تحریر : حمزہ احسان
پاکستان کی تاریخ میں ایسے کئی لمحے گزرے ہیں جب ایک واقعہ نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ ۔ کبھی کسی بے گناہ کی موت، کبھی کسی ناانصافی کی خبر اور دیکھتے ہی دیکھتے غم و غصہ سڑکوں پر آ جاتا ہے۔۔۔
2021 میں سیالکوٹ میں سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کے قتل کے بعد دنیا نے دیکھا کہ جب ہجوم بے قابو ہو جائے تو ایک لمحے میں حالات کس قدر خوفناک رخ اختیار کر سکتے ہیں۔۔۔ اسی طرح ماضی میں لاہور کے ماڈل ٹاؤن سانحے کے بعد پورا ملک احتجاج کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔۔۔ یہ واقعات ہمیں ایک حقیقت یاد دلاتے ہیں، جب جذبات بھڑک اٹھیں تو معاشرہ نازک موڑ پر کھڑا ہو جاتا ہے اور ایسے وقت میں ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار سب سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔۔۔
بالاکوٹ میں پیش آنے والا حالیہ افسوس ناک واقعہ بھی اسی نوعیت کا ایک المیہ بن کر سامنے آیا ہے۔۔ ایک شہری کی جان جانے کے بعد پورے علاقے میں غم اور غصے کی فضا پیدا ہوئی۔
لوگوں کے جذبات بھڑکے، احتجاج شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے صورتحال کشیدہ ہو گئی۔۔ اس دوران مشتعل افراد کی جانب سے بالاکوٹ پولیس تھانے پر حملہ، توڑ پھوڑ اور آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، جس نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا۔۔۔
یہ بات واضح ہے کہ کسی بھی سانحے کے بعد قانون کو ہاتھ میں لینا درست نہیں۔ ریاستی اداروں پر حملہ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا کسی بھی معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ اگر چند عناصر نے واقعی تھانے پر حملہ کیا اور جلاؤ گھیراؤ میں حصہ لیا تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے اور انہیں سخت سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی ایسا قدم اٹھانے سے پہلے سو بار سوچے۔
لیکن اس کے ساتھ ایک اور پہلو بھی ہے جو تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
بالاکوٹ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پولیس نے اس واقعے کے بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریاں شروع کر دی ہیں اور کئی نوجوانوں کو شک کی بنیاد پر حراست میں لیا جا رہا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق بعض نوجوانوں کو بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے گرفتار کیا گیا ہے اور کچھ خاندانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ زیر حراست افراد کے ساتھ تھانوں میں سخت رویہ اور تشدد کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ نہ صرف تشویشناک صورتحال ہے بلکہ آئین اور قانون کی روح کے بھی منافی ہے۔۔
مزید حیران کن بات یہ ہے کہ اس واقعے کی ایف آئی آر میں تقریباً 2500 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔۔۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا واقعی اتنی بڑی تعداد میں لوگ اس وقت موقع پر موجود تھے؟؟؟
یا پھر یہ ایک ایسا مقدمہ بن گیا ہے جس میں اجتماعی طور پر بڑی تعداد کو شامل کر کے معاملے کو پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔۔۔
پاکستان میں ماضی میں بھی ایسے کئی مواقع آئے ہیں جب کسی واقعے کے بعد ہجوم بے قابو ہو گیا۔۔۔ سیالکوٹ کا واقعہ ہو یا دیگر شہروں میں ہونے والے پرتشدد احتجاج، ان تمام مثالوں نے یہ ثابت کیا کہ جب عوامی جذبات بھڑک جائیں تو حالات بگڑنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔۔۔ لیکن ایسے وقت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سب سے بڑا امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے قانونی اور شواہد پر مبنی حکمت عملی اختیار کریں۔۔۔
ریاست کا کام صرف ردعمل دینا نہیں بلکہ انصاف کو یقینی بنانا بھی ہے۔۔ اگر چند افراد نے واقعی تھانے کو جلانے اور توڑ پھوڑ میں حصہ لیا ہے تو ان کی شناخت جدید طریقوں سے کی جائے۔۔ سی سی ٹی وی فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر شواہد کی بنیاد پر شناخت کی جانی چاہیے۔۔۔
لیکن صرف شک یا عمومی الزامات کی بنیاد پر نوجوانوں کو گرفتار کرنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ اس سے عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔۔۔
پاکستان کا آئین ہر شہری کو بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے جن میں منصفانہ ٹرائل، عزتِ نفس کا تحفظ اور تشدد سے آزادی شامل ہیں۔۔
یہی وجہ ہے کہ قانون کا تقاضا ہے کہ کسی بھی شخص کو صرف واضح شواہد کی بنیاد پر گرفتار کیا جائے اور اسے کسی قسم کے جسمانی یا ذہنی تشدد کا نشانہ نہ بنایا جائے۔۔
بالاکوٹ کے موجودہ حالات میں سب سے اہم ضرورت شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی ہے۔۔
حکومت اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ اس پورے واقعے کی آزادانہ انکوائری کروائی جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔ جو عناصر واقعی تھانے کے جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ میں ملوث تھے انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے، لیکن اس عمل میں بے گناہ افراد کو ہراساں نہ کیا جائے۔۔۔
اس کے ساتھ ساتھ مقامی شہریوں، سماجی رہنماؤں اور صحافتی حلقوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس معاملے پر نظر رکھیں اور اگر کہیں زیادتی ہو رہی ہو تو اس کے خلاف پرامن اور قانونی طریقے سے آواز بلند کریں۔۔
ایک مہذب معاشرے میں انصاف صرف کیا ہی نہیں جاتا بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔۔۔
بالاکوٹ آج ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف ایک جان کا ضیاع ہے جس کے لیے انصاف ضروری ہے، اور دوسری طرف ایسے حالات ہیں جن میں ریاستی ردعمل کا توازن برقرار رکھنا بھی انتہائی اہم ہے۔۔۔
ریاست کا وقار اسی وقت برقرار رہتا ہے جب قانون سب کے لیے برابر ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ اصل مجرموں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے، مگر بے گناہ لوگوں کو صرف شک کی بنیاد پر گرفتار یا ہراساں نہ کیا جائے۔۔۔
کیونکہ اگر انصاف کے نام پر ناانصافی ہونے لگے تو پھر معاشرے میں اعتماد کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں، اور کسی بھی ریاست کے لیے اس سے بڑا خطرہ شاید کوئی نہیں


