کسی شخص کی موت کے معاملے میں بعض اوقات معمول کی آٹوپسی سے مزید طبی شواہد حاصل کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ایسی صورت میں جسم کے ٹشوز یا دیگر نمونوں کا ہسٹو پیتھالوجیکل معائنہ کیا جا سکتا ہے تاکہ موت سے متعلق طبی اور فارنزک معلومات کو مزید واضح کیا جا سکے۔
خیبر پختونخوا رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں آٹوپسی بمعہ مشکوک مثبت ہسٹو پیتھالوجیکل شواہد کو باقاعدہ عوامی سروس کے طور پر شامل کیا گیا ہے اور اس کے لیے ایک مقررہ مدت بھی طے کی گئی ہے۔
رپورٹ کتنے وقت میں جاری ہونی چاہیے؟
کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کے مطابق اس سروس کے لیے 1 سے 2 ہفتے کا وقت مقرر ہے۔ اس مدت کے اندر متعلقہ رپورٹ جاری کی جانی چاہیے۔
اس سروس کے ذمہ دار افسر چیئرمین، ڈپارٹمنٹ آف فارنزک میڈیسن، خیبر میڈیکل کالج پشاور ہیں، جبکہ مقررہ مدت میں سروس نہ ملنے یا مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں اپیل کے لیے ڈین، خیبر میڈیکل کالج پشاور متعلقہ اپیل اتھارٹی ہیں۔
ہسٹو پیتھالوجیکل شواہد کیا ہوتے ہیں؟
ہسٹو پیتھالوجی بنیادی طور پر جسم کے ٹشوز کا طبی اور خوردبینی معائنہ ہے۔ آٹوپسی کے دوران بعض حالات میں ایسے نمونے حاصل کیے جا سکتے ہیں جن کے مزید معائنے سے موت سے متعلق طبی شواہد سامنے آسکتے ہیں۔
تاہم کے پی آر ٹی ایس میں اس سروس کے تکنیکی ٹیسٹ، طبی تشخیص یا رپورٹ کے نتائج کی تشریح بیان نہیں کی گئی۔ اس لیے اس سروس کے حوالے سے بروشر کی بنیاد پر بنیادی طور پر اس کی مقررہ مدت، ذمہ دار افسر اور اپیل اتھارٹی کی معلومات ہی بیان کی جا سکتی ہیں۔
ذمہ دار افسر کون ہے؟
اس سروس کے لیے چیئرمین، ڈپارٹمنٹ آف فارنزک میڈیسن، خیبر میڈیکل کالج پشاور ذمہ دار افسر مقرر ہیں۔ یعنی مقررہ عوامی سروس فراہم کرنے اور متعلقہ رپورٹ کے اجرا سے متعلق ذمہ داری اسی دفتر کی ہے۔
اگر مقررہ مدت گزر جائے اور سروس فراہم نہ کی جائے تو شہری متعلقہ اپیل اتھارٹی سے رجوع کر سکتا ہے۔
مقررہ وقت میں رپورٹ نہ ملے تو کیا کریں؟
اگر رپورٹ 1 سے 2 ہفتے کی مقررہ مدت میں جاری نہ ہو تو درخواست گزار کو اپنی درخواست، رسید، درخواست نمبر اور دیگر متعلقہ ریکارڈ محفوظ رکھنا چاہیے۔ یہ دستاویزات اس بات کا ریکارڈ فراہم کرتی ہیں کہ سروس کے لیے کب درخواست دی گئی تھی۔
تاخیر کی صورت میں شہری ڈین، خیبر میڈیکل کالج پشاور سے بطور اپیل اتھارٹی رجوع کر سکتا ہے۔ اپیل کے وقت درخواست سے متعلق دستیاب ریکارڈ اور رسید پیش کی جا سکتی ہے تاکہ تاخیر کا معاملہ متعلقہ اتھارٹی کے سامنے واضح ہو۔
اگر اپیل کے باوجود مسئلہ حل نہ ہو تو شہری معاملہ کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کے سامنے بھی اٹھا سکتا ہے۔
اپیل کا عملی طریقہ کیا ہے؟
سب سے پہلے اپنی اصل درخواست یا سروس سے متعلق دستیاب رسید اور درخواست نمبر محفوظ رکھیں۔ مقررہ 1 سے 2 ہفتے کی مدت گزرنے کے بعد اگر رپورٹ فراہم نہ کی گئی ہو تو متعلقہ اپیل اتھارٹی، یعنی ڈین خیبر میڈیکل کالج پشاور سے رجوع کریں۔
اپیل کے وقت یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ سروس کے لیے درخواست دی جا چکی ہے، مقررہ مدت گزر چکی ہے اور ابھی تک رپورٹ فراہم نہیں کی گئی۔ درخواست سے متعلق دستیاب دستاویزات بھی ساتھ رکھنا مفید ہے۔
اگر وہاں سے بھی مسئلہ حل نہ ہو تو شہری کے پی آر ٹی ایس سے رابطہ کر سکتا ہے اور مقررہ وقت میں سروس فراہم نہ ہونے کی شکایت درج کرا سکتا ہے۔
دوسری آٹوپسی سروسز سے فرق
آٹوپسی سے متعلق تمام خدمات کے لیے ایک جیسی مدت مقرر نہیں۔ کے پی آر ٹی ایس کے بروشر میں مختلف نوعیت کی آٹوپسی سروسز کے لیے الگ الگ مدتیں درج ہیں۔
سادہ آٹوپسی کے لیے مقررہ مدت 24 گھنٹے ہے، جبکہ آٹوپسی بمعہ سسپکٹڈ پائزننگ کے لیے 2 سے 4 ہفتے اور آٹوپسی بمعہ مشکوک مثبت ہسٹو پیتھالوجیکل شواہد کے لیے 1 سے 2 ہفتے مقرر ہیں۔
اس لیے درخواست دیتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہے کہ معاملہ کس مخصوص آٹوپسی سروس کے تحت آتا ہے، کیونکہ مختلف سروسز کے لیے مقررہ مدت بھی مختلف ہو سکتی ہے۔
کے پی آر ٹی ایس سے رابطہ
اگر کوئی سرکاری سروس مقررہ مدت میں فراہم نہ کی جائے تو شہری کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
فون: 091-9216375
ای میل: pschief.rts@kp.gov.pk
ویب سائٹ: www.kprts.gov.pk
شہریوں کے لیے اہم بات
آٹوپسی بمعہ مشکوک مثبت ہسٹو پیتھالوجیکل شواہد کے لیے مقررہ مدت 1 سے 2 ہفتے ہے۔ سروس کے ذمہ دار افسر چیئرمین، ڈپارٹمنٹ آف فارنزک میڈیسن، خیبر میڈیکل کالج پشاور جبکہ اپیل اتھارٹی ڈین، خیبر میڈیکل کالج پشاور ہیں۔
مقررہ مدت میں رپورٹ نہ ملنے کی صورت میں شہری کو اپنی درخواست اور متعلقہ ریکارڈ محفوظ رکھتے ہوئے پہلے مقررہ اپیل اتھارٹی سے رجوع کرنا چاہیے اور مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں کے پی آر ٹی ایس سے رابطہ کرنا چاہیے۔
