Skip to content

خیبر پختونخوا میں اسلحہ لائسنس کیسے حاصل کریں؟

شیئر

شیئر

خیبر پختونخوا میں اسلحہ لائسنس کے حصول کے لیے صرف درخواست جمع کرانا کافی نہیں بلکہ درخواست گزار کو قانون میں مقرر کردہ شرائط پوری کرنا اور متعلقہ دستاویزات فراہم کرنا ہوتی ہیں۔

شہریوں کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ درخواست کے ابتدائی مرحلے میں متعلقہ محکمہ کتنے وقت میں سروس فراہم کرنے کا پابند ہے اور تاخیر کی صورت میں کہاں شکایت کی جاسکتی ہے۔کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کے مطابق اسلحہ لائسنس سے متعلق سروس کو نوٹیفائیڈ پبلک سروس کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ کے پی آر ٹی ایس کے مطابق ’’پولیس تصدیق سے پہلے اسلحہ کا لائسنس‘‘ کے لیے مقررہ مدت 7 دن ہے، ذمہ دار افسر ڈپٹی کمشنر جبکہ اپیلیٹ اتھارٹی متعلقہ کمشنر ہے۔

اسلحہ لائسنس کے لیے قانون کیا کہتا ہے؟

خیبر پختونخوا میں اسلحہ لائسنس کا قانونی فریم ورک بنیادی طور پر خیبر پختونخوا آرمز ایکٹ 2013 اور اس کے تحت بنائے گئے خیبر پختونخوا آرمز رولز 2014 پر مشتمل ہے۔ آرمز ایکٹ کا مقصد صوبے میں اسلحہ یا ایمونیشن کی تیاری، مرمت، فروخت، نقل و حمل، رکھنے اور استعمال کو قانون کے مطابق ریگولیٹ کرنا ہے۔

آرمز رولز 2014 کے مطابق کسی فرد کو لائسنس دینے کے لیے مختلف قانونی شرائط پوری ہونا ضروری ہیں۔

کون شخص اسلحہ لائسنس کے لیے اہل ہے؟

قوانین کے مطابق درخواست گزار کے لیے بنیادی شرائط میں شامل ہیں:درخواست گزار پاکستانی شہری ہو۔اس کی عمر کم از کم 21 سال ہو۔اس کے پاس قومی شناختی کارڈ موجود ہو۔وہ ذہنی طور پر صحت مند ہو اور کسی ذہنی بیماری یا عارضے کا شکار نہ ہو۔وہ قانون سے مفرور نہ ہو۔وہ عدالت سے سزا یافتہ نہ ہو؛ تاہم قانون میں اس شخص کے لیے استثنا موجود ہے جس نے اپنی سزا پوری کرلی ہو۔وہ دیوالیہ نہ ہو۔وہ عادی مجرم نہ ہو۔

مقامی پولیس کے نزدیک اس کا عمومی کردار اور سابقہ ریکارڈ لائسنس کے لیے موزوں ہو۔حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً مقرر کی جانے والی دیگر شرائط بھی پوری کرنا ہوں گی۔ یعنی صرف عمر 21 سال ہونا کافی نہیں؛ درخواست گزار کی شناخت، قانونی حیثیت اور پولیس ریکارڈ سمیت دیگر شرائط بھی دیکھی جاتی ہیں۔

اسلحہ لائسنس کے لیے کون سے کاغذات درکار ہیں؟

کے پی آر ٹی ایس کی سرکاری معلومات کے مطابق اسلحہ لائسنس کے لیے بنیادی طور پر درج ذیل دستاویزات درکار ہیں:

مقررہ درخواست فارم شناختی کارڈ (CNIC)،دو پاسپورٹ سائز تصاویر،300 روپے کے اسٹامپ پیپر پر حلف نامہ،بھاری ہتھیار، مثلاً 222 یا 223 کے لیے سرکاری معلومات میں 2,000 روپے کے اسٹامپ پیپر کا ذکر ہے۔

اگر درخواست گزار سرکاری ملازم ہے تو آخری پے سلپ اور متعلقہ محکمے کے سربراہ/ضلع افسر کی جانب سے دستخط شدہ خط بھی درکار ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری نظام میں پولیس تصدیق بھی درخواست کے عمل کا حصہ ہے۔

درخواست دینے کا طریقہ کیا ہے؟

درخواست گزار کو مطلوبہ دستاویزات مکمل کرکے متعلقہ آرمز لائسنس برانچ میں جسمانی طور پر حاضر ہونا ہوتا ہے۔ وہاں درخواست کی پروسیسنگ کے ساتھ بائیومیٹرک اور دیگر معلومات الیکٹرانک نظام میں درج کی جاتی ہیں۔اس کے بعد درخواست متعلقہ پولیس اسٹیشن کو درخواست گزار کی تصدیق کے لیے بھیجی جاتی ہے۔ پولیس تصدیق کے بعد درخواست پر مزید کارروائی کی جاتی ہے۔ صوبائی نوعیت کی درخواست میں متعلقہ ضلعی کوٹے کے مطابق فیس جمع کرانے اور رجسٹرڈ ڈیلر سے اسلحہ نمبر حاصل کرنے کا مرحلہ آتا ہے، جس کے بعد لائسنس جاری کیا جاتا ہے۔

آل پاکستان لائسنس کی صورت میں پولیس تصدیق کے بعد درخواست مزید منظوری کے لیے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو بھیجی جاتی ہے۔ منظوری کے بعد فیس اور اسلحہ نمبر سے متعلق کارروائی مکمل کرکے لائسنس جاری کیا جاتا ہے۔

فیس کتنی ہے؟

کے پی آر ٹی ایس کی موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق:

صوبائی لائسنس: 3,910 روپے

آل پاکستان لائسنس: 9,410 روپے

سرکاری ملازمین: 315 روپے

یہ فیس سرکاری معلومات کے مطابق ہے، تاہم درخواست جمع کرانے سے پہلے متعلقہ دفتر سے موجودہ فیس کی تصدیق کرنا بہتر ہے۔

7 دن کی مدت کیا ہے؟

یہاں کے پی آر ٹی ایس کا کردار اہم ہوجاتا ہے۔ پولیس تصدیق سے پہلے اسلحہ لائسنس کے لیے سروس کی مقررہ مدت 7 دن دی گئی ہے۔ اس سروس کے ذمہ دار افسر ڈپٹی کمشنر اور اپیلیٹ اتھارٹی متعلقہ کمشنر ہیں۔ یہ مقررہ مدت اس نوٹیفائیڈ سروس کے مرحلے سے متعلق ہے؛ اس کے بعد پولیس تصدیق اور لائسنس کے دیگر قانونی مراحل مکمل ہونا بھی ضروری ہیں۔

اگر 7 دن میں سروس نہ ملے تو کیا کریں؟

اگر شہری نے مقررہ طریقہ کار کے مطابق درخواست جمع کرا دی ہے لیکن متعلقہ سروس میں بلاجواز تاخیر ہوتی ہے تو شہری کو خاموشی سے انتظار کرنے کے بجائے اپنے قانونی حق کو استعمال کرنا چاہیے۔

کے پی آر ٹی ایس کے مطابق اس سروس کی اپیلیٹ اتھارٹی متعلقہ کمشنر ہے۔ شہری درخواست کی رسید، درخواست نمبر اور جمع کرائی گئی دستاویزات کے ساتھ متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی سے رجوع کرسکتا ہے۔ اگر معاملہ پھر بھی حل نہ ہو تو شہری کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن سے رجوع کرسکتا ہے۔

کے پی آر ٹی ایس کا بنیادی مقصد ہی نوٹیفائیڈ عوامی خدمات مقررہ وقت میں شفاف انداز سے فراہم کرنا اور تاخیر، انکار یا سروس میں کمی کی صورت میں متعلقہ سرکاری اہلکاروں کو جواب دہ بنانا ہے۔

کے پی آر ٹی ایس سے رابطہ کیسے کریں؟

رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن خیبر پختونخوافون: 091-9216375

ویب سائٹ: www.kprts.gov.pk

⁠ای میل: pschief.rts@kp.gov.pk

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں