تحریر: ڈاکٹر صاحبزادہ جواد الفیضی
قدرت کا حسن ہمیشہ سے انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتا آیا ہے۔ برف پوش پہاڑ، گلیشیئرز، سرسبز وادیاں، دریا، جھیلیں اور بلند و بالا چوٹیاں شمالی پاکستان کی شناخت ہیں۔ گلگت بلتستان، چترال، سوات، دیر، مالاکنڈ، کوہستان، مانسہرہ اور ہزارہ کی وادیاں نہ صرف پاکستان کا قدرتی حسن ہیں بلکہ یہ خطہ پورے ملک کے آبی مستقبل کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔
لیکن یہی پہاڑی خطہ اب موسمیاتی تبدیلی کے ایک نئے اور خطرناک دور میں داخل ہو رہا ہے۔ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت، گلیشیئرز کا پگھلاؤ، غیر معمولی بارشیں، بادل پھٹنے کے واقعات، لینڈ سلائیڈنگ، فلیش فلڈز اور Glacial Lake Outburst Floods (GLOFs) یعنی گلیشیئر جھیلوں کے اچانک پھٹنے سے آنے والے سیلاب، پہاڑی آبادیوں کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔
نیپال کا حالیہ سانحہ: ہمالیہ کا ایک خطرناک انتباہ
26 اگست 2026 کو نیپال اور تبت کی سرحدی وادی میں آنے والے انتہائی تباہ کن سیلاب نے پوری دنیا کو ایک بار پھر ہمالیائی خطے کی بدلتی ہوئی ماحولیاتی حقیقت کی طرف متوجہ کیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک گلیشیئر کے نچلے حصے کے انہدام سے برف، چٹان اور ملبے کا ایک طاقتور ریلا پیدا ہوا، جس نے دریائی راستے میں داخل ہو کر انتہائی تیزی سے تباہی پھیلائی۔ سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے جبکہ بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ ہیں۔
یہ محض ایک سیلاب نہیں تھا۔ یہ اس بات کی یاد دہانی تھی کہ بلند پہاڑی علاقوں میں کسی گلیشیئر، برفانی جھیل، پہاڑی ڈھلوان یا دریا کے نظام میں ہونے والی اچانک تبدیلی چند منٹوں میں پورے پورے قصبوں، سڑکوں، پلوں اور وادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
نیپال کا یہ واقعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ہمالیہ کی قدرتی سرحدیں سیاسی سرحدوں کی پابند نہیں۔ ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش ایک مسلسل ماحولیاتی نظام ہیں۔ نیپال، بھارت، چین اور پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔
بھارت کے پہاڑی علاقوں میں بھی خطرے کی گھنٹی
بھارت کے ہمالیائی علاقوں میں بھی حالیہ برسوں کے دوران شدید بارشوں، بادل پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلاب کے واقعات میں تباہی دیکھی گئی ہے۔ گزشتہ برس بھارتی ہمالیائی خطے میں فلیش فلڈ نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کیا تھا۔
نیپال کے حالیہ سانحے کے بعد بھارت کے بعض نشیبی علاقوں میں بھی دریاؤں میں پانی کے اضافے کے خدشات کے باعث الرٹ جاری کیے گئے۔
یہ واقعات ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ مسئلہ کسی ایک ملک یا ایک وادی کا نہیں، بلکہ پورے ہمالیائی، قراقرمی اور ہندوکش خطے کا مشترکہ ماحولیاتی مسئلہ ہے۔
گلوبل وارمنگ اور گلیشیئرز
گلوبل وارمنگ کا بنیادی مطلب عالمی اوسط درجۂ حرارت میں مسلسل اضافہ ہے۔ پہاڑی علاقوں میں درجۂ حرارت میں معمولی اضافہ بھی برف اور گلیشیئرز کے نظام پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
پاکستان کے شمالی علاقوں میں ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے موجود ہیں۔ بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کے نتیجے میں برف کے پگھلنے کی رفتار، برفانی جھیلوں کی تشکیل اور بعض مقامات پر گلیشیئرز کے رویے میں تبدیلی خطرات پیدا کر رہی ہے۔
پاکستان کی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں تقریباً 3,044 گلیشیئر جھیلیں موجود ہیں، جن میں سے 33 کو خطرناک GLOF کے لیے حساس قرار دیا گیا ہے۔ ان واقعات سے 7.1 ملین سے زیادہ افراد کے متاثر ہونے کا خطرہ بتایا گیا ہے۔
یہ اعداد و شمار معمولی نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمارے پہاڑی علاقوں میں ہزاروں ایسی جھیلیں اور برفانی ذخائر موجود ہیں جن کی نگرانی، سائنسی تحقیق اور ابتدائی انتباہ کے نظام کی مسلسل ضرورت ہے۔
گلیشیئر برسٹ یا GLOF کیا ہے؟
عام طور پر گلیشیئر کے پگھلنے سے پانی جمع ہو کر ایک جھیل بن جاتی ہے۔ یہ جھیل اکثر برف، مٹی، پتھروں اور ملبے سے بنی قدرتی دیوار کے پیچھے موجود ہوتی ہے۔
اگر درجۂ حرارت میں اچانک اضافہ ہو، شدید بارش ہو، برف یا چٹان کا بڑا تودہ جھیل میں گرے یا قدرتی بند کمزور ہو جائے تو یہ جھیل اچانک پھٹ سکتی ہے۔
اسے Glacial Lake Outburst Flood — GLOF کہا جاتا ہے۔
اس سیلاب میں صرف پانی نہیں ہوتا بلکہ برف، پتھر، مٹی، درخت، چٹانیں اور تعمیراتی ملبہ بھی انتہائی رفتار سے نیچے آتا ہے۔ تنگ پہاڑی وادیوں میں یہ ایک خطرناک ’’موت کی لہر‘‘ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ پاکستان کے NDMA نے بھی خبردار کیا ہے کہ GLOF کی لہریں تنگ وادیوں میں تیزی سے سفر کرتے ہوئے گھروں، پلوں، سڑکوں، آبپاشی نظام اور پن بجلی کے منصوبوں کو تباہ کر سکتی ہیں۔
بادل پھٹنا: چند منٹوں میں تباہی
Cloudburst یا بادل پھٹنے کا واقعہ اس وقت انتہائی شدید شکل اختیار کرتا ہے جب کسی محدود علاقے میں بہت کم وقت کے اندر غیر معمولی مقدار میں بارش ہو جائے۔
پہاڑی علاقوں میں اس کے اثرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ بارش کا پانی ڈھلوانوں سے انتہائی تیزی سے نیچے آتا ہے، ندی نالوں میں اچانک طغیانی پیدا ہوتی ہے، مٹی اور پتھر بہنے لگتے ہیں اور چند منٹوں یا گھنٹوں میں فلیش فلڈ پورے علاقے کو متاثر کر سکتا ہے۔
پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران شدید بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ نے خصوصاً خیبر پختونخوا، کشمیر اور شمالی پہاڑی علاقوں میں شدید نقصانات پیدا کیے ہیں۔ NDMA نے بھی شمالی خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں، بشمول چترال، دیر، سوات اور کمراٹ، کو GLOF اور اچانک سیلاب کے خطرات کے حوالے سے حساس قرار دیا ہے۔
گلگت بلتستان: برفانی جھیلوں کے سائے میں آبادیاں
گلگت بلتستان پاکستان کے سب سے زیادہ حساس ماحولیاتی خطوں میں سے ایک ہے۔ ہنزہ، غذر، گوپس یاسین، اشکومن، شگر، سکردو اور دیگر وادیاں گلیشیئرز اور برفانی جھیلوں سے گھری ہوئی ہیں۔
NDMA کے مطابق ہنزہ، غذر، گوپس یاسین، شگر، سکردو اور بالائی چترال کے گلیشیئرائزڈ بیسن GLOF کے حوالے سے خاص طور پر حساس ہیں۔
گلگت بلتستان کی تاریخ میں GLOF کے تباہ کن واقعات پہلے بھی رونما ہو چکے ہیں۔ NDMA کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو صدیوں کے دوران خطے میں تقریباً 35 تباہ کن GLOF واقعات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ گوجال اور اشکومن جیسے علاقوں میں ماضی میں ایسے واقعات نے آبادیوں اور زرعی زمین کو نقصان پہنچایا۔
یہ صورتحال ہمیں بتاتی ہے کہ خطرہ مستقبل کا کوئی فرضی منظرنامہ نہیں بلکہ ایک موجودہ حقیقت ہے۔
چترال اور مالاکنڈ
چترال کا جغرافیہ اسے ایک طرف بے مثال قدرتی حسن دیتا ہے تو دوسری طرف اسے موسمیاتی خطرات کے لیے انتہائی حساس بناتا ہے۔ بلند پہاڑ، گلیشیئرز، برفانی جھیلیں اور تنگ وادیاں اسے GLOF، لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈ کے خطرے سے دوچار کرتی ہیں۔
NDMA نے 2026 کے لیے Reshun، Yarkhun Valley، Lasht، Istach، Dizq اور Brep سمیت بالائی چترال کے متعدد مقامات کو ممکنہ GLOF خطرات کے حوالے سے نشان زد کیا ہے۔
مالاکنڈ، سوات، دیر اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں بھی مسئلہ صرف گلیشیئرز تک محدود نہیں۔ یہاں شدید بارش، بادل پھٹنا، ندی نالوں میں اچانک طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈ زیادہ اہم خطرات بن جاتے ہیں۔
ہزارہ: خطرہ ہمارے دروازے پر
ہزارہ ڈویژن بھی اس بدلتے ہوئے موسمیاتی منظرنامے سے محفوظ نہیں۔
مانسہرہ، ایبٹ آباد، بٹگرام، تورغر، کوہستان اور بالائی وادیوں میں پہاڑی ڈھلوانیں، دریا، ندی نالے اور تنگ وادیاں موجود ہیں۔ شدید بارش کے دوران یہی ندی نالے چند منٹوں میں خطرناک سیلابی راستوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
بالخصوص دریائے کنہار، سرن، سندھ اور ان سے ملحقہ ندی نالوں کے کنارے آبادیاں، سڑکیں، پل، ہوٹل، سیاحتی مراکز اور زرعی زمینیں اچانک آنے والے سیلاب سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
ہزارہ میں ایک اضافی مسئلہ بے ہنگم تعمیرات اور قدرتی آبی گزرگاہوں پر تجاوزات بھی ہیں۔ جہاں پہلے پانی کے بہاؤ کے لیے قدرتی راستے موجود تھے، وہاں اگر گھر، دکانیں، ہوٹل یا سڑکیں تعمیر کر دی جائیں تو معمول سے زیادہ بارش بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔
کیا ہر سیلاب کو گلوبل وارمنگ سے جوڑنا درست ہے؟
یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے۔
ہر بادل پھٹنے، سیلاب یا گلیشیئر حادثے کا واحد سبب گلوبل وارمنگ قرار دینا سائنسی طور پر درست نہیں۔ کسی مخصوص واقعے کے اسباب جاننے کے لیے مقامی موسمیاتی، ہائیڈرولوجیکل اور جغرافیائی شواہد کا تفصیلی تجزیہ ضروری ہوتا ہے۔
لیکن موسمیاتی تبدیلی خطرات کے پس منظر اور شدت کو تبدیل کر رہی ہے۔ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت برف اور گلیشیئر کے نظام کو متاثر کرتا ہے، جبکہ گرم فضا زیادہ نمی رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے بعض حالات میں انتہائی شدید بارش کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ’’کیا ہر سیلاب گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ہے؟‘‘
اصل سوال یہ ہے:
کیا بدلتا ہوا موسم ایسے خطرات کو زیادہ شدید، زیادہ غیر متوقع اور زیادہ تباہ کن بنا سکتا ہے؟
جواب ہے: ہمیں اس امکان کو انتہائی سنجیدگی سے لینا ہوگا۔
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
پاکستان کو اب صرف سیلاب آنے کے بعد امدادی سرگرمیوں تک محدود رہنے کے بجائے Disaster Risk Reduction اور Climate Adaptation کو ترقیاتی منصوبہ بندی کا بنیادی حصہ بنانا ہوگا۔
1۔ ابتدائی انتباہ کا مؤثر نظام
GLOF، کلاؤڈ برسٹ اور فلیش فلڈ کے لیے جدید Early Warning Systems نصب کیے جائیں۔ صرف سائنسی اداروں تک معلومات پہنچنا کافی نہیں؛ خطرے کی اطلاع چند منٹوں میں مقامی آبادی، سیاحوں، ہوٹل مالکان اور ضلعی انتظامیہ تک پہنچنی چاہیے۔
2۔ خطرناک علاقوں کی میپنگ
ہر ضلع میں GLOF، فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ اور Cloudburst کے ممکنہ Hotspots کی سائنسی بنیادوں پر نشاندہی کی جائے۔
3۔ دریا اور ندی نالوں کے قدرتی راستے محفوظ کیے جائیں
قدرتی Water Channels پر تعمیرات اور تجاوزات روکنا ضروری ہے۔ ترقی کے نام پر پانی کے قدرتی راستے بند کرنا مستقبل کی تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
4۔ مقامی کمیونٹی کو تیار کیا جائے
پہاڑی علاقوں کے لوگ سب سے پہلے خطرے کا سامنا کرتے ہیں۔ انہیں صرف متاثرین نہیں بلکہ First Responders بنانا ہوگا۔
ہر گاؤں میں Community Disaster Response Teams تشکیل دی جا سکتی ہیں، جنہیں ابتدائی طبی امداد، سرچ اینڈ ریسکیو، انخلا اور ہنگامی مواصلات کی تربیت دی جائے۔
5۔ اسکولوں اور نوجوانوں کو شامل کیا جائے
Climate Change اور Disaster Preparedness کو اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر عملی سرگرمیوں سے جوڑا جائے۔ نوجوان Volunteer Emergency Response Teams تشکیل دے سکتے ہیں۔
6۔ ماحول دوست سیاحت
شمالی پاکستان میں سیاحت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ لیکن اگر سیاحتی انفراسٹرکچر دریاؤں، ندی نالوں اور غیر محفوظ ڈھلوانوں پر تعمیر کیا گیا تو یہ سیاحت کو معاشی موقع کے بجائے خطرے میں تبدیل کر سکتا ہے۔
اس لیے Eco-Tourism، Carrying Capacity، Waste Management، Climate-Resilient Infrastructure اور Responsible Tourism کو سیاحتی پالیسی کا لازمی حصہ بنایا جائے۔
ایک مشترکہ ہمالیائی حکمت عملی کی ضرورت
نیپال کا حالیہ سانحہ ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ پہاڑوں کے خطرات سرحدوں کو نہیں مانتے۔
ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے ممالک—پاکستان، بھارت، چین، نیپال اور افغانستان—کو موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئر مانیٹرنگ، ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا، Early Warning Systems اور Disaster Risk Reduction کے حوالے سے علاقائی تعاون بڑھانا ہوگا۔
اگر ایک گلیشیئر جھیل پھٹتی ہے تو اس کا پانی کسی سرحدی لکیر کو نہیں پہچانتا۔ اگر شدید بارش پہاڑ پر ہوتی ہے تو اس کا اثر نیچے آنے والے پورے دریائی نظام پر پڑتا ہے۔
شمالی پاکستان صرف برف پوش پہاڑوں اور خوبصورت وادیوں کا نام نہیں۔ یہ ایک زندہ اور حساس ماحولیاتی نظام ہے۔ یہاں کا ہر گلیشیئر، ہر جھیل، ہر ندی، ہر جنگل اور ہر پہاڑی ڈھلوان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
نیپال کا حالیہ المیہ، بھارت کے ہمالیائی علاقوں کے واقعات اور پاکستان میں بڑھتے ہوئے Cloudburst، Flash Flood اور GLOF کے خطرات ہمیں ایک واضح پیغام دے رہے ہیں:
موسمیاتی تبدیلی مستقبل کا مسئلہ نہیں رہی؛ یہ ہمارے آج کا مسئلہ ہے۔
ہمیں پہاڑوں سے صرف خوبصورتی حاصل نہیں کرنی بلکہ ان کی حفاظت بھی کرنی ہے۔ ہمیں ترقی چاہیے، مگر ایسی ترقی جو قدرتی نظام کو تباہ نہ کرے۔ ہمیں سڑکیں، پل، ہوٹل اور پن بجلی کے منصوبے چاہییں، مگر Climate-Resilient منصوبہ بندی کے ساتھ۔
اور سب سے بڑھ کر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قدرت کو شکست نہیں دی جا سکتی؛ قدرتی خطرات کے ساتھ دانش مندی سے رہنا سیکھا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے شمالی علاقوں کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ ریلیف سے پہلے رسک ریڈکشن، ردعمل سے پہلے تیاری، اور ترقی کے ساتھ موسمیاتی موافقت کو اپنی ترجیح بنایا جائے۔
کیونکہ پہاڑ ہمیں خبردار کر رہے ہیں
سوال یہ نہیں کہ اگلا سیلاب کب آئے گا؛ سوال یہ ہے کہ جب آئے گا تو ہم کتنے تیار ہوں گے؟
ڈاکٹر صاحبزادہ جواد الفیضی ۔
ڈاکٹر صاحبزادہ جواد الفیضی سائبان ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے چیف ایگزیگٹو آفیسر اور پبلک پالیسی ایکسپرٹ ہیں۔۔ڈویلمنٹ سیکٹر میں ان کا تجربہ تین دہائیوں پر محیط ہے۔صاحبزادہ جواد ہزارہ یونیورسٹی کی ایلومینائی ایسوسی ایشن کے صدر ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف سول سوسائٹی نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔
