کوہستان
پشاور خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے جس میں محکمہ مواصلات و تعمیرات (C&W) کے اندر شدید انتظامی نقائص کو اس بڑے مالی اسکینڈل کی اصل وجہ قرار دیا گیا ہے۔ دنیا نیوز کو موصول ہونے والی تین صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ محکمے میں مؤثر نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام مکمل طور پر مفلوج تھا۔
انکوائری کمیٹی کے مطابق محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں تبادلوں اور تعیناتیوں کے لیے کوئی واضح پالیسی موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محکمے میں جونیئر افسران کو اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا اور ایڈیشنل چارج کا کلچر عام رہا جس سے شفافیت کا عمل شدید متاثر ہوا۔ حیران کن طور پر محکمے میں غیر منظور شدہ چیک بکس جاری کی گئیں جن کا کوئی سرکاری ریکارڈ موجود نہیں ہے جبکہ ٹھیکیداروں کو محکمانہ انکوائری کے بغیر ہی کروڑوں روپے کی ادائیگیاں کر دی گئیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایکس ای این (XEN) کوہستان گزشتہ پانچ سالوں کا آڈٹ ریکارڈ فراہم کرنے میں ناکام رہے جو مالی بدانتظامی کا واضح ثبوت ہے۔ مشکوک ادائیگیوں کی حقیقت جاننے کے لیے بعض چیک فارنزک لیبارٹری لاہور بھی بھیجے گئے ہیں۔ کمیٹی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی اور محکمے میں فوری طور پر انتظامی اصلاحات نافذ کرنے کی سفارش کی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے اسکینڈلز کا راستہ روکا جا سکے۔