Skip to content

عثمانی سلطنت کے زوال سے امتِ مسلمہ کا شیرازہ کیسے بکھرا؟

شیئر

شیئر

تحریر : شاہ زمان حنیف

جب سلطنتِ عثمانیہ کا چراغ گل ہوا تو یہ محض ایک سیاسی اقتدار کا خاتمہ نہیں تھا بلکہ عالمِ اسلام کے اجتماعی نظم، وحدتِ فکر اور عالمی وقار کو شدید دھچکا لگا۔ خلافت کے زوال کے ساتھ ہی وہ مرکز بھی اوجل ہو گیا جو صدیوں تک مسلم دنیا کو ایک نظریاتی، سیاسی اور اخلاقی رشتے میں بندھن کا باعث تھا۔ اس خلا کو مؤثر انداز سےپُر کرنے کے بجائے عالمِ اسلام باہمی انتشار، بیرونی مداخلت اور فکری الجھنوں کا شکار ہوتا چلا گیا، جس کے اثرات آج بھی سائہ فگن ہیں۔سلطنتِ عثمانیہ کے آخری دور میں داخلی کمزوریاں یقیناً موجود تھیں۔ بدعنوانی، انتظامی نااہلی، جدید علوم و ٹیکنالوجی سے دوری اور سیاسی جمود نے ریاست کو کھوکھلا کر دیا تھا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ نقصان دہ وہ بیرونی طاقتیں ثابت ہوئیں جنہوں نے ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر مسلم دنیا کو آپس میں لڑانے کی منظم حکمتِ عملی اختیار کی۔ کرنل ٹی۔ای۔ لارنس کا کردار اسی سلسلے کی ایک علامت ہے، جس نے عرب قوم پرستی کے جذبات کو خلافت کے خلاف استعمال کیا۔ عربوں کو آزادی اور خودمختاری کے خواب دکھا کر عثمانیوں کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا گیا، مگر جنگ کے بعد وہی عرب دنیا برطانوی اور فرانسیسی تسلط میں چلی گئی۔سلطنتِ عثمانیہ کے بعد سائیکس پیکو معاہدے کے تحت مسلم علاقوں کی جو بندر بانٹ کی گئی، اس نے مشرقِ وسطیٰ میں ایسی مصنوعی ریاستیں جنم دیں جن کی بنیاد نہ تاریخ پر تھی نہ عوامی خواہش پر۔ سرحدیں حکمرانوں کی میز پر لکیروں سے کھینچی گئیں، قبائل، مسالک اور ثقافتوں کو زبردستی ایک ریاست میں جوڑ دیا گیا یا تقسیم کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج عراق، شام، لیبیا، یمن اور فلسطین جیسے خطے مسلسل عدم استحکام، خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کا شکار ہیں، اور دوسری عرب حکومتیں بھی کسی حد تک غلامی کے حسار میں پل بڑھ رہی ہیں۔
عالمِ اسلام کو درپیش مسائل کا ایک بڑا سبب یہی تاریخی ناانصافی ہے، مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے اپنی غلطیوں سے بھی بہت کم سیکھا۔ خلافت کے بعد مسلم دنیا قومی ریاستوں میں تو تقسیم ہو گئی، مگر حقیقی خودمختاری حاصل نہ کر سکی۔ سیاسی قیادت اکثر مغربی طاقتوں کی مرہونِ منت رہی، معیشت قرضوں کے بوجھ تلے دبتی چلی گئی اور تعلیمی نظام فکری خود اعتمادی پیدا کرنے کے بجائے نقالی تک محدود رہا۔آج عالمِ اسلام کو سب سے بڑا مسئلہ وحدت کا فقدان ہے۔ فرقہ واریت، لسانی تعصب اور قومی مفادات نے امت کے اجتماعی تصور کو کمزور کر دیا ہے۔ ایک مسلم ملک پر ظلم ہوتا ہے تو دوسرا خاموش تماشائی بنا رہتا ہے، بلکہ بعض اوقات ظالم کا ساتھ دیتا نظر آتا ہے۔ فلسطین اس کی سب سے واضح مثال ہے، جہاں دہائیوں سے جاری ظلم کے باوجود مسلم دنیا متحد اور مؤثر آواز بلند کرنے میں ناکام رہی ہے۔دوسرا بڑا مسئلہ فکری زوال ہے۔ ہم یا تو ماضی کی عظمت میں کھو کر حال سے نظریں چرا لیتے ہیں، یا مغرب کی اندھی تقلید کو ہی ترقی کا واحد راستہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ دونوں رویے ہمیں آگے بڑھنے نہیں دیتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی دینی و تہذیبی بنیادوں پر کھڑے ہو کر جدید دنیا کے تقاضوں کو سمجھیں، علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کریں اور سوال کرنے، سوچنے اور اختلاف کرنے کی صحت مند روایت کو فروغ دیں۔سیاسی طور پر عالمِ اسلام آمریت اور کمزور جمہوریت کے درمیان جھولتا رہا ہے۔ عوام کو فیصلہ سازی میں شامل نہ کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ریاستیں عوام کے بجائے چند طاقتور طبقات کے مفادات کا تحفظ کرتی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بیرونی طاقتیں مداخلت کرتی ہیں تو اندر سے مضبوط مزاحمت پیدا نہیں ہو پاتی۔ مضبوط ریاستیں مضبوط اداروں سے بنتی ہیں، اور مضبوط ادارے شفافیت، احتساب اور قانون کی بالادستی سے جنم لیتے ہیں۔
معاشی مسائل بھی عالمِ اسلام کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود بیشتر مسلم ممالک غربت، بے روزگاری اور معاشی عدم مساوات کا شکار ہیں۔ تیل کی دولت ہو یا دیگر وسائل، ان کا فائدہ عوام تک کم اور اشرافیہ تک زیادہ پہنچتا ہے۔ نتیجتاً نوجوان مایوسی، انتہاپسندی یا ہجرت کی راہ اختیار کرتے ہیں، جو کسی بھی معاشرے کے لیے خطرناک علامت ہے۔اگر سلطنتِ عثمانیہ کے زوال اور اس کے بعد ہونے والی تقسیم سے کوئی سبق لیا جا سکتا ہے تو وہ یہی ہے کہ بیرونی طاقتیں ہمیشہ اپنے مفاد کو ترجیح دیتی ہیں، نعروں اور وعدوں پر بھروسہ کرنے والی قومیں آخرکار نقصان اٹھاتی ہیں۔ عالمِ اسلام کو اب جذباتی نعروں سے نکل کر حقیقت پسندانہ اور مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ہو گی۔ باہمی اختلافات کو کم کر کے مشترکہ مفادات پر اتفاق، تعلیم و تحقیق میں سرمایہ کاری، اور عوام کو بااختیار بنانا ہی وہ راستہ ہے جو اس زوال پذیر صورتحال کو بدل سکتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان علم، عدل اور وحدت کے اصولوں پر کاربند رہے تو دنیا کی رہنمائی کی، اور جب ان اصولوں سے دور ہوئے تو دوسروں کی غلامی مقدر بنی۔ آج بھی انتخاب ہمارے ہاتھ میں ہے: یا تو ہم ماضی کے زخموں کو چاٹتے رہیں، یا ان سے سبق سیکھ کر ایک باوقار، خودمختار اور متحد مستقبل کی بنیاد رکھیں۔ جاری ہے

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں