اسلام آباد میں 28 جنوری 2026 کو منعقد ہونے والی اعلیٰ سطحی مشاورتی کانفرنس کیپیسٹی ڈیولپمنٹ فار کلائمیٹ ریزیلینٹ انفراسٹرکچر (CD-CRI) نے اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کی کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے خطرات کے پیش نظر عوامی انفراسٹرکچر کے تحفظ کی منصوبہ بندی کس طرح کر رہا ہے۔
جاپان کی تنظیم کوکیو ناکی کوڈوموٹاچی (KnK) نے پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC)، نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ (NDRMF)، جرمن ادارے (GIZ) اور ڈاکٹر قیصر علی ایسوسی ایٹس کے اشتراک سے قومی سطح کی انجینئرنگ قیادت، آفات سے نمٹنے والے اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت اکٹھا کیا، جس کا مقصد خطرات سے دوچار انفراسٹرکچر کو شواہد پر مبنی مضبوط اور محفوظ نظام میں تبدیل کرنا ہے۔
کے این کے جاپان کے کنٹری ریپرزنٹیٹیو جاوید اقبال نے بطور میزبان اپنے مہمانوں کو خوش آمدید کیا اور اس اہم تقریب کے اعراض و مقاصد کے بارے بریف کیا۔
تقریب میں شرکت کرنے والوں میں چیئرمین پی ای سی وسیم نذیر، سی ای او این ڈی آر ایم ایف بلال انور، جی آئی زیڈ کے ڈاکٹر نکولائی ڈیل مین اور یو این آر سی او کے الیکس فوربس سمیت دیگر اہم شخصیات شامل تھیں۔
تقریب کے نمایاں نکات میں ایک تکنیکی سیشن شامل تھا جس میں نئے ڈیٹا پر مبنی اسٹرکچرل ہیلتھ اسیسمنٹ (SHA) سسٹم کا تعارف کرایا گیا، جو پاکستان بلڈنگ کوڈ 2021 اور عالمی معیار سے ہم آہنگ ہے اور عوامی عمارتوں کی حفاظت اور مضبوطی کے لیے ان کے جائزے کے عمل کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ پی ای سی، این ڈی آر ایم ایف، اقوام متحدہ اور جی آئی زیڈ کے نمائندوں پر مشتمل ایک متحرک پینل مباحثہ ہوا جس میں انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی میں موسمیاتی خطرات کے ڈیٹا، آفات سے نمٹنے کے مالی وسائل اور جامع حکمت عملیوں کے انضمام پر گفتگو کی گئی، تاکہ پالیسی، انجینئرنگ کے عملی پہلو اور کمیونٹی کی ضروریات کے درمیان موجود خلا کو پُر کیا جا سکے۔
تقریب کے دوران جاپان کی تنظیم KnK، پی ای سی اور این ڈی آر ایم ایف کے درمیان ایک تاریخی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط بھی کیے گئے، جس کے تحت ملک بھر میں انفراسٹرکچر کی ترقی کے عمل میں مضبوطی اور پائیداری کو باضابطہ طور پر ادارہ جاتی شکل دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
اس موقع پر چیئرمین پی ای سی وسیم نذیر نے کہا،
“ریزائلینس ایک وقت میں محض ایک اصطلاح تھی، مگر اب میں KnK جاپان کو سرنگ میں روشنی کی مانند دیکھتا ہوں۔”
یہ بیان CD-CRI کے اس سفر کی عکاسی کرتا ہے جو تصور سے عمل کی جانب بڑھ رہا ہے۔
ڈاکٹر نیکولائی ڈیل مین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ایسے انفراسٹرکچر کی فوری ضرورت ہے جو سائنسی شواہد اور جدید ڈیٹا کی بنیاد پر منصوبہ بندی کے تحت تعمیر کیا جائے۔ انہوں نے اسٹرکچرل ہیلتھ اسیسمنٹ جیسے ڈیجیٹل نظام کو فیصلہ سازی کے عمل میں انقلابی قدم قرار دیا اور کہا کہ یہ نظام نیشنل ایڈاپٹیشن پلان اور ریزائلینس فریم ورک سے ہم آہنگ ہے۔ ڈاکٹر نیکولائی کے مطابق اداروں کے درمیان مضبوط شراکت داری کے ذریعے ہی پاکستان پائیدار اور محفوظ عوامی انفراسٹرکچر کی جانب مؤثر پیش رفت کر سکتا ہے۔
یہ منصوبہ ایک ڈیجیٹل اور جی آئی ایس سے منسلک پلیٹ فارم متعارف کراتا ہے جو اسٹرکچرل اسیسمنٹس میں شفافیت بڑھانے، انجینئرنگ معیار کو برقرار رکھنے اور فیصلہ سازی کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں SHA سسٹم کے پائلٹ منصوبے اور پاکستان بلڈنگ کوڈ 2021 سے ہم آہنگی کے ذریعے ریزائلینس کو ایک نظری تصور کے بجائے عملی اور معیاری طریقہ کار میں بدلا جا رہا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ CD-CRI صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں بلکہ اداروں اور صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر بھی مرکوز ہے۔ پی ای سی اور این ڈی آر ایم ایف کی بطور تکنیکی شراکت دار بھرپور شمولیت اس اجتماعی عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ موسمیاتی ریزائلینس کو پاکستان کے عوامی انفراسٹرکچر فریم ورک کا مستقل حصہ بنایا جائے، نہ کہ محض ایک عارضی منصوبہ۔ جرمن وفاقی وزارت برائے اقتصادی تعاون و ترقی (BMZ) کی معاونت اور جی آئی زیڈ کے تعاون سے یہ شراکت داری مقامی مہارت کو فروغ دے رہی ہے، جس میں انجینئرز کی تربیت، مضبوط معیار پر پیشہ ور افراد کی سرٹیفکیشن اور تکنیکی فیصلہ سازی میں خواتین کی حوصلہ افزائی بھی شامل ہے۔
آگے بڑھنے کا راستہ واضح ہے: خطرے سے مضبوطی کی جانب۔ یہ مشترکہ کوشش اس بنیاد کو مضبوط کر رہی ہے کہ پاکستان میں ہر اسکول، ہر اسپتال اور ہر اہم انفراسٹرکچر کو موسمیاتی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے جانچا اور مضبوط بنایا جائے۔ CD-CRI مشاورت ایک محفوظ اور زیادہ مضبوط پاکستان کی جانب ایک اہم قدم ہے، جہاں جدت اور شراکت داری پائیدار انفراسٹرکچر کی ترقی کا راستہ روشن کرتی ہے۔ ہم اس تقریب سے نئی توانائی اور اتحاد کے ساتھ لوٹ رہے ہیں، اس یقین کے ساتھ کہ مل کر ہم آنے والی نسلوں کے لیے خطرے کو مضبوطی میں بدل رہے ہیں۔
تقریب کے آخر میں KNK Japan کے کنٹری ریپرزنٹیٹیو جاوید اقبال نے شرکا کی آمد و دلچسپی پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان شاءاللہ ہم مل کر اس پروجیکٹ کو کامیاب بنائیں گے ، جس کے مثبت اثرات و نتائج گراس روٹ تک جائیں گے۔