Skip to content

صحافی دوستوں کے ہمراہ ایک یادگار نشست

شیئر

شیئر

لقمان ھزاروی

بروز جمعرات مانسہرہ میں ہزارہ ایکسپریس نیوز کے دفتر میں معروف صحافی شیر افضل گوجر اور تجزیہ نگار رضا خان تنولی صاحب کے ساتھ ایک سنجیدہ اور مفید نشست منعقد ہوئی۔ ہماری یہ نشست قومی،سیاسی، سماجی اور بین الاقوامی معاملات پر مدلل اور بصیرت افروز تبادلہ خیال کا ذریعہ بنی۔
ہماری گفتگو کا ایک اہم پہلو پاکستان میں زیر بحث اٹھارہ سال سے کم عمر بچیوں کی شادی کا مسئلہ تھا۔ رضا خان تنولی اور شیر افضل گوجر دونوں نے اس موضوع پر سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ اظہار خیال کیا۔ ان کا مشترکہ مؤقف تھا کہ شادی محض ایک عمر کا ہندسہ نہیں بلکہ فکری پختگی، ذہنی بلوغت اور عملی زندگی کو سمجھنے کی صلاحیت سے جڑی ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک عام طور پر یہ صلاحیت 18 سے 20 سال کے بعد ہی پوری طرح پروان چڑھتی ہے، اور اس سے پہلے کی جانے والی شادیاں اکثر سماجی اور خاندانی سطح پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ان کی گفتگو ان کے تجربے اور مشاہدے کی روشنی میں تھی۔ کچھ واقعات بھی انہوں نے اس بابت ذکر کیے۔

ملکی سیاست کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان صاحب کی موجودہ سیاسی حالات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ رضا خان تنولی کا کہنا تھا مولانا فضل الرحمان ان چند گنے چنے سیاست دانوں میں شامل ہیں جن کی بات کو سنجیدگی سے سنا جاتا ہے اور ان پر مختلف سیاسی حلقوں میں اعتماد کیا جاتا ہے۔ ان کا کردار ہمیشہ قومی سیاست میں وزن رکھتا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں مولانا صاحب کے لہجے میں تلخی اور جذباتی رنگ ان کی سیاسی حکمت عملی اور مجموعی تاثر کو کسی حد تک متاثر کر رہا ہے اور ہم جیسے سیاست کے طلبہ کے لیے یہ پہلو بہت تکلیف دہ ہے۔ مولانا صاحب کو اپنی پرانی طرز سیاست ہی سوٹ کرتی ہے اور اسی رنگ میں وہ بھلے لگتے ہیں۔ یہ فرسٹریشن کسی صورت مولانا صاحب کو نہیں ججتی۔

بین الاقوامی سیاست بھی نشست کا ایک اہم موضوع رہی۔ بدلتے عالمی حالات، خطے کی سیاسی کشمکش، عالمی طاقتوں کے مفادات اور ان کے اثرات پر مدلل گفتگو ہوئی۔ اس بحث میں نہ صرف موجودہ عالمی منظرنامے کو سمجھنے کی کوشش کی گئی بلکہ آنے والے دنوں کے ممکنہ خد و خال پر بھی بات چیت ہوئی۔اس دوران شیر افضل گوجر کی جانب سے دیسی ساگ، مکئی کی روٹی اور لسی سے تواضع کی گئی۔ یہ سادہ مگر ذائقے اور محبت سے بھرپور تواضع نہ صرف دیسی ثقافت کی خوبصورت جھلک تھی بلکہ میزبان کے خلوص، مہمان نوازی اور اپنائیت کی بھی بھرپور عکاسی کرتی تھی۔

رضا خان تنولی صاحب سے یہ میری پہلی ملاقات تھی، مگر اس مختصر نشست میں ان کی شخصیت کے کئی مثبت پہلو نمایاں ہوئے۔ ان کی گفتگو میں وسعت نظر، فکری پختگی اور مثبت سوچ کی جھلک صاف دکھائی دی۔ ان کا اندازِ بیان نہ صرف شائستہ تھا بلکہ دلیل، برداشت اور فہم و فراست سے بھرپور بھی تھا، جو ایک سنجیدہ دانشور اور بالغ نظر تجزیہ نگار کی پہچان ہے۔ ان کے خیالات سن کر یہ احساس ہوا کہ اختلاف رائے کے باوجود بھی بات کو مثبت، تعمیری اور باوقار انداز میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ ایسی نشستیں نہ صرف ذہن کو وسعت دیتی ہیں بلکہ دل میں یہ خواہش بھی جگا دیتی ہیں کہ مستقبل میں بھی اس طرح کی فکری محفلیں بار بار منعقد ہوں، تاکہ سوچ کا سفر رکا نہ رہے اور مکالمے کا چراغ روشن رہے۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں