Skip to content

اسلحہ لائسنس کا اجراء: کتنے دن میں ملنا چاہیے اور تاخیر کی صورت میں کہاں شکایت کریں؟

شیئر

شیئر

اسلحہ لائسنس کے لیے درخواست جمع کرانے اور پولیس تصدیق مکمل ہونے کے بعد اگلا اہم مرحلہ اسلحہ لائسنس کا اجراء ہے۔ خیبر پختونخوا میں اسلحہ لائسنس کا اجراء بھی رائٹ ٹو پبلک سروسز (کے پی آر ٹی ایس) کے تحت نوٹیفائیڈ پبلک سروس ہے، جس کے لیے باقاعدہ مدت مقرر کی گئی ہے۔ شہریوں کے لیے یہ جاننا اہم ہے کہ درخواست مکمل ہونے کے بعد متعلقہ محکمے کو لائسنس کے اجرا کے لیے کتنے دن کا وقت دیا گیا ہے اور مقررہ مدت میں کام نہ ہونے کی صورت میں شکایت کہاں کی جا سکتی ہے۔

سلحہ لائسنس کتنے دن میں جاری ہونا چاہیے؟

کے پی آر ٹی ایس کی سرکاری معلومات کے مطابق اسلحہ لائسنس کے اجراء کے لیے مقررہ مدت 15 دن ہے۔ اس سروس کے لیے ڈپٹی کمشنر نامزد افسر جبکہ متعلقہ کمشنر اپیلیٹ اتھارٹی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر درخواست گزار نے تمام لازمی قانونی تقاضے پورے کر دیے ہوں، مطلوبہ دستاویزات جمع کرا دی ہوں، پولیس تصدیق اور دیگر ضروری مراحل مکمل ہو چکے ہوں تو نوٹیفائیڈ سروس کے تحت لائسنس کے اجرا کے عمل کے لیے مقررہ مدت 15 دن ہے۔تاہم شہریوں کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ 15 دن کی مدت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر درخواست خود بخود منظور ہوجائے گی۔ لائسنس کا اجرا درخواست گزار کی قانونی اہلیت، پولیس تصدیق، متعلقہ منظوریوں، کوٹے، فیس اور دیگر لازمی تقاضوں کی تکمیل سے مشروط ہے۔

لائسنس جاری ہونے کا طریقہ کیا ہے؟

کے پی آر ٹی ایس کی سرکاری معلومات کے مطابق اسلحہ لائسنس کے عمل میں درخواست گزار مطلوبہ دستاویزات کے ساتھ متعلقہ آرمز لائسنس برانچ میں درخواست جمع کراتا ہے۔ درخواست کی پروسیسنگ کے دوران بائیومیٹرک سمیت ضروری معلومات الیکٹرانک نظام میں درج کی جاتی ہیں۔ اس کے بعد درخواست گزار کی پولیس سے تصدیق کی جاتی ہے تاکہ اس کے کوائف اور سابقہ ریکارڈ کی جانچ کی جا سکے۔پولیس تصدیق مکمل ہونے کے بعد صوبائی لائسنس کی درخواست دوبارہ آرمز لائسنس برانچ کو موصول ہوتی ہے۔ متعلقہ ضلع کے کوٹے کے مطابق درخواست گزار کو مقررہ فیس جمع کرانے اور رجسٹرڈ ڈیلر سے اسلحہ نمبر حاصل کرنے کا مرحلہ مکمل کرنا ہوتا ہے۔ ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد لائسنس جاری کیا جاتا ہے۔اگر درخواست آل پاکستان لائسنس کے لیے ہو تو پولیس تصدیق کے بعد درخواست منظوری کے لیے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو بھیجی جاتی ہے۔ منظوری ملنے کے بعد فیس اور اسلحہ نمبر سے متعلق ضروری کارروائی مکمل کی جاتی ہے، جس کے بعد لائسنس جاری کیا جاتا ہے۔

کون شخص اسلحہ لائسنس کے لیے اہل ہے؟

خیبر پختونخوا آرمز رولز 2014 کے مطابق اسلحہ لائسنس کے لیے بنیادی شرائط میں پاکستانی شہری ہونا، کم از کم 21 سال عمر ہونا اور قومی شناختی کارڈ رکھنا شامل ہے۔ درخواست گزار ذہنی طور پر صحت مند ہو، قانون سے مفرور، عادی مجرم یا دیوالیہ نہ ہو اور متعلقہ پولیس کی نظر میں اس کا عمومی کردار اور سابقہ ریکارڈ موزوں ہونا ضروری ہے۔اس لیے صرف درخواست فارم جمع کرا دینا لائسنس کے حصول کی ضمانت نہیں۔ متعلقہ حکام درخواست گزار کی قانونی اہلیت اور دیگر مقررہ شرائط کو جانچنے کے بعد ہی لائسنس کے اجرا کا فیصلہ کرتے ہیں۔اسلحہ لائسنس کے لیے ضروری دستاویزاتکے پی آر ٹی ایس کی سرکاری معلومات کے مطابق اسلحہ لائسنس کے لیے مقررہ درخواست فارم، قومی شناختی کارڈ، دو پاسپورٹ سائز تصاویر اور 300 روپے کے اسٹامپ پیپر پر حلف نامہ درکار ہوتا ہے۔ بھاری ہتھیاروں، مثلاً 222 یا 223، کے لیے 2 ہزار روپے کے اسٹامپ پیپر کی شرط بھی درج ہے۔سرکاری ملازمین کے لیے آخری پے سلپ کے ساتھ متعلقہ محکمے کے سربراہ یا ضلعی افسر کا دستخط شدہ خط بھی درکار ہوتا ہے۔

درخواست گزار کو چاہیے کہ درخواست جمع کرانے سے پہلے متعلقہ آرمز لائسنس برانچ سے موجودہ دستاویزات اور طریقہ کار کی تصدیق کرلے تاکہ کسی کمی کی وجہ سے درخواست کا عمل متاثر نہ ہو۔

اسلحہ لائسنس کی فیس کتنی ہے؟

کے پی آر ٹی ایس کی سرکاری معلومات میں صوبائی اسلحہ لائسنس کے لیے 3,910 روپے جبکہ آل پاکستان لائسنس کے لیے 9,410 روپے فیس درج ہے۔ سرکاری ملازمین کے لیے فیس 315 روپے بتائی گئی ہے۔ فیس یا دیگر سرکاری چارجز میں وقت کے ساتھ تبدیلی ممکن ہے، اس لیے درخواست گزار کو ادائیگی سے قبل متعلقہ سرکاری دفتر سے موجودہ فیس کی تصدیق کرنی چاہیے۔

اسلحہ لائسنس کا قانونی طریقہ کار کیا ہے؟

خیبر پختونخوا میں اسلحہ لائسنس کا قانونی نظام خیبر پختونخوا آرمز ایکٹ 2013 اور اس کے تحت بنائے گئے خیبر پختونخوا آرمز رولز 2014 کے تحت چلتا ہے۔ ان قوانین اور قواعد میں لائسنس کے لیے اہلیت، درخواست دینے، پولیس تصدیق، لائسنس کے اجرا، تجدید اور دیگر متعلقہ معاملات کا طریقہ کار بیان کیا گیا ہے۔اس لیے اسلحہ لائسنس کے معاملے میں شہریوں کو غیر سرکاری ذرائع یا غیر قانونی سفارش کے بجائے مقررہ قانونی طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے۔

اگر 15 دن میں سروس فراہم نہ ہو تو کیا کریں؟

اگر درخواست گزار نے تمام قانونی تقاضے پورے کر دیے ہوں، مطلوبہ دستاویزات جمع کرا دی ہوں، فیس اور دیگر ضروری کارروائی مکمل ہو چکی ہو اور اس کے باوجود نوٹیفائیڈ 15 دن کی مدت گزر جائے تو شہری کو غیر ضروری طور پر دفتر کے چکر لگاتے رہنے کے بجائے اپنے قانونی حق سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔اس سروس کے لیے متعلقہ کمشنر اپیلیٹ اتھارٹی ہیں۔ شہری اپنی درخواست کی رسید، درخواست نمبر، فیس کی رسید اور دیگر متعلقہ دستاویزات کے ساتھ اپیل دائر کرسکتا ہے۔ درخواست گزار کے لیے بہتر ہے کہ وہ تمام دستاویزات اور درخواست سے متعلق ریکارڈ اپنے پاس محفوظ رکھے تاکہ ضرورت پڑنے پر اپیل یا شکایت کے ساتھ ثبوت فراہم کیا جا سکے۔اگر پہلی اپیل کے باوجود مسئلہ حل نہ ہو تو شہری کے پی آر ٹی ایس کمیشن سے رجوع کرسکتا ہے۔ کمیشن کے آن لائن شکایتی نظام میں متعلقہ محکمہ، نوٹیفائیڈ سروس، پہلی اپیل کی تاریخ، پہلی اپیل کی کاپی اور معاون دستاویزات طلب کی جاتی ہیں۔ اس لیے شہری کو اپیل اور شکایت کے مراحل کے دوران درخواست سے متعلق تمام ریکارڈ محفوظ رکھنا چاہیے۔شہریوں کے لیے اہم باتاسلحہ لائسنس کے اجرا کے لیے مقررہ 15 دن کی مدت کو درخواست کی خودکار منظوری نہیں سمجھنا چاہیے۔

لائسنس کا اجرا قانونی اہلیت، پولیس تصدیق، متعلقہ منظوری، کوٹے، فیس اور دیگر لازمی تقاضوں کی تکمیل سے مشروط ہے۔ تاہم اگر درخواست قانونی طور پر مکمل ہو، تمام ضروری مراحل مکمل کیے جا چکے ہوں اور نوٹیفائیڈ سروس کی مقررہ مدت میں بلاجواز تاخیر کی جائے تو شہری کے پاس اپیل اور شکایت کا باقاعدہ قانونی حق موجود ہے۔اس لیے درخواست گزار کے لیے ضروری ہے کہ درخواست جمع کراتے وقت رسید اور درخواست نمبر حاصل کرے، فیس کی رسید اور دیگر دستاویزات سنبھال کر رکھے اور پولیس تصدیق سمیت ہر مرحلے کا ریکارڈ محفوظ رکھے۔ مقررہ مدت میں سروس فراہم نہ ہونے کی صورت میں پہلے متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی سے رجوع کیا جا سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر کے پی آر ٹی ایس کمیشن کے شکایتی نظام سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں