تحریر: انصار اللہ ناصر گجر
گزشتہ دنوں سپریم کورٹ اف پاکستان کے جسٹس صلاح الدین پنہور نے ایک ریفرنس میں ایسے کچھ ایسے امور پر بحث کی ہے جو کہ موجودہ نظام انصاف کی بنیادوں کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں۔
عدالتی فیصلہ میں پولیس کی جانب سے ایف ائی ار کے اندراج میں تاخیر، ناقص تفتیش ،فریادی، سائل، مدعی، درخواست گزار جیسے الفاظ کی تعبیر و تشریح، کالونیل نظام انصاف کا تعارف، اور حاکم اور محکوم کے تعلق کی قانونی توضیح جیسے نکات زیرِ بحث رہے جن کا خلاصہ ذیل پیش ہے۔
- ابتدائی اطلاعی رپورٹ/ FIR درج کرنے میں پولیس کے تاخیری حربے اور نظامِ انصاف پر اس کے اثرات:
فیصلہ میں کہا گیا کہ کہ عموماً ایف ائی ار کے اندراج میں پولیس کی جانب سے تاخیر کی جاتی ہے۔ ابتدائی اطلاعی رپورٹ کے اندارج کے بعد ہی قانونی مشینری حرکت میں آتی ہے اور پولیس قانوناً تفتیش شروع کر سکتی ہے۔ اب جب ایف آئی آر ہی تاخیر سے درج ہوگی تو اس دوران انتہائی اہم شہادتیں ضائع ہو جاتی ہیں اور بعد ازاں ملزم کو شک کا فائدہ ملتا ہے انہی وجوہات کی بنا پر ملزمان عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں۔ پولیس تحت قانون پابند ہے کہ وہ قابل دست اندازی جرم کی اطلاع ملتے ہی فوراََ ایف ائی ار کا اندراج کرے اور تفتیش شروع کرے تاکہ جلد از جلد تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے شہادتوں کو محفوظ کرے اور ملزمان تک رسائی حاصل کرے۔ کرے کوئی بھرے کوئی کے مصداق پولیس کی غلطی و لاپرواہی کی سزا مظلوم کو نہیں دی جا سکتی۔ - ناقص پولیس تفتیش پر سزا و جزا کا عمل:
عدالت نے تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات کا ذکر کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر تفتیش ناقص ہو اور اس سبب شہادتیں ضائع ہوجائیں تو ہر سرکاری اہلکار لائق تعزیر ہے۔ - سائل، فریادی، درخواست گزار جیسے الفاظ کی ممانعت:
اس دوران عدالت نے پولیس کاغذات میں کثرت سے لکھے والے جانے والے الفاظ/ اصطلاحات کا بھی احاطہ کیا۔ عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ FIR میں اطلاع دہندہ کے لیے عموماً سندھ میں "فریادی” اور باقی صوبوں میں "سائل” یا "مدعی” جیسے الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی پولیس کو دی جانے والی درخواست کی ابتدا "بخدمت جناب SHO صاحب” جیسے الفاظ سے ہوتی ہے بخدمت کے معنی تو یہ ہوئے کہ جیسے شہری پولیس کا خدمت گزار ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پولیس شہریوں کی خدمت گزار ہونی چاہیے۔ ایسے الفاظ و اصطلاحات حق جتانے کے بجائے عرض و التجا کی عکاسی کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ضابطہ فوجداری 1898 اور آئین پاکستان کے بالکل برعکس پولیس رولز میں درخواست گزار یا سائل /complainant کا لفظ ہنوز موجود ہے، جو کہ قانون و آئین سے متصادم ہونے کے باوجود قانون میں موجود ہے۔ عدالت نے ضابطہ فوجداری 1898 اور آئین کی دفعات پر بحث کی جس سے واضح ہوا کہ پولیس کو سائل یا درخواست گزار لکھنے کے بجائے اطلاع دہندہ لکھنا چاہیے۔ - نظامِ انصاف پر ایسے الفاظ و اصطلاحات کے اثرات:
ایسی اصطلاحات کا استعمال غلامی کے دور کی یادگار ہے جس میں محکوم حاکم کے رحم و کرم پر ہوتا تھا۔ جہاں محکوم حاکم سے حقوق کے مطالبہ کے بجائے رحم کی اپیل ہی کر سکتے تھے۔ ایسے قانونی نظام میں آزاد طرزِ فکر و عمل اپنی جڑیں مضبوط نہیں کر سکتا۔ - حاکمیت و محکومیف کا تصور؛ آئینۂ تاریخ میں۔۔
اس کے بعد عدالت نے تاریخ کی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے واضح کیا کہ موجودہ پولیس کا نظام کالونیل دور کی پیداوار ہے جس کو برطانوی آقاؤں نے عوام پر اپنی گرفت مضبوط کرنے، اور انہیں غلام بنانے کے لیے قائم کیا۔ اسی طرح دیگر اداروں میں بھی عوام اپنے حقوق کے مطالبے کے بجائے رحم کی اپیل لے کر جاتے تھے۔ یہ تمام اصطلاحات غلامی کے دور کی یادگار ہیں اور ہنوز فوجداری نظام انصاف میں رائج ہیں۔ اب بھی تمام ادارے اسی کالونیل سوچ کے نقیب ہیں اور وہی طرز حکمرانی قائم ہے۔ - آزادی کے باوجود وہی قانونی ڈھانچہ
گو کہ ہم نے بظاہر برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کر لی ہے لیکن کالونیل سوچ اور کالونیل ڈھانچہ اب بھی اپنے پورے اب و تاب سے قائم و دائم ہے۔ مقتدرہ میں عوام کو غلام رکھے جانے کی سوچ اور حاکمانہ کلچر حقوق پر مبنی نظام کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ عدالت نے سندھ کے برطانوی دور کے ملٹری کمانڈر سر چارلز نےپیئر کا حوالہ دیا جنہوں نے ایک قانون دان اور ملٹری کورٹ کے جج کو سختی سے لکھا تھا کہ "یہاں ہمارا مقصد اپنی حاکمیت کو برقرار رکھنا ہے تمہیں یہاں حکومت برطانیہ نے عدالتی امور نمٹانے کے غرض سے بھیجا ہے، انصاف اور سماجی حقوق کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں” - اعلی پولیس حکام کو احکامات:
بعض الفاظ اور اصطلاحات جیسے مدعی ساحل فدوی مدعی فریادی وغیرہ ائین میں درج بنیادی انسانی حقوق کے بھی خلاف ہیں۔ عدالت نے کہا کہ مدعی سائل فدوی فریادی وغیرہ الفاظ کے بجائے ابتدائی اطلاعی رپورٹ/ FIR میں اطلاع دہندہ کا لفظ استعمال کیا جائے اور بخدمت جناب کے بجائے "جناب SHO ” ہی لکھ کر مخاطب کیا جائے۔
گو کہ ملک کی اعلی عدلیہ نے متعلقہ اداروں سے اس بابت مناسب قانون سازی کے احکامات جاری کئے ہیں لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ ان احکامات پر عمل کس حد تک ہوتا ہے اور آیا یہ امور قابلِ عمل ہیں بھی یا نہیں۔
تحریر:
انصار اللہ ناصر گجر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ (مانسہرہ)
فون نمبر: 03223439071
آفس ایڈریس: آفس نمبر 12, سیکنڈ فلور، زینت خان لائرز پلازہ، ڈسٹرکٹ کورٹس مانسہرہ