Skip to content

چند سوالات، بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سے

شیئر

شیئر

( دوسری قسط)

تحریر: ابن منصور

پوزیشن کا کاروبار

اس وقت کسی بھی انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ کے تحت ہزاروں بچے اور بچیاں امتحان دے رہے ہوتے ہیں ۔
تقریباً ہر گھرانے کو امتحانی رزلٹ کا انتظار ہوتا ہے اور جب رزلٹ آتا ہے تو پورے گزٹ کو ہر بندہ سرسری طور پر ضرور دیکھتا ہے ۔
ایسے میں بورڈ کی پالیسی یہ ہے کہ لوگوں کے رجحانات کو سرکاری اداروں سے پرائیویٹ اداروں کی طرف منتقل کرے ۔
ایک ایک سرکاری ادارے کا ماہانہ بجٹ لاکھوں/ کروڑوں میں ہے ۔ اساتذہ کی تنخواہیں اچھی خاصی ہیں ۔
لیکن کسی بھی سرکاری تعلیمی ادارے کے پاس بطور رشوت اتنی موٹی رقم موجود نہیں ہے کہ بورڈ آفس میں موجود لوگوں کی جیبیں بھری جا سکیں ۔ اور پرنسپل بھی کچھ دنوں کا مہمان ہوتا ہے ۔ ایسے میں وہ سرکاری ادارہ چل سو چل کی پالیسی پر گامزن ہوتا ہے ۔

دوسری طرف پبلک سیکٹر میں بڑے کاروباری لوگوں کو اتارا گیا ہے ۔ ان بڑے کاروباری اداروں نے بھاری فیسیں لوگوں کی جیبوں سے نکالنی ہیں اور واجبی سی تنخواہیں سٹاف کو دینی ہوتی ہیں ۔

پاکستان میں کاروبار کا ماڈل یہ ہے کہ
” پہلے سرکاری پالیسی پر کنٹرول کرو پھر مارکیٹ میں اپنی مصنوعات فروخت کرو”

اس کاروباری ماڈل کو فوجی اور سول بیوروکریسی اچھی طرح سمجھتی ہے ۔ اس بیوروکریسی کو پالیسی پر اثر انداز ہونے اور نظام میں موجود چور دروازوں کا اچھی طرح علم ہے ۔

آپ ایبٹ آباد بورڈ کی حالیہ رزلٹ تقریب کو دیکھ سکتے ہیں ۔ اس تقریب میں پوزیشن حاصل کرنے والے ریٹائرڈ فوجی افسر اور اسی ایبٹ آباد بورڈ کے حال ہی میں ریٹائرڈ ہونے والے چیرمین صاحب اگلی نشستوں پر موجود ہیں ۔

سابقہ چیرمین صاحب اور ریٹائرڈ فوجی افسر کی موجودگی میں کوئی سرکاری اور کوئی نجی ادارہ پوزیشن حاصل کر لے؟
کیسے ممکن ہے؟

کیسے ممکن ہے کہ حالات کی گھتی سلجھے
اہل دانش نے بہت سوچ کر الجھائی ہے

اب اگر ایجوکیشن مارکیٹ سے کسی نے پیسہ کمانا ہے تو ضروری ہے کہ:

  1. بورڈز سے ریٹائرڈ ہونے والے کسی تکڑی شخصیت کو بھاری تنخوا پر اپنے ادارے میں ملازم رکھے اور اس شخصیت کا کام بورڈ کے معاملات ہوں ۔
  2. کسی تکڑے ریٹائرڈ فوجی افسر کو پرنسپل بناے جو تعلیمی ادارے کو ایک فوجی یونٹ کی طرح دیکھتا رہے اور جہاں زور دار طریقے کی ضرورت ہو، اپنے وسیع تعلقات کو بروئے کار لاکر پوزیشن مستحکم کرے ۔

ظاہر ہے کوئی سرکاری تعلیمی ادارہ یا کوئی غریب پرایوئٹ ادارہ اس کاروباری مقابلے میں نہیں آ سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پوزیشن کا حق بلاشرکت غیرے اسی طرح کے تکڑے اداروں کا حق ہے ۔

نہایت دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ اس ملک کا پڑھا لکھا طبقہ اس کھیل کو نہ صرف ہنر سمجھتا ہے بلکہ خود، بلا جبر و اکراہ، بقائمی ہوش و حواس اس کاروبار میں لٹنے کے خود کو پیش کرتا ہے ۔

پوزیشن حاصل کرنے والے ادارے ماہانہ دس بیس ہزار روپیہ بٹورتے ہیں اور سرکاری اساتذہ، آفیسر اور بیرون ملک ذلیل ہونے والے مزدور اپنے بچوں کو ان اداروں میں ٹھونس رہے ہوتے ہیں ۔ حالانکہ سب دیکھ رہے ہیں کہ اس پوزیشن ہولڈر ادارے کے پانچ دس بچے پروفیشنل یونیورسٹیوں میں اور باقی سب ادھر ادھر خوار ہو رہے ہوتے ہیں ۔

یہ بات ان مہنگے اداروں کے ترجمان خود بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے ادارے کے بارہ سو بچوں میں سے آٹھ انجنیرنگ یونیورسٹی اور پانچ میڈیکل کالج میں داخل ہوگئے لیکن ترجمان یہ نہیں بتاتا کہ: A+ میں کامیاب ہونے والے 1187 کس مقام پر پہنچے؟

ظاہر ہے یہ پوزیشن لینے والے اکثر وبیشتر معمولی فیس یا بالکل فری پڑھ رہے ہوتے ہیں، جبکہ ادارے اور بورڈ کو رجانے والی مخلوق تو یہ دوسری ہے، جو پوزیشن کی دوڑ میں شامل ہی نہیں اور نہ ڈاکٹر و انجنئیر بننے کی دوڑ کا حصہ ہے ۔

اس طبقے کو چونا لگانے کے لئے بورڈ سے رجوع کیا گیا کہ ان بھینسوں کو بھی کچھ چارہ ڈالا جائے ۔
بورڈ نے اپنی تجوریاں کھول دیں اور ان کو بھی A.1 اور A گریڈ میں نمبر دے دئیے ۔ کس بنیاد پر؟
اس کی تحقیق کوئی ادارہ اور کوئی صحافی نہیں کر سکتا ۔
یہ مخلوق اچھلتے کودتے جب عملی زندگی میں جاتی ہے تو لگ پتہ جاتا ہے ۔

ڈیوٹی ٹیچر کا جرم

یہ ایک عجیب مزاق ہے کہ جب بورڈز کا رزلٹ آتا ہے تو بیوقوفوں کا ایک گروہ سرکاری اساتذہ پر نقل کروانے کا واویلا شروع کر دیتا ہے ۔
بورڈ کے ملازمین بھی بڑی معصومیت سے کہتے رہتے ہیں کہ:
یہ سب کچھ اساتذہ نے کیا ہے ۔
ڈیوٹی انہوں نے کی ۔
پیپر انہوں نے چیک کئے ۔
نمبرز انہوں نے لگائے ۔
اور
مانیٹرنگ بھی انہوں نے کی ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ سرکاری اساتذہ اس سسٹم کے "پھتو ” ہیں ۔ کام کوئی اور کر رہا ہوتا ہے، الزام ان کے سر ۔
اس امتحانی اور تدریسی نظام میں استاد کی حیثیت صفر ہے ۔
استاد بچارہ تو نوکری بچانے کے لئے چھوٹے افسروں کی مٹھی چاپی سے جان نہیں چھڑا سکتا، اس کی تنخوا اتنی ہے کہ ڈی آفس کا کلرک بھی اس سے کئی گنا زیادہ کما لیتا ہے ۔
جن اساتذہ کی بورڈ امتحانات یا انتخابات میں ڈیوٹی لگ جاتی ہے، کسی میرٹ پر نہیں، تعلقات پر وہ بچارے ٹی اے، ڈی اے کی جمع تفریق کرتے رہتے ہیں اور رات بارہ بجے رزلٹ ہاتھ میں لئے ایک بیوروکریٹ کے دفتر کے باہر خوار ہوتے نظر آتے ہیں، بورڈ امتحانات میں ان کی خواری اور تذلیل ایک مستقل باب ہے ۔
ایک استاد امتحانی ہال میں سختی شروع کر دے تو اس کو دس منٹ میں بدلنا بورڈ میں بیٹھے بیوروکریٹ کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے ۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں