اپریل 2025 سے مارچ 2026 کے دوران پاکستان میں دو صحافی پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کےدوران مارے گئے،جبکہ 16 صحافیوں پر حملے کئے گئے،
11صحافیوں اور دیگر میڈیا پروفیشنلز کو مختلف قسم کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 58 صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کوقانونی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا،
پنجاب اور خیبر پختونخوا صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک علاقے قرار، 60 فیصد سے زائد خلاف ورزیوں میں ریاستی ادارے ملوث پائے گئے،رپورٹ
پاکستان میں صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کےلئے کام کرنےوالی عالمی ایوارڈ یافتہ تنظیم’’ فریڈم نیٹ ورک‘‘ نے اپنی سالانہ’’ فریڈم آف ایکسپریشن اینڈ میڈیا فریڈم‘‘ رپورٹ2026ء پیش کردی ،
اسلام آباد( پ ر ) پاکستان بھر میں ایک سال کے دوران صحافیوں اور دیگر میڈیا پروفیشنلز کے خلاف تشدد کے 129 واقعات ریکارڈ کیے گئے،جن میں ان میں دو قتل، پانچ قتل کی دھمکیاں، 58 قانونی مقدمات (زیادہ تر پیکا ایکٹ کے تحت درج کئےگئے)، 16 حملے، 11 سنگین دھمکیاں اور دو اغوا و جبری گمشدگی کے واقعات شامل ہیں۔اس بات کا انکشاف پاکستان میں صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کےلئے کام کرنےوالی عالمی ایوارڈ یافتہ تنظیم’’ فریڈم نیٹ ورک‘‘ کی جانب سے جاری ہونےوالے سالانہ روپورٹ برائے 2026میں کیاگیا ہے، اظہارِ رائے کی آزادی پر ضابطہ جاتی جبروقانونی کنٹرول اور پیکا قوانین کے ذریعے میڈیا و صحافت پر قدغن” کے عنوان سے جاری رپورٹ کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک علاقے قرار دیے گئے، جبکہ سندھ اور بلوچستان میں قتل کے واقعات نے صحافیوں کو درپیش خطرات کو مذید سنگین بنادیا ہے، رپورٹ کے مطابق 60 فیصد سے زائد خلاف ورزیوں میں ریاستی ادارے ملوث پائے گئے، جبکہ شدت پسند گروہوں اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس نے بھی صحافیوں پر حملوں اور دھمکیوں میں اہم کردار ادا کیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز قوانین (پیکا) میں کی گئی ترامیم کو صحافیوں اور اظہار رائے کو دبانے کے لیے سب سے مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔جس کی وجہ سے پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران میڈیا اور آزادیٔ اظہار کو درپیش مسائل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ فریڈم نیٹ ورک کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ کے مطابق قانونی، ضابطہ جاتی، معاشی اور دیگر دباؤ کے باعث اظہارِ رائے کی آزادی کا دائرہ تیزی سے محدود ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق 2016 میں سائبر جرائم کے سدباب کے لیے متعارف کرایا گیا یہ قانون، 2025 کی سخت ترامیم کے بعد -26 2025 کے دوران اظہارِ رائے کو جرم میں تبدیل کرنے، اختلاف رائے کی آوازوں کو نشانہ بنانے، صحافیوں، وکلا اور سیاسی مبصرین کو خوفزدہ کرنے کے لیے استعمال کیاجارہا ہے،عالمی یومِ آزادیٔ صحافت (3 مئی) کے موقع پر جاری رپورٹ میں ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک کا کہنا تھا کہ “پیکا قوانین کو کے اسلحہ کے طور پر استعمال نے خوف کا ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جس میں صحافی قانونی کارروائی کے خوف سے خود سنسرشپ پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔”رپورٹ میں انسانی حقوق کے وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف سزاؤں کو بطور مثال پیش کیا گیا ہے، جن کے ذریعے اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے علاوہ درجنوں صحافیوں کے خلاف پیکا قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے، جبکہ ہتکِ عزت کے کیسز، نشریاتی پابندیاں اور انٹرنیٹ بندشیں بھی آزاد صحافت کی راہ میں رکاوٹ بنیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ معلومات تک رسائی کے قوانین موجود ہیں، تاہم ان پر عملدرآمد غیر مؤثر ہے، خاص طور پر وفاقی ادارے معلومات فراہم کرنے سے گریزاں رہتے ہیں، جس سے شفافیت اور احتساب کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق مئی 2025 میں پاک بھارت مختصر جنگ کے دوران جعلی تصاویر اور پرانی ویڈیوز کے پھیلاؤ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا، جس سے عوامی رائے متاثر ہوئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارچ 2026 میں اسلام آباد میں عورت مارچ کی کوریج کرنے والی تین خواتین صحافیوں کی گرفتاری نے صنفی بنیادوں پر درپیش خطرات کو نمایاں کیا۔ خواتین صحافیوں کو ہراسانی، آن لائن بدسلوکی اور امتیازی سلوک کا بھی سامنا ہے، جبکہ ڈیپ فیک جیسے نئے خطرات بھی سامنے آئے ہیں۔رپورٹ میں صحافیوں اور میڈپروفیشنلز کے معاشی دباؤ کو بھی اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے، جس میں تنخواہوں میں تاخیر، ملازمت کا عدم تحفظ اور سرکاری اشتہارات پر انحصار شامل ہے، جس سے ادارتی شعبے اور آزادی کو متاثر ہوتاہے،رپورٹ میڈیا میں قیادت کے اقدامات اور امبرین جان کی بطور چیئرپرسن پیمرا تقرری کو خوش آئند، تاہم مجموعی طور پر صورتحال تشویشناک قرار دی گئی،رپورٹ میں پیکا کی متنازع شقوں پر نظرثانی، صحافیوں کے تحفظ کے قوانین پر مؤثر عملدرآمد، معلومات تک رسائی کے نظام کو مضبوط بنانے اور ابھرتی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیاگیا،رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان کا میڈیا جبر، سنسرشپ اور معاشی کمزوری کے دائرے میں پھنسا رہے گا، جس کے جمہوری احتساب اور آزادیٔ اظہار پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
