تحریر: ڈاکٹر عادل سیماب
سترہ برس کی عمر میں لڑکے بدلتے ہیں۔
آہستہ۔
پھر اچانک۔
منصور اور باذید اب قد آور ہو گئے ہیں۔ آواز بھاری ہے۔ خاموشی زیادہ ہے۔ کچھ دن وہ ہنستے ہیں۔ کچھ دن خود میں سمٹ جاتے ہیں۔ دروازے بند ہوتے ہیں۔ وقت ٹلتا رہتا ہے۔ گھر وہی ہوتا ہے، مگر فضا بدل جاتی ہے۔
ان کے جسم میں ہارمونز ایسے حرکت کرتے ہیں جیسے موسم۔ آپ نہ طوفان روک سکتے ہیں، نہ بارش کو حکم دے سکتے ہیں۔ آپ بس یہ سیکھتے ہیں کہ اس موسم میں کیسے چلنا ہے۔
کبھی باذید معمولی بات پر غصہ ہو جاتا ہے۔ کبھی منصور کتابیں سامنے رکھ کر چھت کو دیکھتا رہتا ہے۔ کام ٹلتے رہتے ہیں۔ باتیں ادھوری رہ جاتی ہیں۔ یہ سستی نہیں ہوتی۔ یہ بدتمیزی بھی نہیں ہوتی۔ یہ وہ عمر ہے جس میں جذبہ عقل سے آگے دوڑتا ہے، اور دماغ ابھی مکمل نہیں ہوتا۔
ہم اکثر اسے اپنی توہین سمجھ لیتے ہیں۔ ہم غصے میں آ جاتے ہیں۔ پھر گھر میں ایک اور طوفان کھڑا ہو جاتا ہے۔ مگر میں نے سیکھا ہے کہ اس عمر میں لڑکے باہر کم، اندر زیادہ لڑ رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہم خاموش رہ جائیں، اگر ہم آواز نیچی رکھیں، تو لڑائی آہستہ آہستہ بیٹھ جاتی ہے۔
لمبے لیکچر ان تک نہیں پہنچتے۔ وہ ڈوب جاتے ہیں۔ مختصر جملے پہنچ جاتے ہیں۔ “میں تم پر بھروسا کرتا ہوں۔” “میں یہیں ہوں۔” “جب تم تیار ہو، بات کریں گے۔” ایسے جملے ان کے اندر کہیں ٹھہر جاتے ہیں۔
ہمیں ان کے عمل اور ان کی ذات کو الگ رکھنا پڑتا ہے۔ پڑھائی نہ ہونا ایک بات ہے۔ کسی کو غیر ذمہ دار کہنا دوسری۔ پہلی بات ٹھیک ہو سکتی ہے۔ دوسری بات دل میں اتر جاتی ہے۔
ٹال مٹول اس عمر کا حصہ ہے۔ دماغ فوری خوشی ڈھونڈتا ہے۔ مستقبل دور لگتا ہے۔ میں نے یہ سیکھا کہ کام کو چھوٹے حصوں میں بانٹ دینا مدد دیتا ہے۔ پاس بیٹھ جانا بھی۔ نگرانی کے لیے نہیں۔ بس ساتھ ہونے کے لیے۔
ایک رات منصور نے کہا، “بابا، مجھے پتا ہے کیا کرنا ہے، بس شروع نہیں ہو پا رہا۔” اس ایک جملے میں سب کچھ تھا۔ نافرمانی نہیں۔ الجھن تھی۔ ہم نے ایک سادہ فہرست بنائی۔ تین نکات۔ اس نے آغاز کر دیا۔
وہ ہمیں دیکھ کر جذباتی ضبط سیکھتے ہیں۔ ہم چیخیں گے تو وہ چیخ سیکھیں گے۔ ہم حوصلہ دکھائیں گے تو وہ صبر کرنا سیکھیں گے۔
نوعمر لڑکے ادھورے بالغ نہیں ہوتے۔ وہ بن رہے ہوتے ہیں۔ انہیں عزت چاہیے۔ صبر چاہیے۔ ایسے والدین چاہیے جو اپنے بچپن کے طوفان نہ بھولے ہوں۔
یہ وقت گزر جائے گا۔ مگر وہ یہ ضرور یاد رکھیں گے کہ جب ان کا اندر بکھر رہا تھا، ہم نے ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا۔
ساتھ چلنا ہی کافی ہے۔
جب راستہ محفوظ ہو، تو طوفان خود ہی گزر جاتا ہے!!