Skip to content

گوگل، حکومت پاکستان کے درمیان معاہدوں کی تفصیلات منظرعام پر لانے کا مطالبہ

شیئر

شیئر

اسلام آباد: میڈیا واچ ڈاگ فریڈم نیٹ ورک نے گوگل اور حکومت پاکستان کے درمیان حالیہ شراکت داری سے متعلق معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کردیا۔

16 ستمبر کو جاری پریس ریلیز میں فریڈم نیٹ ورک نے کہا کہ گوگل اور حکومت پاکستان کے درمیان ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے ہونے والی شراکت داری کا خیرمقدم کرتے ہیں، تاہم معاہدوں کی تفصیلات عوامی سطح پر جاری نہ کیے جانے پر تشویش ہے۔

فریڈم نیٹ ورک نے گوگل اور حکومت پاکستان کے نام کھلے خط میں سوال اٹھایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان دستخط ہونے والی مفاہمت کی یادداشتوں، معاہدوں، کنٹریکٹس یا دیگر انتظامات کو کب عوام کے سامنے لایا جائے گا۔ تنظیم نے یہ بھی سوال کیا کہ اگر کسی معاہدے کی بعض شقوں کو خفیہ رکھنا ضروری ہے تو اس کا فیصلہ کس نے اور کس قانون کے تحت کیا۔

میڈیا واچ ڈاگ نے صارفین کے ڈیٹا، مواد، میٹا ڈیٹا اور حکومتی ڈیٹا بیس تک ممکنہ رسائی سے متعلق کسی غیر اعلانیہ انتظام یا یقین دہانی کی موجودگی پر بھی وضاحت طلب کی۔

فریڈم نیٹ ورک نے سوال کیا کہ پاکستانی حکام کن حالات میں گوگل صارفین سے متعلق معلومات طلب کرسکتے ہیں اور کیا ایسی ہر درخواست کے لیے قانونی طریقہ کار اور عدالتی نگرانی لازمی ہوگی۔ تنظیم نے گوگل سے یہ بھی وضاحت مانگی کہ آیا وہ حد سے زیادہ وسیع، مبہم یا بنیادی حقوق سے متصادم درخواستوں کو مسترد کرے گا۔

تنظیم نے صحافیوں کے ڈیٹا اور ذرائع کے تحفظ سے متعلق بھی واضح ضمانتوں کا مطالبہ کیا۔ فریڈم نیٹ ورک کے مطابق صحافیوں کے Gmail، Google Drive، تصاویر، YouTube اکاؤنٹس اور سرچ سے متعلق معلومات تک حکومتی رسائی صحافتی ذرائع کی رازداری کو متاثر کرسکتی ہے، اس لیے معاہدوں میں اس حوالے سے واضح حفاظتی شقیں ہونی چاہئیں۔

فریڈم نیٹ ورک نے گوگل سے مطالبہ کیا کہ محض کسی حکومتی ادارے کی درخواست پر مواد حذف یا بلاک نہ کیا جائے بلکہ ایسی درخواستوں کا شفاف قانونی اصولوں کے تحت جائزہ لیا جائے۔ تنظیم نے یہ بھی کہا کہ جہاں قانون اجازت دے، صارفین کو ایسے فیصلوں سے آگاہ اور انہیں چیلنج کرنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔

میڈیا واچ ڈاگ نے پاکستانی صارفین کے ڈیٹا کے ذخیرہ کرنے کے مقام سے متعلق بھی وضاحت طلب کرتے ہوئے سوال کیا کہ ڈیٹا پاکستان میں، بیرون ملک یا دونوں مقامات پر محفوظ کیا جائے گا۔ تنظیم نے زور دیا کہ گوگل اور حکومت پاکستان کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کے کوئی غیر رسمی یا غیر دستاویزی انتظامات نہیں ہونے چاہئیں۔

فریڈم نیٹ ورک نے گوگل سے یہ بھی سوال کیا کہ پاکستان میں رازداری اور انسانی حقوق سے متعلق حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد کا آزادانہ آڈٹ کون کرے گا۔ تنظیم نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نگرانی کی ذمہ داری صرف حکومت تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں