Skip to content

جنسی تشدد کا تعین (ڈی این اے تجزیہ)، رپورٹ کتنے ماہ میں جاری ہونی چاہیے؟

شیئر

شیئر

جنسی تشدد کے واقعات میں میڈیکولیگل معائنہ اور سائنسی شواہد کا تجزیہ تفتیش کے اہم مراحل میں شامل ہیں۔ بعض کیسز میں ڈی این اے تجزیے کی ضرورت پیش آتی ہے، جس کی رپورٹ کے اجرا کے لیے مقررہ مدت جاننا متاثرہ افراد اور ان کے اہل خانہ کے لیے اہم ہے۔

خیبر پختونخوا رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کے تحت مختلف میڈیکولیگل خدمات کے لیے الگ الگ مدت مقرر کی گئی ہے۔ جنسی تشدد کا تعین (ڈی این اے تجزیہ) بھی ان خدمات میں شامل ہے۔

رپورٹ کتنے وقت میں جاری ہونی چاہیے؟

متعلقہ بروشر کے مطابق جنسی تشدد کے تعین کے لیے ڈی این اے تجزیے کی رپورٹ جاری کرنے کی مقررہ مدت 3 سے 6 ماہ ہے۔

اس سروس کے لیے چیئرمین، ڈپارٹمنٹ آف فارنزک میڈیسن، خیبر میڈیکل کالج پشاور ذمہ دار افسر ہیں، جبکہ اپیل کے لیے ڈین، خیبر میڈیکل کالج پشاور مقرر ہیں۔

مقررہ مدت میں رپورٹ نہ ملے تو کیا کریں؟

اگر ڈی این اے تجزیے کی رپورٹ مقررہ 3 سے 6 ماہ کی مدت میں جاری نہ ہو تو متعلقہ درخواست یا کیس کی رسید، کیس نمبر اور دیگر ضروری دستاویزات محفوظ رکھیں۔

مقررہ مدت گزرنے کے بعد شہری متعلقہ اپیل اتھارٹی، یعنی ڈین خیبر میڈیکل کالج پشاور سے رجوع کر سکتے ہیں۔ اگر مسئلہ حل نہ ہو یا سروس مقررہ وقت میں فراہم نہ کی جائے تو کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن سے بھی شکایت کی جا سکتی ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ مختلف میڈیکولیگل خدمات کے لیے الگ الگ مدت مقرر ہے۔ اس لیے ایک سروس کی مقررہ مدت کو دوسری سروس پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ جنسی تشدد کے تعین کے لیے ڈی این اے تجزیے کی رپورٹ کی مقررہ مدت 3 سے 6 ماہ ہے۔

شہریوں کے لیے ضروری معلومات

متعلقہ کیس کی رسید، کیس نمبر اور دیگر ضروری دستاویزات محفوظ رکھیں۔ رپورٹ کے اجرا کے لیے مقررہ مدت کو مدنظر رکھیں اور تاخیر کی صورت میں متعلقہ اپیل اتھارٹی سے رجوع کریں۔ ضرورت پڑنے پر کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن سے بھی شکایت کی جا سکتی ہے۔

کے پی آر ٹی ایس رابطہ: 091-9216375
ای میل: pschief.rts@kp.gov.pk
ویب سائٹ: www.kprts.gov.pk

نوٹ: سروس کا نام، مقررہ مدت، ذمہ دار افسر اور اپیل اتھارٹی متعلقہ کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کے بروشر میں درج معلومات کے مطابق بیان کیے گئے ہیں۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں