Skip to content

پٹواری کلچر کے خاتمے کی طرف پہلا قدمپنجاب حکومت نے پٹواریوں سے اہم اختیارات واپس لے لیے

شیئر

شیئر

لاہور

پنجاب حکومت نے اراضی کے ریکارڈ میں شفافیت پیدا کرنے اور زمینوں سے متعلق فراڈ کے خاتمے کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے وراثت کے علاوہ زمین کی تمام اقسام کی زبانی منتقلی پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ سیکرٹری بورڈ آف ریونیو پنجاب کی جانب سے 30 دسمبر 2025 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اب زمین کی خرید و فروخت، رہن، تبادلہ اور ہبہ صرف اور صرف رجسٹرڈ دستاویز کی بنیاد پر ہی قابلِ قبول ہوں گے، جیسا کہ رجسٹریشن ایکٹ 1908 اور ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ 1882 میں واضح طور پر درج ہے۔ کسی بھی زبانی بیان، دعوے یا لین دین کی بنیاد پر انتقال درج کرنا غیر قانونی تصور ہوگا۔ تاہم عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے وراثت کے معاملات کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے اور وراثتی انتقالات حسبِ سابق مروجہ قوانین کے تحت جاری رہیں گے۔ اس نوٹیفکیشن کے تحت تمام پٹواریوں، تحصیلداروں اور ریونیو افسران کو سختی سے احکامات پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ اہلکار کے خلاف سخت محکمانہ اور تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس فیصلے سے نہ صرف پٹواری کلچر اور من مانیوں کا خاتمہ ہوگا بلکہ زمینوں پر قبضوں، جعلی انتقالات اور طویل عدالتی تنازعات میں بھی نمایاں کمی آئے گی، اور شہریوں کو زمین کی ملکیت کے حوالے سے مضبوط قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔ یہ قانون پنجاب بھر میں 30 دسمبر 2025 سے فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں