Skip to content

محافظ بنے قاتل۔۔۔ انمول پھول

شیئر

شیئر

ایک فرد کا قتل، محض ایک جان کا ضیاع نہیں، یہ پوری انسانیت کے سینے پر لگا زخم ہوتا ہے۔ یہ اس گھٹن زدہ اور اضطراب بھرے ماحول میں مسکراہٹ کا قتل ہے، یہ ایک سادہ دل مجذوب کا قتل ہے، یہ قانون اور انصاف کے وقار کا قتل ہے۔ وہ وردی جو کبھی تحفظ اور امانت کی علامت سمجھی جاتی تھی، آخر کب اور کیسے قاتلوں کا لبادہ بن گئی؟
رواں ہفتے ضلع بھر میں اپنے ہی محافظوں کے ہاتھوں تین جانوں کا ضیاع محض ایک واقعہ نہیں، ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ آج بالاکوٹ میں ہر دل عزیز جاوید کے قتل نے فضا کو سوگوار کر دیا ہے۔ منظر عام پر آنے والی ویڈیو صاف بتا رہی ہے کہ یہ کوئی حادثہ نہیں، بلکہ ایک بے رحم وار ہے۔ ایک نہتے، معصوم مجذوب پر ظلم کی کھلی مثال۔
کوئی تو انہیں سمجھائے کہ جسم پر سجی وردی اور ہاتھ میں تھاما ہوا اسلحہ عوام کی حفاظت کے لیے ہے، ان کے سینوں پر تاننے کے لیے نہیں۔ یہ غرور کیسا؟ یہ تکبر کیوں؟ اے ظالم! یہ اختیار تجھے وراثت میں نہیں ملا، یہ اس بے سہارا عوام کی خون پسینے کی کمائی سے عطا ہوا ہے۔
عوامی احتجاج، غیض و غضب اور نفرت دراصل اس سستی اور کاہلی کا نتیجہ ہیں جو قانونی تقاضے پورے کرنے میں برتی جاتی ہے۔ قومی املاک کو نقصان پہنچانا کسی فرد یا ادارے کا نہیں، ہمارا اپنا نقصان ہے، اور اس کا ازالہ بھی ہمیں ہی کرنا ہوگا۔ جذباتیت کے بجائے شعوری جدوجہد ہی معاشرے میں اصلاح، الفت اور استحکام کو جنم دیتی ہے۔ جلاؤ گھیراؤ کسی مسئلے کا حل نہیں، مگر اس کی آڑ میں قاتل سے نرمی یا تعاون بھی ظلم کے مترادف ہوگا۔
قانون انسان کے لیے ہے، انسان قانون کے لیے نہیں۔ یہی وقت ہے کہ اپنے ہی دامن میں چھپے ظالم کو سزا دلا کر مظلوم کو انصاف فراہم کیا جائے۔ یہی عمل ادارے پر لگے بدنما داغ کو مٹا سکتا ہے، بداعتمادی کو اعتماد میں اور شکوک کو یقین میں بدل سکتا ہے۔
رمضان کی مقدس ساعتوں میں جاوید اپنے رب کے حضور پہنچ چکا ہے۔ یقیناً اس مجذوب کی افطاری جنت کے بالاخانوں میں ہوئی ہوگی۔ وہ اس صعوبت زدہ ماحول کی قید سے آزاد ہو چکا۔ وہ ایک درویش تھا، انسانوں کی بستی میں سب کو ہنساتا ہوا، رُلا کر رخصت ہو گیا۔ وہ ظالم و مظلوم کا فرق سمجھا کر چلا گیا۔ اس کی یادیں، اس کی باتیں مدتوں محفلوں کی رونق بنی رہیں گی۔ قاتل! تیرا پچھتاوا تیری زندگی کا بوجھ بن کر تیرے ساتھ رہے گا۔
یہ درویش معاشرے کی خوبصورتی ہوتے ہیں۔ یہ دنیا ایک باغ ہے اور یہ لوگ اس کے انمول پھول۔ مانسہرہ پولیس کے لیے رواں ہفتے تین معصوم جانوں کا خون ایک کڑا امتحان ہے۔ ظالم کو سزا دلا کر مظلوم کی داد رسی کی جائے۔
اسلام ہمیں سچ بولنے، ظالم کے خلاف آواز بلند کرنے، مظلوم کا سہارا بننے اور حق پر ڈٹ جانے کی تعلیم دیتا ہے۔ یہی ہمارا آئین و دستور ہے، حالات جیسے بھی ہوں۔ علیؓ ابن ابی طالب کا فرمان ہے: “ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھانا بھی ظلم کا ساتھ دینا ہے۔”
علماء، اساتذہ، سماجی شخصیات، وکلاء، زندگی کے جس بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں۔ مظلوم جاوید کے لیے انصاف کی آواز بنیں، یہی ان کے منصب کا تقاضا ہے۔ بالاکوٹ بار کونسل کا مظلوم کے حق میں کھڑا ہونا اور ظالم کے کیس کی پیروی سے انکار ایک قابلِ تحسین قدم ہے۔ اس آواز کو اس وقت تک خاموش نہ ہونے دیا جائے جب تک مکمل انصاف نہ مل جائے۔
ظلم و بربریت ہر صورت قابلِ مذمت ہیں۔ جب ریاستی ادارے بروقت اور منصفانہ کردار ادا کرتے ہیں تو امن بحال ہوتا ہے، عوام کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے اور حکومتی رِٹ قائم رہتی ہے۔ شہریوں کو تحفظ دینا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کی نشان دہی کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ ایسے عناصر نشانِ عبرت بنیں اور کوئی دوسرا اس روش پر چلنے کی جرأت نہ کرے۔
ان تینوں مظلوموں کا خون مانسہرہ پولیس کی کارکردگی پر ایک بدنما داغ ہے، جسے انصاف سے ہی مٹایا جا سکتا ہے۔ صاحبانِ اختیار پر اس مجذوب کا لہو قرض ہے، اور یہ قرض صرف انصاف سے ادا ہوگا۔
اللہ رب العزت ہمیں ایسے سانحات سے محفوظ رکھے اور ہمیں اپنی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ملک عزیز کو امن کا گہوارہ بناۓ۔ آمین

تحریر : میاں صلاح الدین خضری

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں