زمین کی ملکیت سے متعلق معاملات میں وراثتی انتقال ایک اہم مرحلہ ہے۔ کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کی ملکیت میں موجود زمین یا جائیداد قانونی وارثوں کے نام منتقل کرنے کے لیے ریونیو ریکارڈ میں تبدیلی ضروری ہوتی ہے۔ اسی عمل میں روزنامچہ اور ریونیو ریکارڈ میں اندراج بھی شامل ہیں۔
خیبر پختونخوا میں یہ سروس بھی رائٹ ٹو پبلک سروسز کے تحت نوٹیفائیڈ سرکاری خدمات میں شامل ہے، جس کے لیے شہریوں کو مقررہ مدت میں سروس فراہم کرنا متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے۔
روزنامچہ اور ریونیو ریکارڈ میں اندراج کیا ہے؟
سادہ الفاظ میں روزنامچہ ریونیو ریکارڈ کا ایک اہم حصہ ہے، جس میں زمین سے متعلق مختلف واقعات اور تبدیلیوں کا اندراج کیا جاتا ہے۔
کسی شخص کے انتقال کے بعد جب اس کی زمین وارثوں کو منتقل کرنے کا معاملہ سامنے آتا ہے تو متعلقہ ریونیو ریکارڈ میں اس تبدیلی کا اندراج کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے سرکاری ریکارڈ میں یہ واضح ہوتا ہے کہ متوفی کی ملکیت اب اس کے قانونی وارثوں سے متعلق ہے۔
وراثتی انتقال کی تصدیق کیوں ضروری ہے؟
وراثتی انتقال صرف ریکارڈ میں نام تبدیل کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ اس کا تعلق زمین کی ملکیت اور قانونی حقوق سے ہوتا ہے۔ اسی لیے انتقال کی تصدیق اور ریونیو ریکارڈ میں درست اندراج انتہائی اہم ہے۔
اگر ریکارڈ میں بروقت اور درست تبدیلی نہ ہو تو مستقبل میں ورثا کے درمیان یا دیگر فریقین کے ساتھ زمین کے تنازع کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔
یہ کام کتنے دن میں ہونا چاہیے؟
کے پی آر ٹی ایس کے بروشر کے مطابق روزنامچہ اور ریونیو ریکارڈ میں اندراج اور وراثتی انتقال کی تصدیق کے لیے مقررہ مدت 30 دن ہے۔
اس سروس کے لیے ذمہ دار افسر پٹواری/ریونیو آفیسر ہے، جبکہ اس معاملے میں اپیل کی صورت میں ڈپٹی کمشنر اپیلیٹ اتھارٹی مقرر ہے۔
یعنی شہری کی درخواست مکمل ہونے کے بعد اسے غیر ضروری طور پر طویل عرصے تک دفتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔
اگر 30 دن میں وراثتی انتقال نہ ہو تو کیا کریں؟
اگر شہری نے تمام ضروری کارروائی مکمل کرکے وراثتی انتقال یا روزنامچہ و ریونیو ریکارڈ میں اندراج کے لیے درخواست دی ہے، لیکن 30 دن گزرنے کے باوجود سروس فراہم نہیں کی گئی تو شہری اپنے حق کے لیے متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی سے رجوع کرسکتا ہے۔
اس معاملے میں بروشر کے مطابق ڈپٹی کمشنر اپیلیٹ اتھارٹی ہیں۔
شہری کو درخواست جمع کرانے کی رسید، متعلقہ ریکارڈ، شناختی دستاویزات اور دیگر ضروری کاغذات محفوظ رکھنے چاہئیں تاکہ اپیل یا شکایت کی صورت میں یہ دستاویزات بطور ثبوت پیش کی جاسکیں۔
کے پی آر ٹی ایس کمیشن سے کب رجوع کیا جائے؟
اگر مقررہ طریقہ کار کے باوجود شہری کا مسئلہ حل نہ ہو تو وہ رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن خیبر پختونخوا سے بھی رجوع کرسکتا ہے۔
کے پی آر ٹی ایس کمیشن کا مرکزی رابطہ نمبر 091-9216375 ہے۔ بروشر میں کمیشن کی ویب سائٹ www.kprts.gov.pk اور ای میل pschief.rts@kp.gov.pk بھی درج ہے۔
شہریوں کے لیے اہم پیغام
وراثتی انتقال زمین کی ملکیت سے جڑا حساس معاملہ ہے، اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ درخواست جمع کراتے وقت تمام متعلقہ دستاویزات مکمل رکھیں اور درخواست کی رسید یا دیگر ثبوت ضرور سنبھال کر رکھیں۔
30 دن کی مقررہ مدت گزرنے کے بعد بھی اگر روزنامچہ اور ریونیو ریکارڈ میں اندراج یا وراثتی انتقال کی تصدیق نہیں ہوتی تو شہری خاموشی سے انتظار کرنے کے بجائے اپنے قانونی حق کے تحت اپیلیٹ اتھارٹی سے رجوع کرسکتا ہے۔
سروس کا خلاصہ
سروس: روزنامچہ اور ریونیو ریکارڈ میں اندراج، وراثتی انتقال کی تصدیق
مقررہ مدت: 30 دن
ذمہ دار افسر: پٹواری/ریونیو آفیسر
اپیلیٹ اتھارٹی: ڈپٹی کمشنر
کے پی آر ٹی ایس کمیشن: 091-9216375
ویب سائٹ: www.kprts.gov.pk
ای میل: pschief.rts@kp.gov.pk