پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی تجزیاتی رپورٹ میں مبینہ سوشل میڈیا سرگرمیوں کی تصدیق نہیں ہو سکی؛ دفعہ 11 PECA کے اضافے کے بعد NCCIA نے مقدمہ تحریری اعتراضات کے ساتھ واپس بھیج دیا۔ تفتیش کے مختلف مراحل اور سرکاری دستاویزات کی تاریخیں وضاحت طلب ہیں۔
ایبٹ آباد (انوسٹی گیٹو رپورٹ)
خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں مذہبی نوعیت کے الزامات کے تحت درج ایک مقدمہ اس وقت کئی اہم قانونی اور تفتیشی سوالات کی زد میں ہے۔ مقدمے میں شامل ڈیجیٹل شواہد کی نسبت، پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی کی منفی تجزیاتی رپورٹ، وفاقی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے کے تحریری اعتراضات اور بعض سرکاری منظوریوں کی تاریخوں نے تفتیشی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
تھانہ سٹی مانسہرہ میں یکم اگست 2026 کو شہری علی شمس ولد شمس الاسلام کے خلاف ایف آئی آر نمبر 1019/2026، تعزیراتِ پاکستان کی دفعات A295اور A298 کے تحت درج کی گئی تھی۔ بعد ازاں مقدمے میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کی دفعہ 11 شامل کرنے کی کارروائی بھی سامنے آئی۔
دستیاب دستاویزات کے مطابق، 29 اکتوبر 2026 کو مقدمہ وفاقی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو بھجوانے کی کارروائی کی گئی، تاہم 2 نومبر کو یہ مقدمہ تحریری اعتراضات کے ساتھ دوبارہ واپس مانسہرہ پولیس کو ارسال کر دیا گیا۔

اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا مقدمے میں شامل مبینہ ڈیجیٹل مواد کی تکنیکی تصدیق، اکاؤنٹ کی شناخت اور ملزم سے اس کی نسبت قائم کرنے کے لیے تمام ضروری قانونی اور فرانزک تقاضے پورے کیے گئے تھے؟
مقدمے کا آغاز کیسے ہوا؟
دستیاب سرکاری ریکارڈ کے مطابق، اس معاملے کی ابتدائی کڑی پنجاب پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے ایک خفیہ مراسلے سے ملتی ہے۔
ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس، CTD پنجاب، لاہور کے دفتر سے 27 جولائی 2026 کو مراسلہ نمبر 1077/CTD/CVE جاری کیا گیا، جو ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس (آپریشنز) خیبر پختونخوا کو ارسال کیا گیا تھا۔ اس مراسلے میں علی شمس سے متعلق سوشل میڈیا اور تکنیکی نگرانی کے ذریعے حاصل ہونے والی مبینہ معلومات کا ذکر کیا گیا۔
بعد ازاں سنٹرل پولیس آفس پشاور نے 30 جولائی کو مراسلہ نمبر 37042/46/Misc Ops کے ذریعے معاملہ ریجنل پولیس آفیسر ہزارہ اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مانسہرہ کو بھجوایا اور تین دن کے اندر کارروائی کی رپورٹ طلب کی۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفس مانسہرہ میں یہ مراسلہ 31 جولائی کو ڈائری نمبر 4680 کے تحت موصول ہوا۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق، اسی روز ڈی پی او نے ایس ایچ او تھانہ سٹی کو انکوائری اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی،مگر پولیس نے اس احساس نوعیت کےبکیس کی دریافت کرنے اور شواہد اکھٹھے کرنے کے بجائے برائے راست ایف آئی آر درج کرنے کے بعد معاملہ سب انسپکٹر اجمل خان کو تفتیشی کارروائی کے لیے بھجوایا گیا۔
یہ دفتری سلسلہ ظاہر کرتا ہے کہ مقدمے کی ابتدائی کارروائی کا محرک پنجاب CTD کی جانب سے موصول ہونے والی معلومات تھیں۔ تاہم یہ واضح ہونا باقی ہے کہ ایف آئی آر کے اندراج سے پہلے ان معلومات، مبینہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ، متعلقہ سم کارڈ اور فراہم کردہ ڈیجیٹل مواد کی آزادانہ تصدیق کس طریقے سے کی گئی تھی۔
مبینہ ڈیجیٹل شواہد اور اکاؤنٹ کی شناخت
ایف آئی آر کے مطابق، یکم اگست 2026 کو تقریباً ساڑھے بارہ بجے سب انسپکٹر محمد اجمل خان کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔ اسی کارروائی کے دوران علی شمس کو گرفتار کیا گیا اور ان کا HONOR موبائل فون، ماڈل JDY LX2، قبضے میں لیا گیا۔
مقدمے میں مبینہ واٹس ایپ ریکارڈ، ٹک ٹاک پر لائیو آڈیو کالز اور ایک ٹک ٹاک اکاؤنٹ کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کا نام دستیاب متن میں "Scnat” درج ہے۔
تاہم ڈیجیٹل شواہد کی قانونی حیثیت کا تعین محض کسی اکاؤنٹ کے نام، اسکرین شاٹ یا پرنٹ آؤٹ سے نہیں ہوتا۔ اس کے لیے اصل ڈیجیٹل مواد، اکاؤنٹ کی شناخت، متعلقہ تاریخ اور وقت، تکنیکی ریکارڈ اور متعلقہ شخص سے اس کی نسبت قائم کرنے والے شواہد کا جائزہ ضروری ہوتا ہے۔
اس مقدمے میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ مبینہ واٹس ایپ ریکارڈ کو ٹک ٹاک اکاؤنٹ کے ساتھ کس بنیاد پر منسلک کیا گیا؟ کیا متعلقہ پلیٹ فارم سے مستند ریکارڈ حاصل کیا گیا؟ کیا لائیو کالز کی اصل ریکارڈنگ موجود ہے؟ اور کیا اکاؤنٹ کے حقیقی صارف کی شناخت کسی آزادانہ تکنیکی ذریعے سے ثابت کی گئی؟
دستیاب دستاویزات میں ان سوالات کے مکمل جوابات موجود نہیں ہیں۔
پنجاب فرانزک رپورٹ کیا بتاتی ہے؟
اس مقدمے میں پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی (PFSA) کی کمپیوٹر فرانزکس رپورٹ کو اہمیت حاصل ہے۔
رپورٹ نمبر PFSA26-994456-CF-008125 کے مطابق، متعلقہ موبائل فون اور سم کارڈ کا فرانزک معائنہ 8 اکتوبر سے 15 اکتوبر 2026 تک کیا گیا۔
فراہم کردہ رپورٹ کی تفصیلات کے مطابق، ٹک ٹاک، فیس بک، واٹس ایپ بزنس اور ایکس سے متعلق مطلوبہ معلومات دستیاب فرانزک ٹولز کے ذریعے مکمل طور پر اخذ نہیں کی جا سکیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ دستی معائنے کے دوران ٹک ٹاک پروفائل کے نام میں تبدیلی، مبینہ لائیو کالز اور آڈیو یا ویڈیو پیغامات بھیجنے یا وصول کرنے کی سرگرمیوں کا تعین نہیں ہو سکا۔ سم کارڈ سے بھی مطلوبہ پیغامات، رابطوں یا کال لاگز کا حصول ممکن نہیں ہوا۔
یہ نتائج مقدمے میں پیش کردہ ڈیجیٹل شواہد کی نسبت کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کرتے ہیں۔ تاہم فرانزک رپورٹ کو اس بنیاد پر ملزم کی مکمل بے گناہی کا ثبوت قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔
فرانزک معائنے میں کسی سرگرمی کا سراغ نہ ملنا اور یہ ثابت ہونا کہ ایسی سرگرمی کبھی ہوئی ہی نہیں، دو مختلف باتیں ہیں۔
اس لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا استغاثہ کے پاس فرانزک رپورٹ کے علاوہ کوئی دوسرا مستند تکنیکی یا دستاویزی ثبوت موجود ہے جو مبینہ سرگرمیوں کو براہِ راست ملزم سے منسلک کرتا ہو؟
NCCIA کے اعتراضات اور مقدمے کی واپسی
اس معاملے میں وفاقی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے کی خط و کتابت بھی اہمیت رکھتی ہے۔
دستیاب مراسلہ نمبر NCCIA/DD/CCRC/ATD/2026/8996، مورخہ 18 اگست 2026 کے مطابق، NCCIA نے مقدمے کا جائزہ لیتے ہوئے ایف آئی آر میں PECA کی متعلقہ دفعہ شامل نہ ہونے اور موبائل فون کی فرانزک رپورٹ دستیاب نہ ہونے جیسے امور کی نشاندہی کی تھی۔
اس کے بعد مقدمے کی فائل مقامی پولیس کو واپس بھیجے جانے کا ذکر موجود ہے تاکہ مطلوبہ تکنیکی شواہد حاصل کیے جا سکیں۔
بعد ازاں فرانزک رپورٹ سامنے آنے اور محکمۂ استغاثہ سے قانونی رائے حاصل کرنے کے بعد 29 اکتوبر کو دفعہ 11 PECA شامل کرنے کی کارروائی کی گئی اور مقدمہ دوبارہ وفاقی ادارے کو بھجوایا گیا۔
تاہم دستیاب معلومات کے مطابق، 2 نومبر 2026 کو NCCIA نے مقدمہ تحریری اعتراضات کے ساتھ واپس مانسہرہ پولیس کو ارسال کر دیا۔
اس واپسی کی اصل وجوہات جاننا اس معاملے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ آیا اعتراضات کا تعلق ادارے کے دائرۂ اختیار، قانونی دفعات، ڈیجیٹل شواہد کی کمی یا تفتیشی کارروائی کی تکمیل سے تھا، اس کا تعین اصل مراسلے کے معائنے کے بغیر ممکن نہیں۔
یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ دفعہ 11 PECA کا مقدمے میں اضافہ بذاتِ خود کسی جرم کے ارتکاب یا اس کے ثبوت کا اعلان نہیں ہے۔ اس کے اطلاق کے لیے بھی قانون میں بیان کردہ عناصر اور متعلقہ شہادت کی موجودگی ضروری ہے۔
دفعہ 11 PECA کے اضافے کی قانونی بنیاد کیا تھی؟
دستیاب تفصیلات کے مطابق، 26 اکتوبر 2026 کو تفتیشی افسر نے ڈی ایس پی انویسٹی گیشن کے ذریعے ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر مانسہرہ سے قانونی رائے طلب کی تھی۔
اس کے بعد 29 اکتوبر کو دفعہ 11 PECA شامل کرنے کی کارروائی سامنے آئی۔
یہاں اہم سوال یہ ہے کہ نئی دفعہ شامل کرنے کے لیے کون سا اضافی مواد یا تکنیکی شہادت حاصل کی گئی تھی؟ اگر فرانزک رپورٹ میں مبینہ سرگرمیوں کا تعین نہیں ہو سکا تو نئی قانونی دفعہ کے اضافے کی بنیاد کیا تھی؟
اس سوال کا جواب محکمۂ استغاثہ کی اصل قانونی رائے، تفتیشی افسر کی کارروائی اور متعلقہ دستاویزات کے جائزے سے ہی سامنے آ سکتا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کی منظوری اور تاریخوں کا تضاد
مقدمے کے ریکارڈ میں ڈپٹی کمشنر مانسہرہ کی منظوری سے متعلق تاریخوں کا معاملہ بھی وضاحت طلب ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق، منظوری نامہ نمبر 678/Reader/DC(M)، مورخہ 17 اگست 2026 میں ایس پی انویسٹی گیشن کے خط نمبر 8020/PA/Inv، مورخہ 31 جولائی 2026 کا حوالہ دیا گیا ہے۔
دوسری جانب، متعلقہ درخواست پر 9 اگست 2026 کی تاریخ اور ایس پی انویسٹی گیشن دفتر کی وصولی کی مہر 10 اگست 2026 بتائی گئی ہے۔
اگر یہ تمام تاریخیں اصل دستاویزات سے ثابت ہوتی ہیں تو ان کے باہمی تعلق اور دفتری کارروائی کی ترتیب واضح کرنا ضروری ہے۔
اس کے لیے اصل درخواست، مراسلوں، ڈائری اور ترسیل رجسٹروں، منظوری کی فائل اور متعلقہ نوٹنگ شیٹس کا معائنہ ناگزیر ہے۔
محض تاریخوں میں فرق کی بنیاد پر جعل سازی یا کسی افسر کی بدنیتی کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا، تاہم متعلقہ حکام سے اس تضاد کی وضاحت طلب کرنا ایک جائز تحقیقاتی تقاضا ہے۔
دفعہ 196 ضابطۂ فوجداری کا قانونی پہلو
اس مقدمے میں دفعہ 196 ضابطۂ فوجداری (Cr.P.C.) کے اطلاق اور ڈپٹی کمشنر کی منظوری کے قانونی اثرات کا معاملہ بھی اہم ہے۔
دفعہ 196 بعض مخصوص جرائم میں عدالت کی جانب سے قابلِ سماعت کارروائی شروع کرنے کے لیے حکومت یا مجاز اتھارٹی کی شکایت یا منظوری سے متعلق قانونی شرائط بیان کرتی ہے۔
یہاں ایف آئی آر کا اندراج، پولیس کی تفتیش اور عدالت کی جانب سے جرم کا نوٹس لینا الگ قانونی مراحل ہیں۔
چنانچہ یہ جاننا ضروری ہے کہ اس مقدمے میں متعلقہ قانونی دفعہ کے تحت کس نوعیت کی منظوری درکار تھی، آیا متعلقہ اتھارٹی مجاز تھی اور کیا مقررہ قانونی طریقۂ کار پورا کیا گیا؟
اس معاملے پر حتمی رائے اصل منظوری نامے اور متعلقہ قانونی دفعات کے جائزے کے بعد ہی قائم کی جا سکتی ہے۔
ضمانت اور مزید تفتیش کا معاملہ
مقدمے میں مبینہ ڈیجیٹل مواد کی شناخت، اکاؤنٹ کی ملکیت، واٹس ایپ اور ٹک ٹاک ریکارڈ کے درمیان تعلق، فرانزک رپورٹ اور NCCIA کے اعتراضات جیسے امور مزید قانونی جانچ کے متقاضی ہیں۔
اگر مقدمے کے ریکارڈ میں ایسے سوالات موجود ہوں جن کا جواب مزید تحقیق کے بغیر ممکن نہ ہو تو ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 497(2) کے تحت مزید تفتیش (Further Inquiry) کا قانونی اصول زیرِ غور آ سکتا ہے۔
تاہم ضمانت یا مقدمے کے حتمی نتیجے کا فیصلہ متعلقہ عدالت تمام شواہد اور قانونی تقاضوں کا جائزہ لینے کے بعد کرے گی۔
اعلیٰ حکام سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ
عوامی مفاد، شفاف تفتیش اور قانون کی بالادستی کے تقاضوں کے تحت اس مقدمے کے تمام مراحل کا غیر جانب دارانہ جائزہ ضروری ہے۔
متعلقہ پولیس حکام، انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا اور دیگر مجاز اداروں کو چاہیے کہ وہ پنجاب CTD کے ابتدائی مراسلے، ایف آئی آر کے اندراج سے قبل کی انکوائری، موبائل فون کی تحویل اور فرانزک لیبارٹری تک ترسیل، PFSA کی مکمل رپورٹ، NCCIA کے 18 اگست اور 2 نومبر کے مراسلات، 29 اکتوبر کو دفعہ 11 PECA شامل کرنے کی کارروائی اور ڈپٹی کمشنر کی منظوری سے متعلق اصل ریکارڈ کا جائزہ لیں۔
اگر کسی مرحلے پر قانون یا دفتری ضابطوں کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ اسی طرح اگر الزامات کی تائید میں مطلوبہ قابلِ اعتماد شہادت موجود نہ ہو تو ملزم کو قانون کے تحت دستیاب ریلیف ملنا چاہیے۔
اس معاملے میں اصل اہمیت کسی ایک فریق کے دعوے یا مؤقف کی نہیں، بلکہ اس سوال کی ہے کہ کیا تفتیش کے تمام مراحل قانون، شفافیت اور قابلِ تصدیق شواہد کے تقاضوں کے مطابق مکمل کیے گئے؟
وضاحتی نوٹ: یہ رپورٹ سرکاری اداروں سے حاصل کردہ دستاویزات اور معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں اٹھائے گئے سوالات کسی شخص یا ادارے کی مجرمانہ ذمہ داری کا حتمی تعین نہیں کرتے۔ علی شمس کو قانون کے مطابق اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جائے گا جب تک مجاز عدالت میں جرم ثابت نہ ہو جائے۔۔