سے بھی یہ عمل سراسر خلافِ ضابطہ ہے۔ National Highways and Motorway Police کے قواعد واضح طور پر ہدایت دیتے ہیں کہ ہائی بیم صرف مخصوص حالات میں استعمال کی جا سکتی ہے، جبکہ شہری اور مصروف سڑکوں پر لو بیم کا استعمال لازمی ہے۔ اسی طرح National Highway Authority اور دیگر اداروں نے بھی غیر معیاری اور ترمیم شدہ لائٹس کے استعمال کو ممنوع قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی ٹریفک اصول بھی یہی تقاضا کرتے ہیں کہ کوئی بھی ڈرائیور ایسی روشنی استعمال نہ کرے جو دوسرے کی بصارت میں خلل ڈالے، کیونکہ سڑک ایک مشترکہ جگہ ہے جہاں ہر فرد کی ذمہ داری دوسرے کی حفاظت سے جڑی ہوتی ہے۔
تاہم یہ مسئلہ صرف قانون کی خلاف ورزی نہیں بلکہ اخلاقی زوال کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ اپنی جلدی، اپنی سہولت یا اپنی برتری دکھانے کے لیے دوسروں کو اذیت میں مبتلا کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یہ رویہ نہ صرف غیر مہذب ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی سراسر خلاف ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا بھی صدقہ ہے” (بخاری و مسلم)۔ اگر راستے سے تکلیف ہٹانا نیکی ہے تو راستے پر تکلیف پیدا کرنا کس قدر بڑی کوتاہی ہوگی؟ ایک اور حدیث میں ارشاد ہے: “مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے محفوظ رہیں”۔ اگر ہماری گاڑی کی روشنی ہی دوسروں کے لیے خطرہ بن جائے تو ہمیں سنجیدگی سے اپنے کردار کا جائزہ لینا ہوگا۔
یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ سڑکیں اجتماعی زندگی کا حصہ ہیں، اور یہاں ہر شخص کا عمل دوسرے کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایک لمحے کی ضد، ایک غیر ضروری فلیش یا ایک بے جا ہائی بیم کسی معصوم جان کو لے سکتی ہے، کسی ماں کی گود اجاڑ سکتی ہے، یا کسی بچے کے سر سے سایہ چھین سکتی ہے۔ یہ صرف حادثہ نہیں ہوتا، بلکہ ایک ایسا سانحہ ہوتا ہے جس کے اثرات برسوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
ایسے میں مانسہرہ پولیس اور مانسہرہ ٹریفک پولیس سے نہایت سنجیدہ اور دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ دیگر علاقوں میں کیے گئے اقدامات کو سامنے رکھتے ہوئے یہاں بھی سختی سے قوانین نافذ کیے جائیں، سڑکوں پر باقاعدہ چیکنگ کی جائے، غیر قانونی لائٹس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، اور عوامی سطح پر بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے۔ یہ صرف قانون نافذ کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کی ذمہ داری ہے۔
ساتھ ہی عوام الناس، بالخصوص ڈرائیورز اور موٹرسائیکل سواروں سے بھی اپیل ہے کہ وہ اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں۔ ہائی بیم کا استعمال صرف ضرورت کے وقت کریں، سامنے سے آنے والی گاڑی دیکھتے ہی لائٹس مدھم کر دیں، اور بلاوجہ فلیشنگ لائٹس سے مکمل اجتناب کریں۔ یاد رکھیں، آپ کی ایک چھوٹی سی احتیاط کسی بڑے سانحے کو روک سکتی ہے۔
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ ترقی صرف سڑکیں بنانے یا گاڑیاں بڑھانے کا نام نہیں، بلکہ ان سڑکوں پر ذمہ داری اور شعور کے ساتھ چلنے کا نام ہے۔ مہذب معاشرے اپنی رفتار سے نہیں بلکہ اپنے رویوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ اگر ہم واقعی ایک محفوظ، بااخلاق اور ذمہ دار قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے طرزِ عمل کو بدلنا ہوگا۔
آخر میں یہی کہنا کافی ہے کہ اپنی روشنی کو دوسروں کے لیے اندھیرا نہ بنائیں۔ کیونکہ ایک لمحے کی چمک کسی کی پوری زندگی بجھا سکتی ہے

