Skip to content

خیبر پختونخوا میں ڈومیسائل کیسے بنوائیں؟ مکمل طریقہ، ضروری دستاویزات اور تاخیر کی صورت میں شکایت کا طریقہ

شیئر

شیئر

ڈومیسائل کسی بھی شخص کی مستقل رہائش یا کسی مخصوص علاقے سے وابستگی ثابت کرنے والی اہم دستاویز ہے۔ خیبر پختونخوا میں تعلیمی داخلے، سرکاری ملازمتوں اور مختلف سرکاری معاملات میں اکثر ڈومیسائل کی ضرورت پڑتی ہے۔

لیکن ڈومیسائل بنوانے کے لیے کہاں درخواست دینی ہے، کون سے کاغذات درکار ہیں اور اگر متعلقہ دفتر مقررہ وقت میں ڈومیسائل جاری نہ کرے تو شہری کیا کرسکتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب جاننا ہر شہری کے لیے ضروری ہے۔

ڈومیسائل کے لیے درخواست کیسے دی جائے؟

خیبر پختونخوا حکومت نے شہریوں کے لیے ڈومیسائل کے عمل کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے ای ڈومیسائل کی سہولت بھی فراہم کی ہے۔ کے پی سٹیزن پورٹل میں ’’ای سٹیزن‘‘ کے ذریعے ڈومیسائل کے لیے درخواست دینے اور درخواست کی صورتحال معلوم کرنے کی سہولت موجود ہے۔

دستیاب سرکاری طریقہ کار کے مطابق شہری متعلقہ ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے ذریعے بھی ڈومیسائل کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ روایتی طریقہ کار میں درخواست متعلقہ دفتر میں جمع ہوتی ہے، جہاں دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد متعلقہ حکام سے تصدیق کا عمل مکمل کیا جاتا ہے۔

ڈومیسائل کے لیے کون سی دستاویزات درکار ہیں؟

خیبر پختونخوا رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کے مطابق ڈومیسائل کے لیے عام طور پر درج ذیل دستاویزات درکار ہوتی ہیں:

  • مقررہ درخواست فارم، دستخط اور تصدیق شدہ
  • حلف نامہ
  • ادا شدہ چالان کی کاپی
  • پاسپورٹ سائز کی دو تصاویر
  • میٹرک سرٹیفکیٹ کی کاپی
  • شناختی کارڈ کی تصدیق شدہ کاپی
  • والدین کے شناختی کارڈ کی نقول
  • 18 سال سے کم عمر درخواست گزار کے لیے فارم ب
  • ناخواندہ درخواست گزار کی صورت میں تصدیق شدہ پیدائشی سرٹیفکیٹ

سرکاری RTS معلومات کے مطابق چالان فیس اور دیگر دستاویزات مقررہ طریقہ کار کے مطابق جمع کرانے ہوتے ہیں۔

ڈومیسائل بننے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق متعلقہ دفتر میں درخواست اور ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد ڈومیسائل سرٹیفکیٹ 5 سے 7 ورکنگ ڈیز میں حاصل کیا جاسکتا ہے۔

یہی وہ مقررہ مدت ہے جسے شہری کو ذہن میں رکھنا چاہیے، کیونکہ ڈومیسائل ایک نوٹیفائیڈ پبلک سروس ہے اور اس کے لیے وقت کی پابندی کے حوالے سے شہری کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔

اگر 7 دن گزر جائیں اور ڈومیسائل نہ ملے تو کیا کریں؟

یہاں کے پی آر ٹی ایس ایکٹ شہری کو اہم حق دیتا ہے۔

اگر شہری نے مکمل درخواست جمع کرائی ہے لیکن مقررہ مدت گزرنے کے باوجود ڈومیسائل جاری نہیں کیا گیا تو شہری صرف دفتر کے چکر لگانے کا پابند نہیں۔ کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز ایکٹ کے تحت مقررہ مدت میں سروس فراہم نہ ہونے کی صورت میں اپیل کا حق موجود ہے۔ قانون کے مطابق اگر درخواست مسترد کردی جائے، مقررہ وقت میں سروس نہ ملے یا فراہم کی گئی سروس میں کمی ہو تو شہری 30 دن کے اندر اپیلیٹ اتھارٹی سے اپیل کرسکتا ہے۔

یعنی اگر مقررہ مدت ختم ہوگئی ہے تو شہری کو اپنی درخواست، رسید اور دیگر متعلقہ دستاویزات کے ساتھ پہلے متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی سے رجوع کرنا چاہیے۔

اپیل کے بعد بھی مسئلہ حل نہ ہو تو؟

اگر اپیل کے باوجود مسئلہ حل نہ ہو یا شہری کو اس کی جائز سروس نہ ملے تو وہ رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن خیبر پختونخوا سے شکایت کرسکتا ہے۔

کمیشن کی ویب سائٹ پر آن لائن شکایت اور اپیل کی سہولت موجود ہے۔ آن لائن فارم میں شہری سے نام، رابطہ نمبر، شناختی کارڈ، ضلع، متعلقہ محکمہ، نوٹیفائیڈ سروس، پہلی اپیل کی تاریخ، پہلی اپیل کی کاپی اور دیگر متعلقہ دستاویزات طلب کی جاتی ہیں۔

اس لیے شہری کے لیے بہتر ہے کہ ڈومیسائل کی درخواست جمع کراتے وقت رسید، درخواست نمبر، چالان اور دیگر دستاویزات محفوظ رکھے تاکہ مقررہ مدت میں سروس نہ ملنے کی صورت میں شکایت یا اپیل کرتے وقت ثبوت موجود ہو۔

کہاں رابطہ کریں؟

رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن خیبر پختونخوا سے رابطے کے لیے:

فون: 091-9216375
ای میل: pschief.rts@kp.gov.pk

کمیشن کا دفتر 12/A، چنار روڈ، یونیورسٹی ٹاؤن، پشاور میں واقع ہے۔

شہری آن لائن شکایت بھی درج کرسکتے ہیں اور بعد میں اپنی شکایت کی صورتحال بھی معلوم کرسکتے ہیں۔

شہریوں کے لیے اہم بات

ڈومیسائل بنوانا صرف ایک سرکاری کاغذ حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک نوٹیفائیڈ پبلک سروس ہے۔ اس لیے شہری کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی درخواست کب جمع ہوئی، سروس کے لیے مقررہ وقت کیا ہے اور تاخیر کی صورت میں اسے کہاں رجوع کرنا ہے۔

اگر متعلقہ محکمہ مقررہ مدت میں ڈومیسائل جاری نہیں کرتا تو شہری کو خاموشی سے انتظار کرنے کے بجائے پہلے قانونی طور پر دستیاب اپیل کے حق کو استعمال کرنا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر کے پی آر ٹی ایس کمیشن سے رجوع کرنا چاہیے۔

آخرکار اس قانون کا مقصد یہی ہے کہ شہری کو سرکاری سروس کے حصول کے لیے غیر ضروری تاخیر، ٹال مٹول اور دفتری چکروں کا سامنا نہ کرنا پڑے بلکہ اسے اس کا جائز حق مقررہ وقت اور شفاف طریقے سے ملے۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں