زمین کی ملکیت کا ریکارڈ موجود ہو، فرد بھی حاصل کرلی گئی ہو، لیکن عملی طور پر یہ واضح نہ ہو کہ زمین کی حدود کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتی ہیں تو یہی صورتحال اکثر تنازعات کو جنم دیتی ہے۔ پڑوسی زمین کے ساتھ حد بندی کا اختلاف ہو یا اپنی ملکیت کی درست حدود معلوم کرنی ہوں، ایسے معاملات میں زمین کی حدود کا تعین (Demarcation of Land) ایک اہم ریونیو سروس ہے۔
خیبر پختونخوا میں زمین کی حدود کا تعین بورڈ آف ریونیو کی نوٹیفائیڈ پبلک سروسز میں شامل ہے اور اس کے لیے باقاعدہ مدت مقرر کی گئی ہے۔
زمین کی حدود کا تعین کیا ہے؟
سادہ الفاظ میں زمین کی حدود کا تعین اس عمل کو کہتے ہیں جس کے ذریعے سرکاری ریکارڈ اور متعلقہ زمینی نشانات کی بنیاد پر یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کسی شخص کی زمین کی اصل حدود کہاں تک ہیں۔
یہ سروس خاص طور پر اس وقت اہم ہوجاتی ہے جب دو زمینوں کے درمیان حد بندی پر اختلاف ہو یا کسی مالک کو اپنی زمین کے درست رقبے اور حدود کے بارے میں ابہام ہو۔
کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کی رپورٹ کے مطابق زمین سے متعلق تنازعات میں اضافے کے باعث مستند اور قابلِ اعتماد لینڈ ریکارڈ اور زمین کی حدود کے درست تعین کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
زمین کی حدود کا تعین کون کرتا ہے؟
کے پی آر ٹی ایس کے تحت اس سروس کے لیے ریونیو آفیسر کو نامزد افسر قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس کے خلاف اپیل کے لیے ڈپٹی کمشنر/ڈسٹرکٹ کلیکٹر کو اپیلیٹ اتھارٹی مقرر کیا گیا ہے۔
شہری کو زمین کی حدود کے تعین کے لیے متعلقہ ریونیو حکام کے پاس درخواست دینی ہوتی ہے۔ درخواست کے ساتھ زمین سے متعلق دستیاب ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات فراہم کرنا بہتر ہے تاکہ ریکارڈ کی جانچ اور حد بندی کے عمل میں آسانی ہو۔
کتنے دن میں حدود کا تعین ہونا چاہیے؟
یہ اس سروس کا سب سے اہم پہلو ہے۔
کے پی آر ٹی ایس کی دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق زمین کی حدود کے تعین کے لیے مقررہ مدت 30 دن ہے۔ یعنی متعلقہ ریونیو حکام کو نوٹیفائیڈ مدت کے اندر سروس فراہم کرنا ہوتی ہے۔
کے پی آر ٹی ایس کی 2023 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اس سال زمین کی حدود کے تعین کے لیے 911 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں 897 درخواستیں مقررہ وقت کے اندر نمٹائی گئیں جبکہ 14 درخواستوں میں تاخیر ہوئی۔
یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ سروس کی مقررہ مدت صرف کاغذی کارروائی نہیں بلکہ اس کی نگرانی بھی کی جاتی ہے۔
اگر 30 دن میں حدود کا تعین نہ ہو تو شہری کیا کرے؟
اگر شہری نے زمین کی حدود کے تعین کے لیے درخواست دی ہے لیکن 30 دن گزرنے کے باوجود سروس فراہم نہیں کی گئی تو اسے غیر معینہ مدت تک انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔
کے پی آر ٹی ایس کے تحت شہری متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی، یعنی ڈپٹی کمشنر/ڈسٹرکٹ کلیکٹر سے رجوع کرسکتا ہے۔ زمین کی حدود کے تعین کے معاملے میں یہی مقررہ اپیلیٹ اتھارٹی ہے۔
اگر وہاں سے بھی مسئلہ حل نہ ہو تو شہری رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن خیبر پختونخوا سے رجوع کرسکتا ہے۔
کے پی آر ٹی ایس کمیشن میں شکایت کیوں اہم ہے؟
یہ محض ایک نظری حق نہیں۔ کے پی آر ٹی ایس کمیشن کی 2025 کی رپورٹ میں زمین کی حدود کے تعین میں تاخیر سے متعلق ایک شکایت کا بھی ذکر ہے، جس میں ہری پور کے ایک شہری نے ریونیو ڈیپارٹمنٹ پر سروس میں تاخیر اور غیر قانونی رقم طلب کرنے کا الزام لگایا تھا۔ کمیشن کی کارروائی کے بعد متعلقہ پٹواری کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی گئی اور اسے معطل بھی کیا گیا۔
اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ اگر نوٹیفائیڈ سروس مقررہ مدت میں فراہم نہ ہو تو شہری کے پاس شکایت اور داد رسی کا قانونی راستہ موجود ہے۔
درخواست دیتے وقت کیا محفوظ رکھیں؟
شہری کے لیے ضروری ہے کہ زمین کی حدود کے تعین کی درخواست دیتے وقت:
- درخواست یا درخواست کی رسید محفوظ رکھیں۔
- زمین سے متعلق فرد اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کی نقول سنبھال کر رکھیں۔
- اگر کوئی فیس جمع کرائی جائے تو اس کی رسید ضرور لیں۔
- درخواست جمع کرانے کی تاریخ نوٹ کریں۔
- مقررہ 30 دن کی مدت گزرنے کی صورت میں متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی سے رجوع کریں۔
یہ دستاویزات بعد میں اپیل یا کے پی آر ٹی ایس کمیشن میں شکایت کی صورت میں اہم ثبوت بن سکتی ہیں۔
شہری اپنا حق جانیں
زمین سے متعلق تنازعات اکثر برسوں تک چلتے ہیں، اس لیے سرکاری ریکارڈ اور زمین کی درست حدود کا بروقت تعین انتہائی اہم ہے۔ کے پی آر ٹی ایس کا مقصد یہی ہے کہ شہری کو نوٹیفائیڈ سرکاری سروس کے لیے غیر ضروری انتظار اور دفتری چکروں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
زمین کی حدود کا تعین — مقررہ مدت: 30 دن
ذمہ دار افسر: ریونیو آفیسر
اپیلیٹ اتھارٹی: ڈپٹی کمشنر/ڈسٹرکٹ کلیکٹر
اگر مقررہ مدت میں سروس نہ ملے تو شہری اپنے حق کے لیے پہلے متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی اور ضرورت پڑنے پر کے پی آر ٹی ایس کمیشن سے رجوع کرسکتا ہے۔
