پشاور
سنٹر فار گورننس اینڈ پبلک اکاؤنٹیبلٹی (CGPA (نے ِسوک ایجوکیشن کمیشن بل 2025 )مسودہ( پر ایک مشاورتی اجالس سیرینا ہوٹل، پشاور میں منعقد کیا۔ اس اجالس میں اراکین
قومی اسمبلی(MNAs (، اراکین صوبائی اسمبلی(MPAs (، تعلیمی اداروں کے نمائندگان، ایلیمنٹری اور سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران، اسٹینڈنگ کمیٹی برائے تعلیم کے
اراکین، سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندگان شریک ہوئے۔ اجالس کا مقصد مسودہ بل کا جائزہ لینا اور اسٹیک ہولڈرز کی رائے جاننا تھا تاکہ خیبر پختونخوا میں شہری تعلیم کو
مضبوط بنایا جا سکے۔
محترمہ شہزادی رباب زیب، پروگرام آفیسرCGPA ، نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور CGPA کے مشن کا تعارف کروایا، جس کا مقصد اچھی حکمرانی، شفافیت
اور عوامی جوابدہی کو فروغ دینا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر فہیم نواز، شعبہ معاشیات، نے مسودہ بل پیش کیا اور اس کی اہم شقیں، مقاصد اور ادارہ جاتی ڈھانچہ واضح
کیا۔
محترمہ شندانہ گلزار، رکن قومی اسمبلی، نے بل کو سراہا اور کہا کہ یہ خیبر پختونخوا کی جانب سے شہریوں کو بااختیار بنانے کی ایک اہم اور مثبت کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ بل کو مسٹر سہیل آفریدی اور سابق وزیر اعظم کے ساتھ بھی شیئر کریں گی۔ محترمہ شندانہ نے مزید کہا کہ ماضی میں شہری تعلیم نصاب سے
اس لیے نکالی گئی کیونکہ باخبر شہری اکثر چیلنج تصور کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کمیشن کے اراکین رضاکارانہ بنیادوں پر ہونے چاہئیں، تاکہ اس کی
ساکھ اور پائیداری برقرار رہے۔
محترم شیر علی، رکن صوبائی اسمبلی(PTI (، نے بل کو سراہا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ اسمبلی میں بل پیش کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے۔
محترمہ آمنہ سردار، رکن صوبائی اسمبلی(N-PML (، نے کہا کہ کمیشن بنانے کے بجائے شہری تعلیم کو اسکول نصاب میں شامل کیا جائے، اور یہ تعلیم چھٹی
جماعت سے شروع ہو تاکہ طلبہ ابتدائی عمر میں اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں۔
محترمہ صبیحہ خان، رکن اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ایلیمنٹری اور سیکنڈری ایجوکیشن، نے کہا کہ شہری تعلیم کو موجودہ تعلیمی ڈھانچے کے مطابق بنایا جائے اور
ادارہ جاتی تعاون کو یقینی بنایا جائے تاکہ بل مؤثر اور پائیدار ہو۔
مسٹر عمران، ایلیمنٹری اور سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے، نے کہا کہ محکمہ بل کو بہتر بنانے اور عملی نفاذ کے لیے تکنیکی معاونت فراہم
کرنے کے لیے تیار ہے۔
اجالس کے آخر میں شرکاء نے اتفاق کیا کہ شہری تعلیم جمہوری ترقی اور شہری بااختیاری کے لیے بہت ضروری ہے۔ سب نے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز کی آراء شامل
کرنے سے مسودہ بل مزید مضبوط ہوگا اور اس کے مؤثر نفاذ کے امکانات بڑھیں گے۔ CGPA نے کہا کہ موصول ہونے والی تجاویز کے مطابق مسودہ بل میں
ترامیم کی جائیں گی اور قانون سازی کے اگلے مرحلے کے لیے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔