ایبٹ آباد
سیشن کورٹ نے سائبر کرائم کے ایک اہم مقدمے میں ملزم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ماتحت عدالت کی دی گئی سزا کو برقرار رکھا، جسے ہراسانی اور بلیک میلنگ کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔
ملزم زبیر کے خلاف ایف آئی آر نمبر 14 مورخہ 29 مئی 2024 درج کی گئی تھی، جس میں اس پر پیکا ایکٹ کی دفعات 3، 4، 16، 20، 21 اور 24 کے تحت نجی تصاویر شیئر کرنے، ہراساں کرنے اور بلیک میل کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ مکمل عدالتی کارروائی اور شہادتوں کا جائزہ لینے کے بعد سینیئر جوڈیشل مجسٹریٹ نے 24 ستمبر 2025 کو ملزم کو پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔
سزا کے خلاف ملزم نے سیشن کورٹ میں اپیل دائر کی، لیکن گزشتہ روز تفصیلی دلائل سننے کے بعد سیشن جج ایبٹ آباد نے اپیل خارج کرتے ہوئے سزا کو برقرار رکھا۔
مقدمہ میں شکایت کنندہ ڈاکٹر سمیرا کی نمائندگی ایڈوکیٹ عثمان علی خان نے کی جبکہ ایف آئی اے جس کے پاس مقدمہ درج تھا،کی جانب سے اے ڈی لیگل عمران عدالت میں پیش ہوئے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ مضبوط تفتیش اور مؤثر قانونی نمائندگی سے سائبر کرائم کے متاثرین کو انصاف دلایا جاسکتا ہے اور مجرموں کو سزا دلوانا ممکن ہوتا ہے۔ یہ مقدمہ ایک ایسی مثالی کیس اسٹڈی کے طور پر سامنے آیا ہے جس میں ایک خاتون ڈاکٹر کو قانونی عمل کے ذریعے انصاف فراہم ہوا۔