تحریر: شاہ زمان حنیف
پشاور میں منعقد ہ “ینگ سٹوڈنٹس پروگرام” نے صوبے کی سیاسی فضا میں ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ تقریب کے دوران ، فاطمہ، نامی طالبہ نے پروگرام کے چیف گسٹ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے حکومت کی کارکردگی پر سوال کیا۔ بظاہر ، ایک باشعور شہری کا اپنے حکمران سے جواب طلبی ، ایک سادہ اورجمہوری عمل تھا، اگر اس سوال کا جواب خوشدلی سے دے دیا جاتا تو یہ مسئلہ طوالت اختیار نہ کرتا۔ جب وزیر اعلیٰ نے جواب میں طالبہ کو مخالف سیاسی جماعت سے جوڑتے ہوئے ،ساتھ یہ پھیل جڑی بھی جھڑ دی کہ ،یہ جو وہ سوال کر رہی ہے اس کا شعور بھی پی ٹی آئی کا ہی عطا کر دہ ہے ۔ بعد ازاں فاطمہ نے مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر وضاحت کی کہ ان کے خاندان کی سیاسی وابستگی خود تحریکِ انصاف سے رہی ہے اور ان کا سوال کسی سیاسی ایجنڈے کے تحت نہیں بلکہ ، پی ٹی آئی کے تبدیلی کے بیانیے سے بنی امید کے ٹوٹنے، اور جن حکمرانوں کے بارے میں انہیں کرپٹ اور نااہل ہونے کا سبق پڑھایا گیا تھا ،ان کی بہترکارکردگی کی بنا پر تھا۔طالبہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس پارٹی کے لیڈر نے انہیں ریاست مدینہ کے خواب دکھائے تھے،اسی پارٹی کےوزیراعلیٰ کی طرف سے سوال کرنے پر ناقابل فہم ردعمل اور اس کے سوشل میڈیا بریگیڈ کی طرف سے اپنی ہی بہن بیٹی کے خلاف کردار کشی پر افسوس ہوا۔
یہ واقعہ محض ایک مکالمہ نہیں بلکہ ہمارے سیاسی کلچر کے بدلتے ہوئے مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ شعور کس نے دیا، بلکہ یہ ہے کہ کیا سوال سننے کا حوصلہ بھی پیدا ہوا ہے؟2013 سے پہلے پاکستان کی سیاست پر دو بڑی جماعتوں کا غلبہ تھا، جن پر بدعنوانی، اقرباء پروری اور ادارہ جاتی کمزوریوں کے الزامات عام تھے۔ عوام کی ایک بڑی تعداد، خاص طور پر نوجوان طبقہ، اس سیاسی جمود سے نالاں دکھائی دیتا تھا۔ ایسے ماحول میں عمران خان اور تحریکِ انصاف کا کرپشن کے خلاف بیانیہ ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند محسوس ہوا۔ “تبدیلی” کا نعرہ محض ایک سیاسی وعدہ نہیں بلکہ امید کی علامت بن گیا۔ متوسط طبقے، طلبہ اور بیرونِ ملک پاکستانیوں نے اس بیانیے کو بھرپور حمایت دی کیونکہ وہ اسے ایک نئے سماجی معاہدے کی ابتدا سمجھتے تھے۔مگر اقتدار کا امتحان ہمیشہ نعروں سے زیادہ کڑا ہوتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں تحریکِ انصاف کو طویل حکمرانی کا موقع ملا، جس سے توقع تھی کہ وہ اپنے دعووں کو عملی شکل دے گی۔ ابتدا میں پولیس اصلاحات، کچھ انتظامی تبدیلیاں اور شفافیت کے دعوے مثبت اشاروں کے طور پر پیش کیے گئے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ سوالات بھی ابھرنے لگے کہ کیا “تبدیلی” کا تصور ادارہ جاتی سطح پر جڑ پکڑ سکا یا نہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس دوران ایک اہم تبدیلی سیاسی ابلاغ کے انداز میں بھی آئی۔ سوشل میڈیا کو غیر معمولی اہمیت دی گئی اور اسے عوامی رابطے کا مؤثر ذریعہ بنایا گیا۔ یہ حکمتِ عملی جدید سیاست کا حصہ ضرور ہے، مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات یہی پلیٹ فارم اختلافی آوازوں کے لیے سخت اور غیر روادار ماحول پیدا کرتا ہے۔ جب کارکردگی پر سوال اٹھانا وفاداری کے پیمانے سے جوڑ دیا جائے تو مکالمہ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔بیرونِ ملک پاکستانیوں کی حمایت بھی اس بیانیے کا ایک اہم ستون رہی۔ ان میں سے بہت سے افراد نے پاکستان میں شفاف حکمرانی کی امید پر سیاسی اور مالی حمایت فراہم کی۔ تاہم ناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا زمینی حقائق اور عوامی مسائل کی مکمل تصویر ہمیشہ ان تک پہنچ سکی؟ اس سوال کا جواب شاید یک طرفہ نہیں، مگر یہ بحث اپنی جگہ اہم ہے۔
جہاں تک کارکردگی کا تعلق ہے، صوبے میں چند بڑے منصوبے اور پروگرام زیرِ بحث رہے،جن میں شہری ٹرانسپورٹ، سیاحت، شجرکاری اور ترقیاتی اقدامات شامل ہیں۔ دوسری طرف مختلف منصوبوں پر بے ضابطگیوں اور تحقیقات کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ الزامات اور ان کا قانونی انجام دو الگ مراحل ہوتے ہیں، اور کسی بھی جمہوری معاشرے میں حتمی فیصلہ اداروں کو کرنا ہوتا ہے۔ تاہم یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ ہر سوال محض سیاسی مخالفت کا نتیجہ ہوتا ہے۔فاطمہ کے سوال نے دراصل اسی حساس نقطے کو چھوا ہے: کیا ایک جماعت جو خود احتساب کا علمبردار رہی ہو، وہ تنقید کو بھی اسی کشادہ دلی سے قبول کر سکتی ہے؟ کیونکہ باشعور معاشروں میں سیاسی وابستگی سے زیادہ اہمیت شفافیت کو دی جاتی ہے۔
ایک اور پہلو نوجوانوں کے سیاسی رویے کا ہے۔ یہ نسل پہلے کے مقابلے میں زیادہ باخبر اور جذباتی دکھائی دیتی ہے۔ سوشل میڈیا نے انہیں اظہار کا فوری ذریعہ دیا ہے، مگر اس کے ساتھ برداشت اور مکالمے کی روایت کو مضبوط کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر سیاسی اختلاف ذاتی دشمنی میں بدلنے لگے تو معاشرتی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔آج تیرہ برس بعد خیبرپختونخوا کی صورتحال پر مختلف آرا موجود ہیں۔ حامی اسے تسلسل اور استحکام کی مثال قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ عوامی توقعات کے مطابق نتائج سامنے نہیں آ سکے۔ حقیقت شاید ان دونوں بیانیوں کے درمیان کہیں موجود ہے، جسے جانچنے کے لیے جذبات سے زیادہ اعدادوشمار اور ادارہ جاتی کارکردگی کو دیکھنا ہوگا۔اہم سوال مستقبل کا ہے۔ اگر کل صوبے میں سیاسی تبدیلی آتی ہے تو کیا ،کرپشن کے جو میگا سکینڈلز کی بند فائلیں نہیں کھلیں گیں، اگر وہ سارے راز تشت از بام ہوگئے جو اس وقت برسراقتدار ہونے کی وجہ سے مدفون ہیں تو پھر تبدیلی کے بیانیے کا کیا حشرہوگا؟ پاکستان کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ حقیقی بہتری صرف اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب ادارے مضبوط ہوں اور احتساب بلاامتیاز ہو۔ ورنہ ہر نئی حکومت سر پر اپنی کارکردگی کا بوجھ اُٹھائے پرانے سوالات کا سامنا کرتی نظرآتی ہے۔
پشاور کی طالبہ کا سوال ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سیاسی شعور کا دعویٰ کرنے سے زیادہ ضروری اس شعور کو برداشت کرنا ہے۔ اگر نوجوان سوال کر رہے ہیں تو یہ خطرہ نہیں بلکہ جمہوری بلوغت کی علامت ہے۔ حکمرانوں کے لیے بھی یہی موقع ہے کہ وہ تنقید کو دشمنی نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ سمجھیں۔شاید اب ہماری سیاست کو ایک نئے بیانیے کی ضرورت ہے،ایسا بیانیہ جو وفاداری کے بجائے کارکردگی کو معیار بنائے، اور جو نوجوانوں کو محض نعرے نہیں بلکہ ایک محفوظ اور باوقار مستقبل دے سکے۔ کیونکہ آخرکار قوموں کا مستقبل جذبات سے نہیں بلکہ دیانت دار حکمرانی اور باشعور شہریوں کے اشتراک سے بنتا ہے۔
