Skip to content

وہ عظیم پاکستانی جس نے اپنی صلاحیتیں وطن کے دفاع کے لیے وقف کر دیں

شیئر

شیئر

دس اکتوبر محسنِ پاکستان، نامور ایٹمی سائنس دان اور قومی ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خانؒ کی برسی کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں اس عظیم شخصیت کی بے مثال خدمات، حب الوطنی، قربانی اور پاکستان کے دفاع کے لیے ان کی انتھک جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔

پاکستان آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایک ایٹمی قوت ہے۔ اس کی دفاعی صلاحیت قومی سلامتی کی اہم بنیادوں میں شامل ہے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی ترقی میں ڈاکٹر عبدالقدیر خانؒ کا کردار تاریخ میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز میں ان کی قیادت اور محنت نے پاکستان کی یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو ترقی دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ بالآخر 28 مئی 1998ء کو پاکستان نے کامیاب ایٹمی تجربات کرکے دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوت ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خانؒ کی زندگی محض ایک سائنس دان کی کامیابیوں کی داستان نہیں، بلکہ حب الوطنی، عزمِ مصمم اور قومی وفاداری کی ایک روشن مثال بھی ہے۔ انہوں نے بیرونِ ملک ایک کامیاب پیشہ ورانہ مستقبل کو ترک کرکے اپنی صلاحیتیں پاکستان کے لیے وقف کیں۔ ان کے نزدیک وطن کی سلامتی، خودمختاری اور دفاع ایک عظیم قومی ذمہ داری تھی۔

قیامِ پاکستان کے بعد ان کا خاندان بھارت سے پاکستان منتقل ہوا۔ ہجرت اور حصولِ پاکستان کی تاریخی جدوجہد کے پس منظر میں پروان چڑھنے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خانؒ نے اپنی سائنسی مہارت، غیر معمولی عزم اور مسلسل محنت کے ذریعے پاکستان کے دفاعی پروگرام میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب علم، صلاحیت اور جذبۂ حب الوطنی یکجا ہوجائیں تو ایک فرد بھی قوم کی تاریخ کا رخ بدلنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

تاہم، ڈاکٹر عبدالقدیر خانؒ کی زندگی کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جو دل کو اداس کردیتا ہے۔ قومی خدمات کے باوجود انہیں اپنی زندگی میں بعض تلخ حالات اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سے منسوب یہ اشعار اسی دکھ اور کرب کی ترجمانی کرتے محسوس ہوتے ہیں:

گزر تو خیر گئی ہے تیری حیات، قدیرؔ
ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے

یہ اشعار محض چند الفاظ نہیں، بلکہ ایک ایسے شخص کی زندگی پر غور کرنے کی دعوت ہیں جس نے اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کا بڑا حصہ وطن کے دفاع کے لیے وقف کیا۔ یہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا ہم اپنے محسنوں کی قدر ان کی زندگی میں بھی کرتے ہیں، یا ان کی عظمت کا اعتراف ان کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد ہی کرتے ہیں؟

قوموں کی تاریخ میں ہیروز کی اصل قدر صرف ان کی کامیابیوں کو یاد کرنے میں نہیں، بلکہ ان کی جدوجہد، قربانیوں اور انسانی احساسات کو سمجھنے میں بھی ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خانؒ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ نئی نسل کو ان کی زندگی، سائنسی خدمات اور قومی کردار سے روشناس کرایا جائے۔ نوجوانوں میں علم، تحقیق، نظم و ضبط، محنت اور وطن سے وفاداری کا جذبہ پیدا کیا جائے تاکہ وہ پاکستان کی ترقی اور استحکام میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

آج ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم ڈاکٹر عبدالقدیر خانؒ کی یاد کو محض تقریبات اور تعریفی الفاظ تک محدود نہیں رکھیں گے، بلکہ علم و تحقیق کو فروغ دے کر، اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کرکے اور قومی اتحاد کو مضبوط بنا کر پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔

محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خانؒ کو خراجِ عقیدت پیش کرنا دراصل علم، خودداری، قومی سلامتی اور حب الوطنی کی ان اقدار کو زندہ رکھنا ہے جن کے لیے انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ وقف کیا۔

اللہ تعالیٰ ڈاکٹر عبدالقدیر خانؒ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور پاکستان کو ہمیشہ امن، استحکام، ترقی اور سربلندی عطا فرمائے۔ آمین۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خانؒ زندہ قوموں کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے، کیونکہ محسنوں کی خدمات وقت کے ساتھ مٹتی نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہیں۔

تحریر : راشد خان سواتی

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں