Skip to content

سرزمینِ شہداء ایک مرتبہ پھر سوگوار ہو گئی…

شیئر

شیئر

تحریر: راشد خان سواتی

وادیٔ کنہار کی پہچان، بالاکوٹ کی شان اور غمزدہ چہروں کی رونق جاوید بھائی شہید ہم سے بچھڑ گئے۔ وہ ایک زندہ دل، معصوم اور مجذوب طبیعت انسان تھے۔ اپنی بولیوں—ہندکو اور گوجری—اور اپنے علاقے کے کلچر کی نمائندگی کرتے ہوئے وہ گویا پوری وادیٔ کنہار اور ضلع مانسہرہ کے سفیر تھے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بھی دکھا دیا کہ دنیا کی نظر میں ایک عام اور غیر مفید سمجھا جانے والا شخص، اللہ کے ہاں کس قدر بلند مقام رکھتا ہے۔ ان کے جنازے کے مناظر نے ماضی کے عظیم اجتماعات کی یاد تازہ کر دی، جب فخرِ کنہار ویلی میاں ولی الرحمن مرحوم اور خطیبِ مانسہرہ قاضی خلیل صاحب مرحوم کو الوداع کہا گیا تھا۔

جاوید مہانڈری نے یہ سکھا دیا کہ جو شخص اللہ کی مخلوق کو خوش رکھتا ہے، چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتا ہے، وہ فرش پر بھی راج کرتا ہے اور عرش پر بھی۔

ان کے قاتل کی سب سے بڑی سزا یہی ہے کہ اس نے لاکھوں دلوں کی دھڑکن اور مسکراہٹ چھین لی۔ یقیناً وہ اس لمحے کو ہمیشہ کوسے گا جب اس سے یہ سنگین غلطی ہوئی۔ بعض اوقات ضمیر کی سزا موت سے بھی زیادہ دردناک اور عبرتناک ہوتی ہے۔

وادیٔ کنہار کی عوام کا اتفاق و اتحاد مثالی رہا، لیکن سرزمینِ شہداء پر پرتشدد احتجاج ہماری روایات کی عکاسی نہیں کرتا۔ سرکاری املاک اور سرکاری ملازمین ہمارے مہمان ہوتے ہیں۔ شہداء کی یہ دھرتی ایک فرد کی غلطی کا بدلہ پورے محکمے یا بے گناہ ملازمین سے نہیں لیتی، بلکہ مہمان نوازی اور امن اس کی پہچان ہے۔

آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے شہداء کی سرزمین کے وقار، امن اور اتحاد کو قائم رکھیں گے۔
اللہ تعالیٰ جاوید بھائی شہید کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل دے۔ آمین۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں