مانسہرہ: محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کے تحت ڈی سی ٹی ای انڈکشن پروگرام مکمل کرنے والی ضلع مانسہرہ کی خواتین اساتذہ ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود اپنی ڈی ایم سی سے محروم ہیں، جس کے باعث خصوصاً کمپارٹمنٹ آنے والی امیدواروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈی سی ٹی ای انڈکشن پروگرام کے تحت ہر سال ٹریننگ مکمل کرنے والے اساتذہ کا باقاعدہ امتحان لیا جاتا ہے۔ رواں سال بھی امتحان منعقد کیا گیا، جس کے نتائج کا اعلان جولائی کے پہلے ہفتے میں کیا گیا۔ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے امیدواروں کو پیغامات اور میڈیا کے ذریعے مطلع کیا گیا تھا کہ وہ امتحان دینے والے سنٹر سے دو روز بعد اپنی ڈی ایم سی حاصل کر سکتے ہیں۔
تاہم ضلع مانسہرہ کی خواتین اساتذہ کی ڈی ایم سیز تاحال ایلیمنٹری کالج مانسہرہ نہیں پہنچ سکیں۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ وہ متعدد بار ڈی ایم سی کے حصول کے لیے کالج کے چکر لگا چکی ہیں، لیکن انہیں تاحال دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں۔
ذرائع کے مطابق ایلیمنٹری کالج مانسہرہ کے عملے کی جانب سے ڈائریکٹوریٹ ایبٹ آباد سے رابطہ کرنے پر بتایا گیا کہ” ضلع مانسہرہ کی خواتین اساتذہ کی ڈی ایم سیز غلطی سے پٹن، کوہستان بھیج دی گئی ہیں۔”
متاثرہ اساتذہ کے مطابق امتحان میں ناکام ہونے والے امیدواروں کو نتیجہ جاری ہونے کے ایک ماہ کے اندر دوبارہ داخلے کے لیے درخواست جمع کرانا ہوتی ہے، تاہم ڈی ایم سی نہ ملنے کے باعث بالخصوص کمپارٹمنٹ والی امیدواروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
خواتین اساتذہ نے ڈائریکٹر ڈی سی ٹی ای ایبٹ آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مانسہرہ کی خواتین اساتذہ کی ڈی ایم سیز دوبارہ پرنٹ کرکے جلد از جلد ایلیمنٹری کالج مانسہرہ بھجوائی جائیں تاکہ امیدواروں کی پریشانی دور ہوسکے اور وہ مقررہ مدت کے اندر آئندہ مرحلے کے لیے درخواستیں جمع کرا سکیں۔
