Skip to content

ہری پور ضمنی انتخاب ! جیت ، الزامات اور سیاسی جنگ تیز -ضمنی انتخابات کے بعد ہری پور میں کس رہنما نے کیا کہا؟

شیئر

شیئر

ہری پور

ہری پور کے این اے ، 18 ضمنی انتخابات کے نتیجے نے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ہے ، ن لیگ نے اپنی جیت کو عوامی اعتماد قرار دیا جبکہ پی ٹی آئی نے الیکشن نتائج کو مسترد کرتے ہوئے اسے چرایا گیا مینڈیٹ قرار دیا ، دونوں طرف سے سخت بیانات سامنے آئے ہیں ۔

ن لیگ کا ردِ عمل – ہزارہ نواز شریف کا گھر ہے ،

سردار محمد یوسف (ن لیگ)

ن لیگ کے سینئر رہنما سردار یوسف نے جیت پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا !

نواز شریف کا دوسرا گھر ہزارہ ہے، اسی لیے انہوں نے اپنی بیٹی کا رشتہ ہزارہ میں کیا ، کیپٹن صفدر نواز شریف کے داماد ہیں، یہ ہمارے لیے اعزاز ہے۔ بابر نواز خان کی جیت میں کیپٹن صفدر کا کلیدی کردار ہے

انہوں نے کہا کہ ہزارہ میں زیادہ تر بنیادی ترقی ن لیگ نے کی ،
موٹروے ، گیس کی فراہمی، دور دراز علاقوں تک رسائی یہ سب ہماری کارکردگی ہے۔

بابر نواز (ن لیگ—جیتنے والے امیدوار)

بابر نواز نے پولنگ کے بعد پیش آنے والے واقعات اور الزامات پر کہا ،

جب پتہ چلا کہ عمر ایوب پولنگ اسٹیشن پہنچ گئے ہیں تو ہم نے پوری رات بیلٹ باکس کے باہر پہرہ دیا۔

پی ٹی آئی نے جعلی فارم 45 جیسے کاغذات تیار کیے اور پروپیگنڈا کیا۔

“گورنمنٹ، عملہ، سیکورٹی ، سب کچھ ان کا تھا۔ کیا اپنے ہی گھر میں کوئی آپ کی آنکھوں کے سامنے چوری کر سکتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ ہری پور کے عوام نے پی ٹی آئی کو گھروں میں گھس کر شکست دی۔

کیپٹن صفدر نے کہا

آج ہری پور میں غریب عوام جیتی ہے ، سیاست بڑے گھروں سے نکل کر عام آدمی کی دہلیز تک پہنچی ہے ، مریم نواز نے ہری پور کی عوام کو مبارک دی تو میں نے کہا آپ کو ہری پور آنا پڑے گا ، ایسے مبارک باد نہیں چلے گی ، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میں خود ہری پور میں بیٹھ کر ترقیاتی کام کرواؤں گا اور ہری پور کو مثالی ضلع بناؤں گا –

پی ٹی آئی کا شدید اعتراض ! ہمارا مینڈیٹ چرایا گیا !

عمر ایوب (پی ٹی آئی)

عمر ایوب نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ،

پاکستان میں فری اینڈ فیئر الیکشن ممکن نہیں ، جیت پی ٹی آئی کی تھی، مینڈیٹ کسی اور نے چرایا ،

کچھ لوگوں نے اپنا مقصد پورا کر لیا ہے میں نام نہیں لوں گا ، ان کا مقصد یہ تھا کہ پی ٹی آئی کو دیوار سے لگایا جائے اور یہ سیٹ عمران خان کے کریڈٹ میں نہ جائے ،

انہوں نے الزام لگایا کہ ہزاروں سول ڈیفنس اہلکار اس لیے تعینات کیے گئے کہ مینڈیٹ تبدیل کیا جا سکے ،

یوسف ایوب (پی ٹی آئی)

ہم چالیس ہزار ووٹوں سے جیتے ہیں۔ حد ہے کہ وہ ہار کر بھی خوشیاں منا رہے ہیں جیسے ایم این اے بن گئے ہوں ؟

میں نے عمر ایوب سے کہا کہ چاہے پانچ یا دس سال لگ جائیں، ہم ثابت کریں گے کہ یہ الیکشن ہم نے جیتا تھا۔

اکبر ایوب (پی ٹی آئی)

اکبر ایوب نے بھی شدید الزامات عائد کیے:

الیکشن والے دن منصوبہ بنایا گیا کہ نو مئی جیسا ماحول پیدا ہو، پولیس، فوج اور عوام کو آمنے سامنے لایا جائے تاکہ حالات بگڑیں۔

ہم آخری دم تک لڑیں گے ، پورے پاکستان کی اسمبلیاں ختم ہونی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ ،کیپٹن صفدر پہلے ہی 50–55 ہزار ووٹ کی جیت کا دعویٰ کر چکے تھے ، سب پلان شدہ تھا –

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں